سانحہ نائن الیون کے 25 سال بعد بھی بہت سی مسلم خواتین نسل پرستی اور شکوک کا سامنا کر رہی ہیں

سانحہ نائن الیون کے 25 سال بعد بھی بہت سی مسلم خواتین نسل پرستی اور شکوک کا سامنا کر رہی ہیں

واشنگٹن: سانحہ 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کو 25 سال گزرنے کے باوجود بہت سے مسلمان امریکیوں کے بارے میں امریکی معاشرے میں ایسے تصورات برقرار ہیں جو 9/11 کے بعد پیدا ہوئے تھے،امتیازی سلوک، تعصب اور شک کا سامنا کرنے والوں میں مسلم خواتین نمایاں ہیں، خصوصاً وہ خواتین جو حجاب یا لباس کے ذریعے اپنے مذہبی تشخص کو نمایاں رکھتی ہیں
2026 کے موسم بہار میں پیو ریسرچ سینٹر کے سروے کے مطابق مسلم خواتین نے گزشتہ ایک سال کے دوران مردوں کے مقابلے میں امتیازی سلوک کا زیادہ تجربہ رپورٹ کیا،بعض خواتین نے بتایا کہ انہیں شک کی نگاہ سے دیکھا گیا، ہوائی اڈوں یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے خصوصی جانچ کا سامنا کرنا پڑا، توہین آمیز ناموں سے پکارا گیا یا جسمانی حملے کا نشانہ بنایا گیا
روٹگرز لا اسکول کی پروفیسر سحر عزیز کے مطابق 9/11 کے بعد شروع ہونے والی دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے دوران حجاب کو بھی دہشت گردی کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جانے لگا،ان کے بقول اب بعض حالات میں حجاب کو سکیورٹی خطرے کے بجائے ایک ثقافتی خطرے کی علامت سمجھا جاتا ہے
پیو کے مطابق تقریباً نصف مسلم خواتین کا کہنا ہے کہ ان کی ظاہری شکل، آواز یا لباس میں کوئی ایسی نمایاں خصوصیت ہے جس سے ان کے مسلمان ہونے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، اور ان میں بڑی تعداد حجاب پہننے والی خواتین کی ہے،2026 کے ایک سروے میں 42 فیصد امریکیوں نے کہا کہ مسلمان امریکی ملک پر منفی اثر ڈالتے ہیں،ایسے خیالات کی وجوہات بیان کرتے ہوئے بعض افراد نے 9/11 اور ایک اور دہشت گرد حملے کے خدشے کا حوالہ دیا
9/11 کے بعد پیدا ہونے والی فضا نے مسلمان نوجوانوں کی ایک پوری نسل پر بھی اثر ڈالا،کینیڈا کی ول فرڈ لوریئر یونیورسٹی کی پروفیسر جسمن زین نے تقریباً 130 مسلم نوجوانوں اور نوجوانوں کے ساتھ کام کرنے والے افراد کے انٹرویوز کیے،ان کے مطابق بہت سے نوجوانوں نے خود کو مسلسل نگرانی اور شک کی زد میں محسوس کیا اور بعض نے عوامی مقامات پر عام سرگرمیاں کرنے سے بھی گریز کیا کہ کہیں انہیں پرتشدد یا مشتبہ نہ سمجھ لیا جائے،مسلم خواتین نے بتایا کہ حجاب پہننے کے بعد انہیں زیادہ ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا اور بعض کو یہ احساس رہا کہ انہیں اپنے رویے کے ذریعے تمام مسلمانوں کی نمائندگی کرنی ہے
دوسری جانب گزشتہ 25 برسوں میں مسلم امریکی آبادی اور سیاسی و سماجی نمائندگی میں نمایاں اضافہ بھی ہوا ہے،2007 میں پیو نے امریکی مسلم آبادی کا تخمینہ 2.4 ملین لگایا تھا، جبکہ اب یہ تعداد تقریباً 5.5 ملین بتائی جاتی ہے،2001 میں کانگریس میں کوئی مسلمان رکن نہیں تھا، جبکہ اب 5 مسلمان ارکان موجود ہیں، جن میں الہان عمر، راشدہ طلیب، آندرے کارسن، لطیفہ سائمن اور عائشہ وہاب شامل ہیں،عمر اور طلیب 2019 میں کانگریس کی پہلی مسلم خواتین ارکان بنیں
رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کی شکایات بھی ختم نہیں ہوئیں،کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کے مطابق 2025 میں مسلمانوں کی جانب سے امتیازی سلوک کی شکایات ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں،ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ 9/11 کے بعد پیدا ہونے والے تعصبات آج بھی موجود ہیں، لیکن امریکی معاشرے میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی، سیاسی شرکت اور نئی نسل کی قیادت مستقبل میں ان تصورات کو تبدیل کرنے کا سبب بھی بن سکتی ہے

قومی خبریں سے مزید