غریب، غریب کا دشمن کیوں؟


غریب، غریب کا دشمن کیوں؟
(تحریر ۔ خالد مسعود چوہدری)

ہم اکثر پاکستان کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے غربت، بے روزگاری، مہنگائی اور وسائل کی کمی کو بنیادی وجوہات قرار دیتے ہیں۔ یہ مسائل اپنی جگہ حقیقت ہیں، مگر میرے نزدیک ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ غربت نہیں، بلکہ غربت کے ہاتھوں انسانیت کی شکست ہے۔

غریب ہونا کوئی جرم نہیں۔ کم آمدنی پر زندگی گزارنا کوئی اخلاقی عیب نہیں۔ وسائل کی کمی کسی انسان کے کردار کا فیصلہ نہیں کرتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے انسان محلوں میں نہیں، چھوٹے گھروں میں پیدا ہوئے۔ کتنے ہی عظیم کردار ایسے گزرے ہیں جن کے پاس دولت نہیں تھی، مگر دیانت، خودداری، رحم اور غیرت کی دولت بے حساب تھی۔

اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے غربت کو بے ایمانی کا جواز کیوں بنا لیا ہے؟

ایک ریڑھی والا ترازو میں ڈنڈی مارتا ہے۔ وہ خود بھی غریب ہے، مگر اس سے خریداری کرنے والا بھی اکثر کوئی امیر شخص نہیں بلکہ ایک مزدور، ملازم یا متوسط گھرانے کا فرد ہوتا ہے۔ ایک آٹا پیسنے والا آٹے میں ملاوٹ کرتا ہے، مرچوں میں رنگ اور مصالحوں میں ناقص چیزیں شامل کرتا ہے۔ دودھ والا پانی ہی نہیں ملاتا بلکہ بعض اوقات ایسے مضر اجزا بھی شامل کر دیتا ہے جو بچوں اور بیماروں کی صحت کے لیے خطرناک ہوتے ہیں۔

وہ شاید یہ سوچتا ہے کہ ’’میں غریب ہوں، اگر تھوڑا سا زیادہ کما لوں تو کیا فرق پڑے گا؟‘‘

فرق پڑتا ہے!

اس کے چند روپے کا ناجائز فائدہ کسی دوسرے غریب کے گھر کا راشن کم کر دیتا ہے، کسی بچے کی خوراک متاثر کرتا ہے، کسی بیمار کی دوا کا خرچ بڑھا دیتا ہے۔ یعنی ایک غریب کی چھوٹی سی بددیانتی دوسرے غریب کے لیے بڑی مصیبت بن جاتی ہے۔

یہی ہماری اصل خرابی ہے۔

ایک بیوہ سرکاری امداد لینے دفتر پہنچتی ہے۔ گھنٹوں قطار میں کھڑی رہتی ہے۔ اس کے گھر میں شاید چولہا بھی مشکل سے جلتا ہو، مگر میز کے دوسری طرف بیٹھا ہوا اہلکار اس کی مجبوری کو اپنا موقع سمجھتا ہے۔ کبھی فائل آگے بڑھانے کے لیے رقم مانگی جاتی ہے، کبھی امدادی رقم میں سے حصہ کاٹ لیا جاتا ہے، کبھی اسے ایک میز سے دوسری میز اور ایک کمرے سے دوسرے کمرے کے چکر لگوائے جاتے ہیں۔

وہ بیوہ غریب ہے، مگر اس کی غربت کے سامنے بیٹھا اہلکار بھی شاید کسی بڑے محل کا مالک نہیں۔ اس کی تنخواہ بھی محدود ہے، اس کے اپنے مسائل بھی ہیں، مگر وہ اپنے سے زیادہ مجبور انسان کا حق کھا لیتا ہے۔

یہاں سوال صرف رشوت کا نہیں، ضمیر کی موت کا ہے۔

ایک گھریلو ملازمہ صبح سویرے کسی امیر گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے۔ اس کے ہاتھ میں جھاڑو ہوتا ہے، مگر اس کے ذہن میں اپنے بچوں کی فیس، گھر کا کرایہ اور راشن کے اخراجات ہوتے ہیں۔ راستے میں کوئی محافظ اس سے چند روپے مانگ لیتا ہے۔ شاید وہ بھی معمولی تنخواہ لیتا ہو، مگر اسے معلوم ہے کہ سامنے کھڑی عورت اس سے زیادہ مجبور ہے۔

پھر وہ چند روپے اس کی جیب میں چلے جاتے ہیں۔

ہم نے اسے معمول بنا لیا ہے۔

ایک رکشہ ڈرائیور، موٹر سائیکل سوار یا مزدور سڑک پر قانون کی گرفت میں آ جاتا ہے۔ اس کی غلطی اگر واقعی ہو تو اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔ لیکن جب قانون کا نفاذ حیثیت دیکھ کر ہونے لگے، جب طاقتور گاڑی گزر جائے اور کمزور موٹر سائیکل روک لی جائے، جب غریب سے قانون کی پوری سختی اور صاحبِ حیثیت سے نرمی برتی جائے تو پھر قانون، قانون نہیں رہتا؛ طاقت کا آلہ بن جاتا ہے۔

یہ صورت حال صرف پولیس یا سرکاری دفاتر تک محدود نہیں۔

ہسپتال میں ایک غریب مریض کا وارث عملے کی منتیں کرتا ہے۔ نرس، تیماردار، صفائی کارکن، وارڈ کا ملازم یا محافظ اپنی محدود آمدنی کے باوجود کبھی کبھی مریض کی مجبوری کو اپنی کمائی کا ذریعہ بنا لیتا ہے۔ سرکاری اداروں میں معمولی کام کے لیے بھی لوگوں کو سفارش، رشوت یا تعلقات کی ضرورت پڑتی ہے۔

اور پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ ملک ترقی کیوں نہیں کرتا!

ملک صرف سڑکوں، پلوں، عمارتوں اور کارخانوں سے ترقی نہیں کرتا۔ ترقی کا اصل پیمانہ یہ ہے کہ ایک کمزور انسان دوسرے کمزور انسان کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے۔

اگر ایک مزدور دوسرے مزدور کا حق مار رہا ہے، اگر ایک غریب دکاندار اپنے غریب گاہک کو دھوکا دے رہا ہے، اگر ایک معمولی اہلکار کسی بیوہ کے حق میں خیانت کر رہا ہے، اگر ایک محافظ اپنے سے زیادہ مجبور شخص سے ناجائز رقم وصول کر رہا ہے، تو ہمیں صرف حکمرانوں کو موردِ الزام ٹھہرانے سے پہلے اپنے معاشرے کے آئینے میں بھی دیکھنا ہوگا۔

ہم میں سے بہت سے لوگ بڑے پیمانے کی بدعنوانی پر شدید غصہ کرتے ہیں، مگر چھوٹی بددیانتی کو ’’چلتا ہے‘‘ کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔

بجلی کی چوری ہو تو کہتے ہیں، سب کرتے ہیں۔

دکان دار کم تولے تو کہتے ہیں، چند روپے ہی تو ہیں۔

دودھ میں پانی ملے تو کہتے ہیں، یہ تو عام بات ہے۔

سرکاری کام کے لیے رشوت دینی پڑے تو کہتے ہیں، ’’بغیر پیسے کے کام نہیں ہوتا۔‘‘

مگر یہی ’’چند روپے‘‘، یہی ’’چھوٹی سی ملاوٹ‘‘، یہی ’’معمولی سی رشوت‘‘ اور یہی ’’سب کرتے ہیں‘‘ مل کر ایک بڑے اخلاقی بحران کو جنم دیتے ہیں۔

بدعنوانی ہمیشہ کروڑوں سے شروع نہیں ہوتی؛ اکثر چند سکوں سے شروع ہوتی ہے۔

قوموں کی تباہی ہمیشہ کسی ایک بڑے حادثے سے نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی وہ روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی بے ایمانیوں، جھوٹ، ملاوٹ، سفارش، حق تلفی اور قانون شکنی سے آہستہ آہستہ اندر سے کھوکھلی ہوتی رہتی ہیں۔

ہم نے غربت کو بھی عجیب انداز میں سمجھ لیا ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ غریب آدمی کے پاس اگر کم ہے تو اسے زیادہ حاصل کرنے کے لیے کسی بھی راستے کا حق ہے۔ یہ سوچ خطرناک ہے۔ غربت انسان کو مشکل میں ڈال سکتی ہے، مگر اسے بے ایمان ہونے کا اختیار نہیں دیتی۔

اسی طرح امیری بھی کسی شخص کو قانون سے بالاتر نہیں بناتی۔

اگر ایک غریب چور ہے تو جرم ہے، اور اگر ایک طاقتور شخص قومی خزانے، عوامی وسائل یا کسی کمزور کے حق پر ہاتھ ڈالتا ہے تو وہ بھی جرم ہے، بلکہ اس کا نقصان کہیں زیادہ ہوتا ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اخلاقی معیار دوہرا ہو گیا ہے۔

ہم چھوٹے آدمی کی غلطی کو جرم کہتے ہیں اور بڑے آدمی کی بڑی بدعنوانی کو ’’معاملہ‘‘۔

ہم کمزور سے حساب مانگتے ہیں اور طاقتور سے تعلق پوچھتے ہیں۔

ہم غریب کو قانون سمجھاتے ہیں اور امیر کے لیے راستہ نکالتے ہیں۔

یہی دوہرا معیار معاشرے کو اندر سے توڑ دیتا ہے۔

ایک صحت مند معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں طاقتور کمزور کی حفاظت کرے، جہاں صاحبِ اختیار اپنے اختیار کو امانت سمجھے، جہاں دکاندار گاہک کو اپنا شکار نہیں بلکہ اپنا بھائی سمجھے، جہاں ملازم عوام کی خدمت کو بوجھ نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھے، جہاں پولیس وردی کو رعب کا ذریعہ نہیں بلکہ قانون کی حفاظت کی علامت سمجھے۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہر غریب بے ایمان نہیں ہوتا۔

پاکستان میں ایسے لاکھوں غریب لوگ ہیں جو اپنی پوری زندگی حلال رزق کی تلاش میں گزار دیتے ہیں۔ ایک مزدور دن بھر دھوپ میں پسینہ بہاتا ہے مگر اپنے بچے کے لیے وہ روٹی خریدتا ہے جس میں کسی کا حق شامل نہیں ہوتا۔ ایک رکشہ ڈرائیور اضافی کرایہ لینے سے انکار کر دیتا ہے۔ ایک دکاندار گاہک کو بتا دیتا ہے کہ فلاں چیز میں معمولی نقص ہے۔ ایک صفائی کارکن اپنی معمولی تنخواہ میں گھر چلاتا ہے مگر کسی کی جیب سے گرا ہوا پیسہ واپس کر دیتا ہے۔

یہ لوگ معاشرے کے اصل سرمایہ ہیں۔

دولت انسان کو بڑا نہیں بناتی؛ کردار بناتا ہے۔

ہمیں اپنے بچوں کو صرف یہ نہیں سکھانا کہ بڑا ہو کر ڈاکٹر، انجینئر، افسر، تاجر یا وکیل بننا ہے۔ ہمیں انہیں یہ بھی سکھانا ہوگا کہ ترازو میں خیانت نہیں کرنی، ملاوٹ نہیں کرنی، جھوٹ نہیں بولنا، کسی کا حق نہیں مارنا، رشوت نہیں لینی، کمزور کو دھوکا نہیں دینا اور قانون کو اپنے مفاد کے مطابق استعمال نہیں کرنا۔

ہمیں یہ تعلیم گھر سے شروع کرنی ہوگی۔

اگر باپ گھر میں بچے کے سامنے کسی سرکاری اہلکار کو رشوت دے کر فخر کرے گا، اگر ماں بچے کو یہ سکھائے گی کہ ’’کام نکلوانا ہو تو کسی کو کچھ دے دو‘‘، اگر دکاندار اپنے بیٹے کے سامنے کم تولے گا، اگر استاد سفارش کو قابلیت پر ترجیح دے گا، تو ہم اگلی نسل سے دیانت داری کی توقع کیسے کر سکتے ہیں؟

قومیں صرف قانون سے نہیں، ضمیر سے بھی چلتی ہیں۔

قانون ضروری ہے، مگر قانون اکیلا کافی نہیں۔ سخت نگرانی ضروری ہے، مگر نگرانی بھی اس وقت تک محدود ہے جب تک انسان کے اندر سے غلط کام کرنے کی خواہش ختم نہ ہو۔ ہمیں ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں بدعنوانی مشکل ہو، پکڑے جانے کا خوف ہو اور سزا یقینی ہو؛ مگر اس کے ساتھ ایسے معاشرے کی بھی ضرورت ہے جہاں ایمانداری کو کمزوری نہیں بلکہ عزت سمجھا جائے۔

اور سب سے بڑھ کر ہمیں قانون کی برابری چاہیے۔

غریب ہو یا امیر، دکاندار ہو یا افسر، مزدور ہو یا سیاست دان، عام شہری ہو یا بااثر شخص—قانون کی نظر میں سب برابر ہونے چاہئیں۔

اگر ایک غریب کو چند ہزار کی بدعنوانی پر سزا ملے اور کروڑوں کی خیانت کرنے والا شخص صرف اس لیے بچ جائے کہ اس کے تعلقات مضبوط ہیں، تو معاشرہ قانون سے اعتماد کھو دیتا ہے۔

جب قانون پر اعتماد ختم ہوتا ہے تو لوگ انصاف کے بجائے طاقت تلاش کرتے ہیں۔

اور جب طاقت قانون سے بڑی ہو جائے تو ریاست کمزور اور معاشرہ بے حس ہو جاتا ہے۔

آج ہمیں خود سے ایک تلخ سوال پوچھنے کی ضرورت ہے:

ہم غریب کیوں ہیں؟

صرف اس لیے نہیں کہ ہمارے پاس وسائل کم ہیں۔ شاید اس لیے بھی کہ ہم نے اپنی اخلاقی دولت کو سستا کر دیا ہے۔

ہمیں دوسرے سے دیانت داری کی توقع ہے، مگر اپنے لیے رعایت چاہیے۔

ہم چاہتے ہیں کہ سرکاری اہلکار رشوت نہ لے، مگر ہمارا کام جلدی ہو تو ہم خود رقم دینے کو تیار ہیں۔

ہم چاہتے ہیں کہ دکاندار کم نہ تولے، مگر ہم سستا مال حاصل کرنے کے لیے معیار پر سمجھوتہ کر لیتے ہیں۔

ہم چاہتے ہیں کہ پولیس قانون کے مطابق کام کرے، مگر اپنی غلطی پر سفارش تلاش کرتے ہیں۔

ہم چاہتے ہیں کہ حکمران کرپشن نہ کریں، مگر اپنے چھوٹے فائدے کے لیے قانون توڑنے کو برا نہیں سمجھتے۔

یہ تضاد ختم کرنا ہوگا۔

ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ جو غلط ہے، وہ غلط ہے—چاہے کرنے والا کوئی بھی ہو اور فائدہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو۔

غربت کا علاج صرف پیسہ نہیں۔

غربت کا علاج روزگار ہے، تعلیم ہے، انصاف ہے، صحت ہے، مواقع کی برابری ہے، مضبوط ادارے ہیں اور سب سے بڑھ کر ایک ایسا معاشرتی کردار ہے جو انسان کو دوسروں کا حق کھانے سے روکے۔

ہمیں ایسا پاکستان بنانا ہوگا جہاں غریب، غریب کا دشمن نہ ہو؛ جہاں کمزور، کمزور کا سہارا بنے؛ جہاں دکاندار اپنے گاہک کو دھوکا دینے کے بجائے اس کا اعتماد حاصل کرنے پر فخر کرے؛ جہاں اہلکار کسی بیوہ کے آنسوؤں کو اپنی آمدنی کا ذریعہ نہ بنائے؛ جہاں محافظ کمزور کو ڈرانے کے بجائے اس کی حفاظت کرے؛ اور جہاں پولیس کی وردی طاقتور کے سامنے جھکے نہیں اور کمزور پر ٹوٹے نہیں۔

اصل تبدیلی پارلیمان سے پہلے انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان مضبوط ہو تو ہمیں صرف بڑے چوروں کو پکڑنے کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے؛ ہمیں اپنے اندر کے چھوٹے چور کو بھی پہچاننا ہوگا۔

کیونکہ قوم اس دن ترقی نہیں کرتی جب اس کے پاس دولت بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔

قوم اس دن ترقی کرتی ہے جب اس کے لوگوں کے دل میں یہ یقین پیدا ہو جاتا ہے کہ:

میں کسی کا حق نہیں ماروں گا، چاہے مجھے اس کا نقصان ہی کیوں نہ اٹھانا پڑے۔

اور شاید یہی وہ دن ہوگا جب ہمارا سب سے بڑا مسئلہ غربت نہیں رہے گا، بلکہ ہماری سب سے بڑی دولت ہمارا کردار ہوگا۔

قومی خبریں سے مزید