نئے صوبوں کے حامی خبردار، مشاہد حسین سید نے اسرائیلی منصوبے کا دعویٰ کردیا

نئے صوبوں کے حامی خبردار، مشاہد حسین سید نے اسرائیلی منصوبے کا دعویٰ کردیا

سینیٹر اور سابق وفاقی وزیر اطلاعات مشاہد حسین سید نے پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث پر سخت انتباہ کرتے ہوئے اسے اسرائیل کے مبینہ وسیع تر منصوبے سے جوڑ دیا ہے،انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے پہلے اسے علاقائی جنگوں میں الجھانے اور پھر اندر سے صوبائیت کے ذریعے وفاق کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے
مشاہد حسین سید نے کہا:

“Naive Proponents of New Provinces Beware! The cat’s out of the bag, as they say, none other than a senior American official is sounding the alarm!”

یعنی نئے صوبوں کے ’’سادہ لوح حامی خبردار‘‘، ان کے بقول اب معاملہ چھپا نہیں رہا اور خود ایک سینئر امریکی عہدیدار بھی خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے،ان کا اشارہ اس طرف ہے کہ نئے صوبوں کی بحث کو محض انتظامی اصلاح سمجھنا خطرناک سادگی ہو سکتی ہے
انہوں نے مزید کہا
“Don’t play into the hands of Pakistan’s enemies who are already preparing new maps for the Muslim World by weakening Pakistan through silly, thoughtless proposals of new provinces!”
مشاہد حسین سید کے مطابق پاکستان کے دشمن مسلم دنیا کے نئے نقشے تیار کر رہے ہیں اور نئے صوبوں کی ’’احمقانہ سوچ‘‘ اور تجاویز پاکستان کو کمزور کرنے کے اس عمل میں مددگار بن سکتی ہیں،اس مؤقف میں بنیادی نکتہ یہ ہے کہ صوبوں کی تعداد بڑھانے کے بجائے یہ دیکھا جائے کہ اس سے وفاقی طاقت اور قومی یکجہتی پر کیا اثر پڑے گا
اس کے بعد مشاہد حسین سید نے براہ راست ’’اسرائیلی منصوبے‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا
“The Zionist Game-Plan is clear:”
یعنی ان کے مطابق صہیونی منصوبہ واضح ہے،وہ اس منصوبے کے تین مراحل بیان کرتے ہیں
پہلے مرحلے کے بارے میں انہوں نے کہا
“1) Trap Pakistan into US-Israeli War just as Netanyahu trapped Trump in Iran War via blackmail by Epstein Files;”
مشاہد حسین سید کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کو امریکہ اسرائیل جنگ میں پھنسایا جا سکتا ہے، جسے وہ ایران جنگ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار سے جوڑتے ہیں اور نیتن یاہو پر ٹرمپ کو ’’ایپسٹین فائلز کے ذریعے بلیک میل‘‘ کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں
دوسرے مرحلے میں وہ کہتے ہیں
“2) Weaken Pakistan by embroiling in intra-Muslim conflicts like Yemen & then weaken from within through ‘provincialism’, transforming a Federation into a de facto Confederation;”
ان کے مطابق پاکستان کو پہلے یمن جیسے مسلم دنیا کے اندرونی تنازعات میں الجھایا جائے گا اور پھر ’’صوبائیت‘‘ کے ذریعے اندر سے کمزور کیا جائے گا، یہاں تک کہ موجودہ وفاق عملاً ایک کنفیڈریشن میں تبدیل ہو جائے
یہاں ان کے مؤقف کا اصل سیاسی نکتہ سامنے آتا ہے،وہ نئے صوبوں کو صرف انتظامی نقشے کی تبدیلی نہیں سمجھ رہے بلکہ اس امکان سے جوڑ رہے ہیں کہ اختیارات اور طاقت کی ایسی تقسیم وفاقی مرکز کو کمزور کر سکتی ہے،اس کے برعکس نئے صوبوں کے حامی اسے انتظامی بہتری، بہتر نمائندگی اور بڑے صوبوں کو مؤثر طریقے سے چلانے کی ضرورت قرار دیتے ہیں
تیسرے مرحلے میں مشاہد حسین سید نے پاکستان کے ساتھ ترکیہ اور ایران کا نام لیتے ہوئے کہا
“3) Balkanize big Muslim states like Pakistan, Turkiye & Iran, just as they split the largest Asian Muslim State (East Timor) (Indonesia) & largest African Muslim state (South Sudan) (Sudan)!”

یعنی ان کے مطابق پاکستان، ترکیہ اور ایران جیسی بڑی مسلم ریاستوں کو بھی اسی طرح ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے، جیسے وہ مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کی مثالیں دیتے ہیں
مشاہد حسین سید کی پوری دلیل کا مرکز نئے صوبوں کی مخالفت سے زیادہ یہ خدشہ ہے کہ پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کو کمزور کرنے والی کوئی بھی داخلی تبدیلی بیرونی جغرافیائی سیاسی مفادات کے لیے استعمال ہو سکتی ہے،اسی لیے وہ انتظامی تقسیم کے حامیوں کو خبردار کر رہے ہیں کہ صوبوں کی بحث کو صرف گورننس کا مسئلہ نہ سمجھا جائے
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان میں واقعی نئے صوبوں اور نئی انتظامی اکائیوں کی بحث دوبارہ سیاسی سطح پر سامنے آئی ہے،چنانچہ مشاہد حسین سید نے ایک انتظامی اور آئینی بحث کو براہ راست قومی سلامتی، علاقائی سیاست اور مسلم دنیا کے ممکنہ نئے نقشے کے تناظر میں رکھ دیا ہے

قومی خبریں سے مزید