ساہیوال میں مویشی تاجر کے اغوا سے پولیس کے اندر جرائم کا سنگین چہرہ بے نقاب، اہلکاروں پر اغوا، تاوان اور لوٹ مار کے الزامات

ساہیوال میں مویشی تاجر کے اغوا سے پولیس کے اندر جرائم کا سنگین چہرہ بے نقاب، اہلکاروں پر اغوا، تاوان اور لوٹ مار کے الزامات

ساہیوال میں مویشیوں کے ایک تاجر کو مبینہ طور پر اغوا کرکے رقم اور موبائل فون چھیننے، اس کے اہل خانہ سے تاوان طلب کرنے اور اسے دھمکانے کے الزام میں 4 پولیس اہلکاروں کی گرفتاری نے پاکستان میں پولیس کے کردار اور احتساب کے نظام پر ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کردیئے ہیں
واقعے کے مطابق مویشی تاجر محمد حسین کو مبینہ طور پر اسلحے کے زور پر اغوا کیا گیا اور نامعلوم مقام پر لے جاکر قید رکھا گیا۔ ملزمان نے اس سے 2 لاکھ 60 ہزار روپے نقدی اور موبائل فون چھین لیا جبکہ رہائی کے بدلے 40 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا بعد میں اس کے رشتہ دار سے 4 لاکھ روپے وصول کیے گئے۔ تحقیقات کے بعد 4 پولیس اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا ہے اور معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے
یہ واقعہ محض چند اہلکاروں کی مبینہ مجرمانہ سرگرمی کا معاملہ نہیں بلکہ اس بڑے مسئلے کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے جس میں قانون نافذ کرنے والے بعض اہلکار خود ایسے جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات کا سامنا کرتے رہے ہیں جن کی روک تھام ان کی بنیادی ذمہ داری ہے
پاکستان میں پولیس اہلکاروں پر مختلف اوقات میں شہریوں سے رشوت طلب کرنے، غیر قانونی حراست، تشدد، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، زمینوں اور جائیدادوں پر قبضوں میں سہولت کاری، منشیات کے کاروبار میں مبینہ معاونت، جرائم پیشہ گروہوں سے ملی بھگت اور شہریوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانے جیسے الزامات سامنے آتے رہے ہیں
پولیس پر سب سے سنگین الزامات میں جعلی پولیس مقابلے اور ماورائے عدالت ہلاکتیں بھی شامل ہیں انسانی حقوق کے اداروں نے ماضی میں پولیس مقابلوں کی بڑی تعداد پر تشویش ظاہر کی ہے جبکہ پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے قیام کے بعد بھی مبینہ مقابلوں میں ہلاکتوں کے معاملے پر شدید سوالات اٹھائے گئے انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے 2025 میں ایسے سینکڑوں واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا
اسی طرح پولیس حراست میں تشدد اور شہریوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کے واقعات بھی بار بار سامنے آتے رہے ہیں حالیہ لاہور کے ایک پولیس اسٹیشن میں ایک خاتون کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے واقعے کے بعد پورے تھانے کے 78 اہلکاروں اور عملے کو معطل کیا گیا، جس سے پولیس اسٹیشنوں میں نگرانی اور جواب دہی کے نظام پر بھی سوال اٹھے
پولیس کے اندر موجود کالی بھیڑوں کے باعث عام شہری کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ بن جاتا ہے کہ جس ادارے سے تحفظ، انصاف اور فوری مدد کی توقع کی جاتی ہے، اگر اسی ادارے کا کوئی اہلکار مبینہ طور پر جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ مل جائے تو متاثرہ شخص کے پاس شکایت اور انصاف کے لیے راستے مزید محدود ہوجاتے ہیں
رشوت ستانی بھی پولیس کے نظام پر عوامی اعتماد کو شدید متاثر کرتی ہے معمولی نوعیت کی ایف آئی آر درج کرنے سے لے کر گرفتاری، تفتیش، ضمانت کے معاملات اور مختلف مقدمات میں کارروائی تک شہریوں کو بعض اوقات غیر قانونی مالی مطالبات کا سامنا کرنے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں قانون کی یکساں عملداری کا تصور کمزور ہوتا ہے اور بااثر افراد کے لیے قانون سے بچ نکلنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں
ایک اور سنگین مسئلہ جرائم پیشہ گروہوں کے ساتھ مبینہ ملی بھگت ہے بعض علاقوں میں پولیس اہلکاروں پر ڈاکوؤں، بھتہ خوروں، منشیات فروشوں اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کو تحفظ دینے یا ان سے مالی فائدہ حاصل کرنے کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ اگر ایسے الزامات درست ثابت ہوں تو یہ صرف انفرادی بدعنوانی نہیں بلکہ پورے قانون نافذ کرنے والے نظام کے لیے خطرناک صورتحال بن جاتی ہے
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ پولیس کے تمام اہلکاروں کو ایک ہی نظر سے نہیں دیکھا جاسکتا۔ ہزاروں پولیس اہلکار دہشت گردی، قتل، ڈکیتی اور دیگر سنگین جرائم کے خلاف کارروائیوں میں اپنی جانیں بھی قربان کرتے ہیں اصل مسئلہ ان اہلکاروں کا ہے جو اپنے عہدے، وردی اور ریاستی اختیار کو شہریوں کے خلاف استعمال کرتے ہیں اور ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں
ساہیوال کا واقعہ اسی لیے اہم ہے کہ اگر پولیس اہلکار ہی مبینہ طور پر اغوا اور تاوان جیسے جرائم میں ملوث پائے جائیں تو ایسے معاملات میں عام محکمانہ کارروائی کافی نہیں ہونی چاہیے گرفتار اہلکاروں کے خلاف شفاف فوجداری تحقیقات، آزادانہ نگرانی اور عدالت کے ذریعے فیصلہ ضروری ہے تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ ریاستی اختیار کا غلط استعمال کرنے والوں کے لیے بھی قانون وہی ہے جو عام شہری کے لیے ہے
پاکستان میں پولیس اصلاحات کا اصل امتحان نئی فورسز بنانے یا نئے اختیارات دینے میں نہیں بلکہ رشوت، تشدد، غیر قانونی حراست، جعلی مقابلوں، سیاسی دباؤ اور جرائم پیشہ عناصر سے مبینہ ملی بھگت کے خلاف حقیقی احتساب قائم کرنے میں ہے۔ جب تک وردی کے پیچھے چھپنے والے اہلکاروں کو بھی قانون کے سامنے جواب دہ نہیں بنایا جائے گا، عوام کا پولیس پر اعتماد بحال کرنا مشکل رہے گا

قومی خبریں سے مزید