اوپن اے آئی کے خودمختار ایجنٹس نے کم از کم 10 مزید ویب سائٹس پر غیر مجاز رابطے کیے

اوپن اے آئی کے خودمختار ایجنٹس نے کم از کم 10 مزید ویب سائٹس پر غیر مجاز رابطے کیے

محققین نے انکشاف کیا ہے کہ اوپن اے آئی کی جانب سے تیار کیے گئے خودمختار مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس نے رواں سال کم از کم 10 مزید ویب سائٹس کو غیر مجاز رابطوں اور باہمی پیغامات کے لیے استعمال کیا، جس سے ان ایجنٹس کی پہلے سامنے آنے والی سرگرمیوں کا دائرہ توقع سے کہیں زیادہ وسیع ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے
مختلف آزاد محققین کی تحقیقات کے مطابق یہ ایجنٹس ایسی ویب سائٹس پر پیغامات چھوڑتے رہے جو انہیں مواصلاتی پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرنے کے لیے فراہم نہیں کی گئی تھیں ایک محقق نے بتایا کہ اسے 18 ایسی ویب سائٹس کے شواہد ملے جنہیں مئی سے جولائی کے دوران استعمال کیا گیا، جبکہ دیگر تحقیقات میں بھی متعدد اضافی ویب سائٹس کی نشاندہی ہوئی ہے
رپورٹ کے مطابق ان ویب سائٹس میں مشترکہ طور پر ترمیم کی جانے والی وکیز، آن لائن متن محفوظ کرنے والی سائٹس اور 2 یونیورسٹیوں کی جانب سے چلائے جانے والے لنک مختصر کرنے والے پلیٹ فارم شامل ہیں۔ بعض سائٹس انتہائی غیر معروف تھیں، جن میں ایک امریکی ہائی اسکول کے استاد کی بنائی ہوئی کیمسٹری وکی، پولینڈ کے ٹیک کارکنوں کی ذاتی ویب سائٹس اور پرانے ٹیکسٹ ایڈیٹنگ سافٹ ویئر سے متعلق ایک ویب سائٹ بھی شامل تھی
محققین کے مطابق ایجنٹس کو مشکل تحقیقی سوالات کے جوابات تلاش کرنے کے لیے ویب براؤزنگ کی اجازت دی گئی تھی، لیکن انہیں ویب سائٹس پر مواد شائع یا پیغامات پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ اس کے باوجود انہوں نے مختلف ویب سائٹس کی خامیوں یا دستیاب سہولتوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنے لیے ایسے راستے بنا لیے جن کے ذریعے وہ ایک دوسرے سے رابطہ کرسکے
یہ معاملہ اس سے قبل سامنے آنے والے ایک واقعے کے بعد مزید اہم ہوگیا ہے جس میں اوپن اے آئی کے ایجنٹس نے ایک جرمن زبان کی وکی ویب سائٹ کو مبینہ طور پر اپنے پیغامات کے تبادلے کے لیے استعمال کیا تھا۔ اس سرگرمی میں ایجنٹس نے انسانی منتظمین کی نقل کرتے ہوئے معلومات شیئر کیں اور ٹیسٹ میں دھوکا دہی کے طریقوں پر بھی بات کی
اگرچہ محققین کے مطابق یہ سرگرمیاں روایتی معنوں میں ہیکنگ کے زمرے میں نہیں آتیں اور بعض پہلوؤں سے اسپیم سے مشابہ ہیں، تاہم ماہرین کے لیے اصل تشویش یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس نے اپنی مقرر کردہ پابندیوں سے ہٹ کر رابطے کے راستے تلاش کیے
اوپن اے آئی نے کہا ہے کہ وہ ایجنٹس کی سرگرمیوں کا وسیع جائزہ لے رہی ہے اور اسے اب تک ہگنگ فیس کے واقعے جیسی شدت یا بڑے پیمانے کی کوئی دوسری سرگرمی نہیں ملی۔ کمپنی نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ایسے واقعات کی رپورٹنگ کے لیے ایک نیا فریم ورک تیار کر رہی ہے تاہم کمپنی نے یہ واضح نہیں کیا کہ اسے ان غیر مجاز سرگرمیوں کا علم کب ہوا اور کئی ماہ تک ان کے بارے میں عوام کو آگاہ کیوں نہیں کیا گیا
محققین کا کہنا ہے کہ ان واقعات سے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے خودمختار کردار، حفاظتی پابندیوں کی کمزوری اور کمپنیوں کی جانب سے ایسے واقعات کی شفاف رپورٹنگ پر اہم سوالات اٹھتے ہیں۔ جیسے جیسے اے آئی ایجنٹس کو ویب، سافٹ ویئر اور دیگر ڈیجیٹل نظاموں تک زیادہ رسائی دی جا رہی ہے، ان کے رویے کی نگرانی اور انسانی کنٹرول برقرار رکھنا مزید اہم ہوتا جا رہا ہے

قومی خبریں سے مزید