کاروباری طبقے سے مشاورت کافی نہیں، فیصلوں پر عملدرآمد ضروری ہے

کاروباری طبقے سے مشاورت کافی نہیں، فیصلوں پر عملدرآمد ضروری ہے

پاکستان کی معیشت کو مستحکم اور برآمدات پر مبنی بنانے کے لیے حکومت اور کاروباری طبقے کے درمیان مسلسل رابطہ ضروری قرار دیا گیا ہے، تاہم صرف اجلاس اور مشاورت اس وقت تک مؤثر ثابت نہیں ہوسکتی جب تک ان میں کیے گئے وعدوں اور فیصلوں پر بروقت عملدرآمد نہ ہو
حکومت کی جانب سے کاروباری برادری سے رابطے اور اس کے مسائل سننے کا سلسلہ جاری ہے حالیہ عرصے میں سپر ٹیکس ختم کیا گیا ہے جبکہ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ٹیکس نظام میں بہتر نفاذ کے ذریعے گزشتہ ایک سال کے دوران 800 ارب روپے وصول کیے گئے، بغیر اس کے کہ ٹیکس باقاعدگی سے ادا کرنے والے کاروباروں پر نئے ٹیکس عائد کیے جائیں
وزیراعظم کی یہ سوچ درست قرار دی گئی ہے کہ پاکستان کی معاشی ترقی کو برآمدات پر مبنی ہونا چاہیے ماضی میں ملکی معیشت میں جب بھی اندرونی طلب کی بنیاد پر تیز رفتار ترقی ہوئی، کچھ عرصے بعد بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ بڑھا اور ملک دوبارہ معاشی استحکام کے پروگراموں کی طرف چلا گیا
تاہم برآمدات بڑھانے کے لیے صرف حکومتی ارادہ کافی نہیں۔ کاروبار کے لیے قابل اعتماد پالیسی، مسابقتی نرخوں پر توانائی، طویل مدت کی مالی سہولت، بہتر ترسیلی نظام اور ایسا ضابطہ کار ضروری ہے جو سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی نہ کرے
کاروباری حلقوں کی جانب سے وزیراعظم اور معاشی ٹیم کو کئی مرتبہ بتایا جا چکا ہے کہ طویل مدتی سرمایہ کاری کم ہے اور پاکستانی کاروبار کی مسابقتی صلاحیت مسلسل متاثر ہورہی ہے حکومت ان مسائل سے اتفاق بھی کرتی ہے، لیکن ماضی کے اجلاسوں میں کیے گئے وعدوں پر عملی پیش رفت کا واضح ریکارڈ موجود نہ ہونے کے باعث کاروباری طبقے کا اعتماد کم ہورہا ہے
ماہرین کے مطابق مستقبل میں حکومت اور کاروباری برادری کے اجلاس محض شکایات سننے تک محدود نہیں ہونے چاہئیں ہر اصلاحی اقدام کسی مخصوص وزارت، ذمہ دار افسر، مقررہ مدت اور قابل پیمائش ہدف سے منسلک ہونا چاہیے تاکہ یہ واضح رہے کہ کس فیصلے پر کب تک عملدرآمد ہونا ہے
وزیراعظم کے دفتر کو اس پورے عمل کی براہ راست نگرانی کرنی چاہیے کیونکہ اجلاس میں کیا گیا اعلان اس وقت تک پالیسی نہیں بنتا جب تک اسے تحریری طور پر ریکارڈ، متعلقہ ادارے کے سپرد اور تکمیل تک مسلسل مانیٹر نہ کیا جائے
حکومت اور کاروباری طبقے کے درمیان رابطے کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے، لیکن اب اس مشاورت کا مقصد صرف کاروباری شکایات کا وقتی حل نہیں بلکہ ایسے مستقل معاشی اور انتظامی اصلاحات لانا ہونا چاہیے جن سے سرمایہ کاری، برآمدات اور طویل مدتی معاشی ترقی کے لیے قابل اعتماد ماحول پیدا ہو

قومی خبریں سے مزید