زرمبادلہ ذخائر میں بہتری، حکومت کو حد سے زیادہ اعتماد سے خبردار کردیا گیا
پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ چند برسوں کے دوران نمایاں بہتری آئی ہے، جس سے حکومت کے مالی اعتماد میں بھی اضافہ ہوا ہے، تاہم معاشی صورتحال کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ بہتری کو مستقل استحکام سمجھنا خطرناک ہوسکتا ہے۔ جولائی 2023 کے بعد ذخائر میں مسلسل اضافہ ہوا اور درآمدات اور آئندہ 12 ماہ کی قرض ادائیگیوں کے مقابلے میں ملک کی مالی گنجائش بہتر ہوئی ہے
دسمبر 2022 میں پاکستان کے ذخائر آئندہ ایک سال کی مقررہ قرض ادائیگیوں کا صرف 13 فیصد پورا کرنے کے قابل تھے جبکہ درآمدات کے لیے بھی تقریباً 3 ہفتوں کا ہی زرمبادلہ موجود تھا اب صورتحال بہتر ہوچکی ہے اور موجودہ ذخائر آئندہ 12 ماہ کی مقررہ ادائیگیوں کے تقریباً 70 فیصد اور 3 ماہ سے زیادہ کی درآمدات کو سہارا دے سکتے ہیں
تاہم ذخائر میں اضافے کی رفتار کم ہونا شروع ہوگئی ہے گزشتہ 12 ماہ کے دوران اوسط اضافے کی رفتار مئی تک 5.7 ارب ڈالر تھی جو جون میں 3.9 ارب ڈالر اور جولائی میں مزید کم ہو کر 2.7 ارب ڈالر رہ گئی جنوری سے جولائی کے دوران مائع ذخائر میں تقریباً 1 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا لیکن اس کے باوجود درآمدی ضروریات پوری کرنے کی مدت صرف 3.1 ماہ تک ہی پہنچ سکی
اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ جولائی 2023 سے شروع ہونے والے ذخائر میں اضافے کا عمل اپنی حد کے قریب پہنچ رہا ہے اگر ذخائر میں کمی کا سلسلہ شروع ہوا تو حکومت کا مالی اعتماد بھی متاثر ہوسکتا ہے اور بڑے معاشی فیصلوں کے لیے دستیاب گنجائش محدود ہوجائے گی
پاکستان کو مزید مالی سہارا دینے والے ممکنہ ذرائع میں امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک کی فنانسنگ، امریکی محکمہ خزانہ کی ممکنہ مالی سہولت اور موجودہ دوطرفہ قرضوں کی مزید سازگار شرائط پر ادائیگیوں کو آگے بڑھانا شامل ہوسکتا ہے دسمبر میں سعودی عرب کے قرضوں کی میچورٹی بھی ایک اہم مرحلہ ہوگی
معاشی دباؤ میں ایک اور بڑا عنصر عالمی توانائی کی قیمتیں ہیں مشرق وسطیٰ کی طویل جنگ اور کشیدگی کے باعث تیل کی قیمت تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے جبکہ عالمی تیل ذخائر میں کمی اور آبنائے ہرمز اور باب المندب میں جاری خطرات کے باعث توانائی کی قیمتوں میں مزید دباؤ برقرار رہنے کا خدشہ ہے پاکستان کے لیے مہنگا تیل اور ایل این جی کی خریداری بیرونی کھاتے پر مزید بوجھ ڈال سکتی ہے
پاکستان کے بیرونی شعبے میں گزشتہ چند برسوں کے دوران بہتری ضرور آئی ہے، لیکن موجودہ صورتحال تیز معاشی ترقی کے لیے ابھی کافی نہیں اگر معیشت 6 فیصد یا اس سے زیادہ کی رفتار سے بڑھے تو درآمدات میں اضافے کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے خرچ ہوسکتے ہیں اور موجودہ ذخائر تقریباً 12 ماہ ہی کا سہارا فراہم کرسکتے ہیں
اس لیے موجودہ ذخائر کو دیکھ کر ضرورت سے زیادہ اعتماد کے بجائے برآمدات، سرمایہ کاری، توانائی اور بیرونی آمدنی کے مستقل ذرائع بڑھانے پر توجہ دینا ضروری ہے معاشی استحکام ابھی مکمل طور پر حاصل نہیں ہوا اور بیرونی دباؤ میں اضافے کی صورت میں پاکستان کے لیے دوبارہ مالی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں





