سویڈن میں مسلمانوں کی ’’مجھ سے اسلام کے بارے میں پوچھیں‘‘ مہم، تارکین وطن کو رقم دے کر ملک چھوڑنے کی پالیسی پر شدید تنقید
سویڈن میں 13 ستمبر کے عام انتخابات سے قبل مسلم کمیونٹی نے دائیں بازو کی بڑھتی ہوئی سیاست اور اسلام مخالف بیانیے کا مقابلہ کرنے کے لیے عوامی سطح پر رابطہ مہم تیز کردی ہے،مالمو میں امام کاشف ورک کی ’’مجھ سے ایک مسلمان کے طور پر سوال کریں‘‘ مہم کے رضاکار سڑکوں، بازاروں اور شہری مراکز میں لوگوں سے براہ راست گفتگو کرکے اسلام سے متعلق سوالات کے جواب دے رہے ہیں،2017 میں شروع ہونے والی یہ مہم اب تک 150 سے زیادہ مقامات تک پہنچ چکی ہے
یہ سرگرمی ایسے وقت میں ہورہی ہے جب سویڈن کی سیاست میں دائیں بازو اور خاص طور پر سویڈن ڈیموکریٹس کا اثر نمایاں طور پر بڑھا ہے،جماعت حکومت میں شامل نہیں، تاہم پارلیمنٹ میں اس کی حمایت موجودہ دائیں بازو کی حکومت کے لیے اہم ہے اور اس کے اثر سے امیگریشن اور جرائم سے متعلق پالیسیاں زیادہ سخت ہوئی ہیں،گارڈین کے مطابق مسلم اور تارک وطن کمیونٹیز کا کہنا ہے کہ سیاسی بحث میں اسلام، تارکین وطن اور دیگر اقلیتوں کو ملک کے مسائل کا ذمہ دار ٹھہرانے کا رجحان بڑھا ہے
حکومت نے پناہ گزینوں اور تارکین وطن کی پالیسی بھی نمایاں طور پر سخت کردی ہے،پناہ گزینوں کا سالانہ کوٹہ 5,000 سے کم کرکے 900 کردیا گیا ہے، مستقل رہائش کے قواعد سخت کیے گئے ہیں اور بعض حالات میں رہائشی اجازت نامہ منسوخ کرنے کے اختیارات بڑھائے گئے ہیں،حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ امیگریشن کو محدود، انضمام کو بہتر اور ایسے افراد کی رضاکارانہ واپسی کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتی ہے جو سویڈن میں اپنے مستقبل کو جاری نہیں رکھنا چاہتے
اسی پالیسی کا سب سے متنازع حصہ رضاکارانہ واپسی کی مالی ترغیب ہے،جن اہل افراد کے پاس تحفظ کی بنیاد پر سویڈن کا رہائشی اجازت نامہ ہے، انہیں یکم جنوری 2026 سے اپنے آبائی ملک یا ایسے ملک واپس جانے کے لیے فی بالغ فرد 350,000 کرونا تک دیے جاسکتے ہیں، جبکہ بچے کے لیے 25,000 کرونا اور ایک گھرانے کے لیے زیادہ سے زیادہ 600,000 کرونا کی حد مقرر ہے
لیکن اس منصوبے کا عملی ردعمل اب تک انتہائی محدود رہا ہے،تازہ اعداد و شمار کے مطابق 2026 میں اب تک صرف 171 افراد نے مالی پیشکش قبول کی ہے،رائٹرز کے مطابق حکومت کے اس پروگرام کا بجٹ 1.3 ارب کرونا ہے، لیکن بہت کم تارکین وطن نے ملک چھوڑنے کے لیے رقم لینے میں دلچسپی ظاہر کی ہے
اس پالیسی پر تنقید کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس کے ناقدین اسے محض رضاکارانہ واپسی کا پروگرام نہیں بلکہ سیاسی طور پر تارکین وطن کو یہ پیغام دینے کی کوشش سمجھتے ہیں کہ سویڈن میں ان کا مستقبل پہلے جیسا نہیں رہا،مائیگریشن پالیسی کے ماہر برام فروؤس کے مطابق ایسے پروگراموں سے رضاکارانہ ہجرت میں نمایاں اضافے کا کوئی ثبوت موجود نہیں اور یہ زیادہ تر حکومت کی جانب سے امیگریشن کے معاملے پر سختی کا سیاسی اظہار معلوم ہوتے ہیں
اس معاملے میں ایک اور اہم پیش رفت یہ ہے کہ سویڈن ڈیموکریٹس اب اس مالی ترغیب کو سویڈش شہریت رکھنے والے تارکین وطن تک بھی توسیع دینے کی حمایت کررہی ہے، بشرطیکہ وہ اپنی سویڈش شہریت ترک کردیں،جماعت کے امیگریشن ترجمان نے کہا ہے کہ اصل بڑی تعداد ایسے شہریوں میں ہوسکتی ہے جو معاشی طور پر مشکلات کا شکار ہیں اور سویڈش زبان کم بولتے ہیں۔ تاہم موجودہ 350,000 کرونا کی سرکاری اسکیم خود بخود ہر سویڈش شہری پر لاگو نہیں ہوتی
اسی لیے مسلم کمیونٹی میں یہ تشویش بڑھ رہی ہے کہ امیگریشن سے متعلق سخت پالیسیاں بالخصوص مسلمانوں اور غیر یورپی پس منظر رکھنے والی آبادی پر غیر متناسب اثر ڈال سکتی ہیں،مالمو میں ’’مجھ سے ایک مسلمان کے طور پر سوال کریں‘‘ مہم سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ وہ براہ راست گفتگو کے ذریعے اسلام کے بارے میں پھیلنے والی غلط فہمیوں کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں، جبکہ بعض تارکین وطن کا کہنا ہے کہ موجودہ ماحول نے انہیں سویڈن میں مستقل مستقبل کے بارے میں پہلے سے زیادہ غیر یقینی کا شکار کردیا ہے
دوسری طرف حکومت اور اس کے دائیں بازو کے حامیوں کا مؤقف یہ ہے کہ پالیسی کا مقصد مسلمانوں کو نکالنا نہیں بلکہ امیگریشن کو محدود کرنا، انضمام بہتر بنانا اور ایسے غیر ملکی باشندوں کو رضاکارانہ واپسی کی ترغیب دینا ہے جو سویڈن میں کامیاب انضمام نہیں کرپائے،اس لیے موجودہ شواہد کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ 350,000 کرونا کی اسکیم باقاعدہ طور پر ’’مسلمانوں کو ملک سے نکالنے‘‘ کی پالیسی ہے، تاہم اس کے ناقدین اسے سویڈن میں بڑھتی ہوئی سخت گیر امیگریشن سیاست اور تارکین وطن، خصوصاً مسلم کمیونٹی، پر بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کی ایک علامت قرار دے رہے ہیں
انتخابات سے قبل صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ موجودہ دائیں بازو کی حکومت نے پہلی مرتبہ یہ اشارہ دیا ہے کہ کامیابی کی صورت میں سویڈن ڈیموکریٹس کو باقاعدہ وزارتی عہدے دیے جاسکتے ہیں،گارڈین کے مطابق اس امکان نے مسلم اور تارک وطن حلقوں میں یہ خدشہ بڑھایا ہے کہ امیگریشن اور اقلیتوں سے متعلق موجودہ سخت پالیسی مزید آگے بڑھ سکتی ہے





