دائیں بازو کی نئی مہم، مصنوعی ذہانت کو ’الگورتھمک تارکین وطن‘ قرار دے کر مخالفت بڑھانے کی کوشش

دائیں بازو کی نئی مہم، مصنوعی ذہانت کو ’الگورتھمک تارکین وطن‘ قرار دے کر مخالفت بڑھانے کی کوشش

امریکا میں مصنوعی ذہانت اور بڑے ڈیٹا سینٹرز کے خلاف دائیں بازو کے بعض حلقوں نے ایک نئی سیاسی اصطلاح متعارف کرائی ہے، جس کے ذریعے اے آئی کو تارکین وطن سے تشبیہ دے کر اس کے خلاف عوامی ردعمل پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،ان حلقوں نے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے نظام کو ’’الگورتھمک تارکین وطن‘‘ کہنا شروع کردیا ہے
یہ رجحان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ڈیٹا سینٹرز، بجلی کے بڑھتے استعمال، پانی کے وسائل، زمین اور مقامی آبادی پر ممکنہ اثرات کے باعث اے آئی انفراسٹرکچر کے خلاف امریکا میں سیاسی مخالفت بڑھ رہی ہے،یہ مخالفت صرف ایک سیاسی جماعت تک محدود نہیں، تاہم دائیں بازو کے بعض کارکن اب اسے اپنی قوم پرستانہ اور امیگریشن مخالف سیاست کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں
اس مہم میں نمایاں نام جو ایلن کا ہے، جو ماضی میں اسٹیو بینن کے پوڈکاسٹ میں ٹرانس ہیومینزم کے ایڈیٹر رہ چکے ہیں،ڈیلس میں ایک حالیہ سیاسی مباحثے کے دوران ایلن نے ڈیٹا سینٹر کو ’’الگورتھمک تارکین وطن کی نرسری‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مصنوعی ذہانت کے ایسے نظام تیار کررہے ہیں جو بعد میں دوسری کمپنیوں میں پھیل جاتے ہیں
ایلن کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں ایسے ڈیٹا سینٹرز میں مصنوعی ذہانت تیار کررہی ہیں جو مستقبل میں انسانی کارکنوں کی جگہ لے سکتی ہے،اس بیانیے میں اے آئی کو ایسے ’’نئے آنے والے‘‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو امریکی کارکنوں کی ملازمتوں کے لیے مقابلہ پیدا کرے گا،یوں روایتی امیگریشن مخالف نعرے کو ٹیکنالوجی کے خلاف مزاحمت کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے
تاہم اے آئی کی مخالفت کرنے والے تمام قدامت پسند ایک ہی مؤقف نہیں رکھتے،اسی ڈیلس مباحثے میں پالانٹیر کے شریک بانی جو لونسڈیل نے مصنوعی ذہانت کا دفاع کرتے ہوئے اسے امریکی اقتصادی ترقی اور نئی ٹیکنالوجی کی تاریخی روایت کا حصہ قرار دیا،دوسری جانب ایلن نے اے آئی کے تعلیم، روزگار، انسانی تعلقات اور نگرانی پر ممکنہ اثرات کو تنقید کا نشانہ بنایا
ڈیٹا سینٹرز اس بحث کا مرکزی میدان بن چکے ہیں کیونکہ اے آئی ماڈلز کی تربیت اور انہیں چلانے کے لیے انتہائی بڑے کمپیوٹنگ مراکز درکار ہوتے ہیں،ان مراکز کے لیے بڑی مقدار میں بجلی اور بعض صورتوں میں پانی درکار ہوتا ہے، جبکہ مقامی آبادی زمین کے استعمال، بجلی کے نرخ، ماحول اور روزگار پر ان کے اثرات کے بارے میں سوال اٹھا رہی ہے،اسی وجہ سے ڈیٹا سینٹر مخالف تحریک میں سیاسی دائیں اور بائیں دونوں جانب سے آوازیں سنائی دے رہی ہیں
ٹرمپ انتظامیہ بھی اس تنازعہ میں ایک واضح فریق بن چکی ہے،صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیٹا سینٹرز کی مخالفت کرنے والوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں امریکا کو ’’پسماندہ اور غریب‘‘ رکھنے کے خواہش مند قرار دیا ہے، جبکہ دائیں بازو کے بعض کارکن اے آئی کے پھیلاؤ کو امریکی عوام کے لیے معاشی اور سماجی خطرہ قرار دے رہے ہیں،اس طرح ریپبلکن حلقوں کے اندر بھی مصنوعی ذہانت کے معاملے پر اختلاف نمایاں ہوگیا ہے
اے آئی مخالف دائیں بازو کی ایک تنظیم ’’ہیومنز فرسٹ‘‘ نے بھی ڈیٹا سینٹرز کے خلاف ’’ڈیٹا سینٹر ریوولٹ‘‘ کے نام سے ملک گیر بس مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور اس کے لیے درکار بنیادی ڈھانچے کی مخالفت محض آن لائن بحث نہیں رہی بلکہ اسے منظم سیاسی تحریک میں تبدیل کرنے کی کوشش بھی جاری ہے
اس نئے بیانیے کا اہم پہلو یہ ہے کہ اے آئی کے حقیقی معاشی اور ماحولیاتی سوالات کو امیگریشن کی زبان کے ساتھ ملایا جا رہا ہے” الگورتھمک تارکین وطن‘‘ کی اصطلاح اسی سیاسی کوشش کی مثال ہے، جس میں ٹیکنالوجی کے ذریعے ممکنہ ملازمتوں کے خاتمے، نگرانی اور سماجی تبدیلی کے خدشات کو تارکین وطن سے متعلق پہلے سے موجود سیاسی بحث کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے
تاہم ’’الگورتھمک تارکین وطن‘‘ کوئی قانونی یا تکنیکی اصطلاح نہیں بلکہ سیاسی تشبیہ ہے،مصنوعی ذہانت کے نظام انسان نہیں ہوتے اور نہ ہی انہیں امیگریشن قانون کے تحت تارک وطن قرار دیا جاسکتا ہے،اس اصطلاح کا مقصد اے آئی کے بارے میں ایک مخصوص سیاسی فریم قائم کرنا ہے، جبکہ ڈیٹا سینٹرز کے حقیقی اثرات، روزگار، توانائی اور ماحول سے متعلق سوالات الگ پالیسی مباحث ہیں

قومی خبریں سے مزید