جرمنی میں جمہوریت کی حفاظتی دیوار کمزور، کیا فریڈرک مرز نے ’جمہوریت کا آخری موقع‘ بھی ضائع کر دیا؟

جرمنی میں جمہوریت کی حفاظتی دیوار کمزور، کیا فریڈرک مرز نے ’جمہوریت کا آخری موقع‘ بھی ضائع کر دیا؟

جرمنی کی ریاست سیکسنی انہالٹ میں گزشتہ ہفتے انتہائی دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹیو فار جرمنی، اے ایف ڈی کی تقریباً 44 فیصد ووٹوں کے ساتھ کامیابی نے ملک کے سیاسی نظام میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے،جرمن سیاسی حلقوں میں اس نتیجے کو تباہ کن زلزلے، پانچ الارم والی آگ اور جرمنی کی جنگ کے بعد قائم جمہوری نظام کے لیے خطرے سے تعبیر کیا جا رہا ہے
اے ایف ڈی نے تقریباً 44 فیصد ووٹ حاصل کیے اور ریاستی پارلیمنٹ میں مطلق اکثریت سے صرف 3 نشستیں کم رہ گئی،جماعت کے مقبول امیدوار اولریش زیگمنڈ اب دوسری جماعتوں سے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،اگر وہ کامیاب ہوگئے تو نازی دور کے بعد پہلی مرتبہ جرمنی کی کسی ریاست میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت کی حکومت قائم ہو سکتی ہے
ابھی یہ واضح نہیں کہ زیگمنڈ دوسری جماعتوں کی حمایت حاصل کر پائیں گے یا نہیں، لیکن اس صورتحال نے یورپ کی سب سے بڑی معاشی طاقت کے مرکز میں سیاسی بے یقینی پیدا کر دی ہے،اس کے ساتھ فریڈرک مرز کی مرکزی دائیں بازو کی حکومت کا مستقبل بھی سوالات کی زد میں آگیا ہے،مرز کی حکومت کو کبھی جرمنی میں انتہا پسندوں کو اقتدار تک پہنچنے سے روکنے کے لیے ’’جمہوریت کا آخری موقع‘‘ قرار دیا گیا تھا
سیکسنی انہالٹ کے نتائج نے مرز کی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین، سی ڈی یو کو بھی شدید دھچکا پہنچایا ہے،رواں ماہ کے آخر میں مزید 2 ریاستوں میں انتخابات ہونے ہیں اور خدشہ ہے کہ وہاں بھی سی ڈی یو کو نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے
مرز کے ناقدین کا کہنا ہے کہ 70 سالہ سابق بلیک راک عہدیدار ایسے وقت میں ملک کی قیادت کے لیے موزوں نہیں جب جرمنی انتہائی اہم سیاسی موڑ پر کھڑا ہے،ان کے ناقدین انہیں سخت گیر، عوامی جذبات کو سمجھنے میں کمزور اور اپنے سیاسی پیغام میں غیر مستقل قرار دیتے ہیں
مرز کو اقتدار سنبھالے صرف 16 ماہ ہوئے ہیں،گوئٹے یونیورسٹی فرینکفرٹ کے سیاسیات کے ماہر تھامس بیبریشر کے مطابق چانسلر کی ایک بنیادی سیاسی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ عوام کو سمجھائیں کہ آج کی مشکل قربانیاں مستقبل میں بہتر حالات پیدا کر سکتی ہیں، لیکن مرز اس کام میں مؤثر ثابت نہیں ہوئے
بیبریشر کے مطابق عوام کے درمیان یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ مرز حکومت کی مجوزہ اصلاحات، خصوصاً سرکاری پنشن اور صحت کے نظام میں متوقع کٹوتیوں اور ان کے لیے درکار قربانیوں کی مناسب وضاحت نہیں کر سکے، اس لیے وہ عوامی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں
سابق چانسلر انگیلا مرکل نے بھی مرز کی امیگریشن اور انضمام سے متعلق سخت زبان پر تنقید کی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ انہیں موجودہ صورتحال پر کوئی خوشی نہیں کیونکہ معاملہ جرمنی کے لیے بہت اہم ہے
مرکل نے اسے وفاقی جمہوریہ جرمنی کی تاریخ میں ’’ایک حقیقی موڑ‘‘ قرار دیا،انہوں نے کہا کہ سی ڈی یو کی رکن ہونے کی حیثیت سے اس شکست نے ان کا دل توڑ دیا ہے
مرکل نے مرز کو مشورہ دیا کہ بدلتے ہوئے سیاسی ماحول میں اپنے سیاسی پیغام پر دوبارہ غور کریں، جہاں حقائق کے مقابلے میں عوامی جذبات زیادہ اہم کردار ادا کر رہے ہیں،انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ سیکسنی انہالٹ کی انتخابی مہم میں سی ڈی یو نے اعداد و شمار پیش کیے کہ بے روزگاری کم ہوئی اور گھرانوں کی دولت میں اضافہ ہوا، لیکن اے ایف ڈی امیدوار زیگمنڈ کا جواب تھا کہ ’’ہو سکتا ہے ایسا ہو، مگر لوگوں کو ایسا محسوس نہیں ہوتا”
اے ایف ڈی 2013 میں انگیلا مرکل کے دور میں قائم ہوئی تھی،ابتدا میں یہ جماعت یورپی یونین کی مخالفت اور قرضوں میں ڈوبے یورپی ممالک کے لیے مالی امدادی پیکجوں کی مخالفت کے حوالے سے جانی جاتی تھی، لیکن 2015 اور 2016 میں پناہ گزینوں کی بڑی تعداد میں آمد کے بعد یہ تیزی سے زیادہ سخت گیر جماعت بن گئی
مرز نے گزشتہ سال اقتدار سنبھالتے وقت وعدہ کیا تھا کہ وہ اولاف شولز کی حکومت کے خاتمے کے بعد جرمنی کی معیشت کو دوبارہ ترقی کی راہ پر ڈالیں گے، دفاعی صلاحیت بحال کریں گے اور کمزور پڑتے سماجی بہبود کے نظام میں فوری اصلاحات کریں گے
انتہائی دائیں بازو کا مقابلہ کرنا بھی ان کے اہم وعدوں میں شامل تھا،ان کی حکمت عملی یہ تھی کہ حکومت بہتر انداز میں چلائی جائے اور جرمن عوام کو درپیش فوری مسائل کا عملی حل پیش کیا جائے
مرز نے امیگریشن کے معاملے میں بھی مرکل کی نسبت سخت پالیسی اختیار کرنے کا وعدہ کیا، تاکہ اے ایف ڈی سے اس کا سب سے اہم سیاسی مسئلہ چھین لیا جائے،فروری 2025 کے عام انتخابات سے کچھ عرصہ قبل انہوں نے ایک سخت امیگریشن قانون کے مسودے کی منظوری کے لیے اے ایف ڈی کی حمایت قبول کی تھی، لیکن شدید عوامی احتجاج کے بعد اس مؤقف سے پیچھے ہٹ گئے
مرز کے اقتدار میں آنے کے بعد غیر قانونی یا ’’غیر معمولی‘‘ تارکین وطن کی آمد میں نمایاں کمی آئی، لیکن اے ایف ڈی نے اپنی سیاسی مہم کا دائرہ وسیع کر لیا،اب وہ جرمنی کی صنعتوں کے کمزور ہونے، علاقائی شناخت، مہنگائی اور جرائم جیسے مسائل کو بنیاد بنا کر مشرقی جرمنی کے اپنے روایتی مضبوط علاقوں سے باہر بھی حمایت حاصل کر رہی ہے
اے ایف ڈی کو یورپ کی دوسری انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کے مقابلے میں زیادہ سخت گیر سمجھا جاتا ہے،جرمنی کی مرکزی سیاسی جماعتوں نے برسوں تک ’’فائر وال‘‘ کی حکمت عملی کے تحت اے ایف ڈی کو سیاسی طور پر الگ تھلگ رکھا اور اس کے ساتھ تعاون سے انکار کیا،تاہم اب یہ پالیسی بڑے پیمانے پر ناکام سمجھی جا رہی ہے کیونکہ اے ایف ڈی اپوزیشن میں رہتے ہوئے حکومت کی سست رفتاری اور عوام کو فوری مثبت تبدیلی نہ ملنے پر مسلسل تنقید کر رہی ہے
سیاسی ماہر بیبریشر کا کہنا ہے کہ مرز کی کمزوریوں کے باوجود صرف ان کی جگہ کسی دوسرے رہنما کو لانے سے جرمنی کے بڑے مسائل حل نہیں ہوں گے،روس کا خطرہ، خستہ حال بنیادی ڈھانچہ، آبادی میں عمر رسیدگی کے باعث سماجی بہبود کے نظام پر بڑھتا دباؤ، چین سے صنعتی مقابلہ، خصوصاً جرمنی کی اہم گاڑی سازی کی صنعت میں، اور توانائی و سپلائی چین پر جغرافیائی سیاسی بحران کے اثرات ایسے مسائل ہیں جو کسی ایک رہنما کے تبدیل ہونے سے ختم نہیں ہوں گے
مرز کی سی ڈی یو اور اس کی اتحادی جماعت سی ایس یو میں قدامت پسند اور نسبتاً معتدل دھڑے موجود ہیں، تاہم بحران کے وقت یہ اتحاد اندرونی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے جانا جاتا ہے،اس وقت صورتحال اتنی سنگین سمجھی جا رہی ہے کہ ممکنہ جانشین بھی مرز کی جگہ لینے سے گریز کر رہے ہیں
جرمنی کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے مقبول وزیر اعلیٰ ہینڈریک ووئسٹ اور باویریا کے طاقتور رہنما مارکس زوڈر دونوں اس وقت مرز کی جگہ لینے کے لیے آگے بڑھنے کے خواہش مند دکھائی نہیں دیتے
سیاسی صحافی برنڈ اولریش کے مطابق مرز ایک ایسے مرحلے پر پہنچ گئے ہیں جہاں وہ خود جس بحران کو بار بار مزید گہرا کرتے ہیں، وہی بحران فی الحال ان کی پوزیشن کو بھی مستحکم کر رہا ہے، کیونکہ سی ڈی یو اور اتحادی حکومت کی حالت اتنی خراب ہے کہ بظاہر کوئی بھی اس وقت اقتدار سنبھالنے کا خواہش مند نہیں
ووئسٹ نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں گرین پارٹی کے ساتھ مخلوط حکومت چلا رہے ہیں اور اگلے اپریل میں انہیں دوبارہ انتخاب کا سامنا ہے،اگر وہ کامیاب ہوئے تو مرز سے مستعفی ہونے اور ان کی جگہ ووئسٹ کو لانے کے مطالبات میں اضافہ ہو سکتا ہے
زوڈر، جو سی ڈی یو،سی ایس یو اتحاد کے قدامت پسند دھڑے کی نمائندگی کرتے ہیں، مرز کی طرح یہ سمجھتے ہیں کہ اے ایف ڈی سے واپس حمایت حاصل کرنے کے لیے امیگریشن کے معاملے پر سخت زبان استعمال کرنا ضروری ہے،تاہم سیاسی ماہرین ایک عرصے سے خبردار کرتے رہے ہیں کہ انتہائی دائیں بازو کی جماعت کی زبان اختیار کرنے کی یہ حکمت عملی الٹا نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے
اب جرمنی کی نظریں 20 ستمبر کو برلن اور میکلنبرگ ورپورمرن میں ہونے والے ریاستی انتخابات پر ہیں،اے ایف ڈی دونوں ریاستوں میں مضبوط پوزیشن میں ہے اور سیکسنی انہالٹ کے نتیجے کے بعد اسے مزید سیاسی رفتار حاصل ہوئی ہے،اس صورتحال سے خاص طور پر سی ڈی یو پر دباؤ بڑھ رہا ہے
اس ہفتے پارلیمنٹ میں اے ایف ڈی کے ساتھ ایک سخت بحث کے دوران مرز نے جرمنی کی جمہوریت کے لیے اس جماعت کے خطرے پر بات کی،تاہم انہوں نے اس بحران سے نکلنے کے راستے پر بھی غور کیا
مرز نے ایک مذہبی یونیورسٹی کے سربراہ کی جانب سے موصول ہونے والے خط کا حوالہ دیا جس میں انہیں یاد دلایا گیا تھا کہ جرمنی کے سامنے اب بھی بہت سے مواقع موجود ہیں اور انہیں مایوسی کا شکار نہیں ہونا چاہیے
مرز نے کہا کہ وہ اس مشورے کو سنجیدگی سے لیں گے اور چانسلر کی حیثیت سے کام جاری رکھیں گے،انہوں نے اپنے لیے ایک نیا سیاسی راستہ بیان کرتے ہوئے کہا
غلطیوں کو تسلیم کرو، معاف کرو، دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جاؤ اور مستقبل کی تشکیل کرو

قومی خبریں سے مزید