سینیٹ کی 9 فیصلہ کن نشستیں، مہنگائی، ایران جنگ اور ٹرمپ کی مقبولیت کے درمیان ریپبلکن اکثریت کا سخت امتحان

سینیٹ کی 9 فیصلہ کن نشستیں، مہنگائی، ایران جنگ اور ٹرمپ کی مقبولیت کے درمیان ریپبلکن اکثریت کا سخت امتحان

واشنگٹن:امریکی وسط مدتی انتخابات جنکا انعقاد تین نومبر کو ہوگا، میں سینیٹ کا کنٹرول صرف 9 ریاستوں کی انتہائی اہم دوڑوں پر منحصر ہوگیا ہے،اس وقت ریپبلکن پارٹی کو سینیٹ میں 53،47 کی برتری حاصل ہے اور ڈیموکریٹس کو اکثریت حاصل کرنے کے لیے ریپبلکنز سے 4 نشستیں چھیننا ہوں گی،رائٹرز کے مطابق 35 سینیٹ نشستوں پر انتخابات ہورہے ہیں، مگر غیر جانب دار تجزیہ کار صرف ان 9 مقابلوں کو حقیقی طور پر مسابقتی سمجھ رہے ہیں
سب سے اہم تبدیلی یہ ہے کہ روایتی طور پر ریپبلکن سمجھی جانے والی ریاستوں میں بھی مقابلہ غیر معمولی طور پر قریب آگیا ہے،اس کی بڑی وجہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کم ہوتی مقبولیت، مہنگائی اور روزمرہ اخراجات پر عوامی بے اطمینانی اور ایران کے ساتھ جاری جنگ ہے،تازہ رائٹرز، اِپسوس سروے میں صرف 33 فیصد امریکیوں نے ٹرمپ کی مجموعی کارکردگی کی منظوری دی، جبکہ 47 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز نے کہا کہ 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں ووٹ دیتے وقت زندگی گزارنے کی لاگت ان کے لیے سب سے اہم مسئلہ ہوگی،ٹرمپ کے مہنگائی اور اخراجات سے نمٹنے کے طریقے سے 71 فیصد امریکی ناخوش ہیں
ایران جنگ بھی ریپبلکن امیدواروں کے لیے ایک غیر یقینی عنصر بن گئی ہے،تازہ رائٹرز، اِپسوس جائزے میں صرف 25 فیصد امریکیوں نے ایران کے ساتھ جنگ کو قابلِ قبول یا قابلِ جواز قرار دیا، جبکہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں اور توانائی کے اخراجات میں اضافے نے معاشی دباؤ مزید بڑھایا ہے
الاسکا: ریپبلکن سینیٹر ڈین سلیوان اور سابق ڈیموکریٹک رکن کانگریس میری پیلٹولا کے درمیان مقابلہ انتہائی قریب ہے،اگست کے ایک پول میں پیلٹولا 47 فیصد کے ساتھ سلیوان کے 41 فیصد سے آگے تھیں، جبکہ جولائی کے سروے میں سلیوان 47، پیلٹولا 45 پر تھے،مزید دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ ’’ڈین سلیوان‘‘ نام کا ایک اور ریپبلکن امیدوار بھی نومبر کے بیلٹ پر موجود ہوگا،الاسکا میں رینکڈ چوائس ووٹنگ ہونے کی وجہ سے دوسرے انتخاب اہم ہوسکتے ہیں،رائٹرز اور غیر جانب دار تجزیہ کار اس مقابلے کو برابر کی دوڑ قرار دے رہے ہیں
جارجیا: ڈیموکریٹ سینیٹر جون اوسوف کا مقابلہ ریپبلکن مائیک کولنز سے ہے،بیشتر دستیاب پولز میں اوسوف کو برتری حاصل ہے، تازہ دو پولز کے اوسط میں اوسوف 51 اور کولنز 43 فیصد پر ہیں،جارجیا 2024 میں ٹرمپ کے حق میں گیا تھا، مگر سینیٹ کی یہ نشست ڈیموکریٹس کے لیے دفاع کے بجائے نسبتاً مضبوط پوزیشن میں نظر آتی ہے
آئیوا: ریپبلکن ایشلے ہنسن اور ڈیموکریٹ جوش ٹوریک کے درمیان مقابلہ زیادہ قریب ہے۔ تازہ ایمَرسن پول میں ہنسن 50 اور ٹوریک 45 فیصد پر تھیں، جبکہ اگست کے ایک سروے میں فرق صرف 2 پوائنٹس تھا،آئیوا میں کسانوں، ایندھن کی قیمتوں اور ٹرمپ انتظامیہ کی ٹیرف پالیسیوں کے معاشی اثرات اہم موضوعات بن چکے ہیں،رائٹرز کے مطابق یہ ان ریاستوں میں شامل ہے جہاں ایک دہائی کی ریپبلکن برتری کے باوجود موجودہ دوڑ مسابقتی ہوگئی ہے
مین: ریپبلکن سینیٹر سوزن کولنز کا مقابلہ ڈیموکریٹ ٹرائے جیکسن سے ہے،کولنز 1996 سے سینیٹ میں ہیں اور ماضی میں ڈیموکریٹک صدارتی امیدواروں کو ووٹ دینے والی ریاست میں اپنی نسبتاً معتدل شناخت کے باعث کئی بار کامیاب ہوئی ہیں،مگر تازہ پولنگ میں جیکسن کو معمولی برتری حاصل ہے، ایک تازہ اوسط میں جیکسن 48.4 اور کولنز 45.2 فیصد پر تھے،رائٹرز کے مطابق حالیہ پولز میں جیکسن کی برتری تقریباً 3 سے 4 پوائنٹس رہی ہے
مشی گن: ڈیموکریٹ عبدالسید اور ریپبلکن مائیک راجرز کے درمیان مقابلہ بھی قریب ہے،تازہ مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی سروے میں عبدالسید 50 اور راجرز 45 فیصد پر تھے، جبکہ دوسرے حالیہ پولز میں بھی معمولی ڈیموکریٹک برتری نظر آئی، اگرچہ ایک فاکس نیوز سروے میں راجرز آگے تھے،عبدالسید کی اسرائیل اور ترقی پسند سیاست سے متعلق پوزیشنز نے ڈیموکریٹک جماعت کے اندر حمایت اور مخالفت دونوں پیدا کی ہیں، جبکہ ریپبلکن مہم انہی معاملات کو آزاد اور معتدل ووٹرز کے سامنے نمایاں کررہی ہے
نیو ہیمپشائر: ڈیموکریٹ کرس پاپاس اور ریپبلکن جان سونونو کے درمیان مقابلہ ایک کھلی نشست کے لیے ہے،تازہ دو بڑے پولز کے اوسط میں پاپاس 45.5 اور سونونو 43 فیصد پر ہیں، اگرچہ ایک سروے میں سونونو معمولی آگے تھے،غیر جانب دار تجزیہ کار فی الحال پاپاس کو برتری دیتے ہیں،اس نشست کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ موجودہ ڈیموکریٹ سینیٹر جین شاہین ریٹائر ہورہی ہیں
نارتھ کیرولائنا: یہاں ڈیموکریٹ سابق گورنر رائے کوپر کو ریپبلکن مائیکل واٹلی کا سامنا ہے۔ دستیاب پانچ حالیہ پولز کے اوسط میں کوپر 51.6 اور واٹلی 42.6 فیصد پر ہیں،کوپر نے ماضی میں ریاستی اٹارنی جنرل اور گورنر کی حیثیت سے کئی انتخابات جیتے، حتیٰ کہ ان میں بعض مواقع پر ٹرمپ نے ریاست جیتی تھی،اس وقت پولنگ میں کوپر کی برتری ان 9 مقابلوں میں نمایاں ترین برتریوں میں شامل ہے
اوہائیو: سابق ڈیموکریٹ سینیٹر شیراڈ براؤن اپنی پرانی نشست واپس حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور ان کا مقابلہ ریپبلکن جون ہسٹڈ سے ہے،،اگست کے تازہ پولز میں براؤن کو 48 سے 53 فیصد تک حمایت اور ہسٹڈ کو 44 سے 45 فیصد تک حمایت ملی،ایک حالیہ پولنگ اوسط میں براؤن تقریباً 2.6 پوائنٹس آگے تھے، تاہم تجزیہ کار اب بھی اسے ’’ٹاس اَپ‘‘ قرار دے رہے ہیں،یہ وہ ریاست ہے جس نے 2024 میں ٹرمپ کو 11 پوائنٹس سے کامیابی دی تھی، اس لیے براؤن کی موجودہ پوزیشن خاص سیاسی اہمیت رکھتی ہے
ٹیکساس: سب سے حیران کن مقابلہ ٹیکساس میں ہے، جہاں ریپبلکن کین پیکسٹن کے مقابلے میں ڈیموکریٹ جیمز ٹلاریکو نے مقابلہ غیر معمولی حد تک قریب کردیا ہے،اگست کے پولز میں کبھی ٹلاریکو اور کبھی پیکسٹن معمولی برتری میں رہے، جبکہ تازہ ترین دستیاب سروے میں دونوں تقریباً برابر دکھائی دیتے ہیں،رائٹرز کے مطابق پیکسٹن کو ماضی کے سیاسی تنازعات کے باعث مشکلات کا سامنا ہے اور ریپبلکن پارٹی کو اس نشست پر دفاعی انداز اختیار کرنا پڑ رہا ہے
ان 9 ریاستوں کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ووٹر کا مزاج صرف روایتی ’’ریپبلکن بمقابلہ ڈیموکریٹ‘‘ تقسیم سے نہیں چل رہا،مہنگائی، رہائش اور روزمرہ اخراجات، ایندھن کی قیمتیں، امیگریشن، اور ایران جنگ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے مسائل بن گئے ہیں،قومی سروے میں 47 فیصد ووٹرز نے زندگی گزارنے کی لاگت کو اپنا سب سے اہم انتخابی مسئلہ قرار دیا، جبکہ ایران جنگ کی حمایت صرف 25 فیصد تک محدود ہے،دوسری طرف امیگریشن اب بھی ریپبلکنز کے لیے اہم سیاسی موضوع ہے، لیکن سخت گیر امیگریشن کارروائیوں پر آزاد اور معتدل ووٹرز میں خدشات بھی سامنے آئے ہیں
یوں موجودہ پولنگ تصویر میں جارجیا، نارتھ کیرولائنا اور نیو ہیمپشائر میں ڈیموکریٹک امیدوار نسبتاً بہتر پوزیشن میں، جبکہ آئیوا میں ریپبلکن امیدوار معمولی برتری میں نظر آتے ہیں۔ الاسکا، مین، مشی گن، اوہائیو اور ٹیکساس میں مقابلہ اتنا قریب ہے کہ چند پوائنٹس کی تبدیلی بھی منظرنامہ بدل سکتی ہے۔ تاہم 3 نومبر تک ابھی تقریباً دو ماہ باقی ہیں اور ان ریاستوں میں قومی سیاسی ماحول، امیدواروں کی مہم، ووٹر ٹرن آؤٹ اور آخری ہفتوں کے معاشی حالات نتائج پر اثر انداز ہوسکتے ہیں

قومی خبریں سے مزید