ریپبلکن پارٹی کا ٹرمپ پر بڑا سیاسی داؤ، تاریخی مڈٹرم کنونشن میں صدر کو انتخابی مہم کا مرکزی چہرہ بنا دیا
ڈیلس میں ریپبلکن پارٹی کا تاریخی وسط مدتی کنونشن شروع ہوگیا ہے، جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نومبر کے مڈ ٹرم انتخابات سے قبل پارٹی کی انتخابی حکمت عملی کا مرکزی کردار بنا دیا گیا ہے،یہ امریکی سیاسی تاریخ میں ریپبلکن پارٹی کا پہلا قومی مڈٹرم کنونشن ہے اور اس کا بنیادی مقصد ٹرمپ کے حامی ووٹروں کو متحرک کرکے کانگریس میں ریپبلکن اکثریت برقرار رکھنے کی کوشش کرنا ہے
3 نومبر کو ہونے والے مڈ ٹرم انتخابات میں اب دو ماہ سے بھی کم وقت باقی ہے اور ابتدائی ووٹنگ بھی چند ہفتوں میں شروع ہونے والی ہے،ایسے وقت میں ریپبلکن قیادت نے ڈیلس کے اجتماع کو ٹرمپ کی سیاسی مقبولیت اور ان کے انتخابی اثر و رسوخ کو استعمال کرنے کے ایک بڑے موقع کے طور پر پیش کیا ہے
ریپبلکن نیشنل کمیٹی کے چیئرمین جو گرٹرز نے ٹرمپ کو سیاست کا “بہترین شو مین” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی انہیں ایسے ووٹروں کو دوبارہ متحرک کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے جو ٹرمپ کا نام انتخابی پرچے پر نہ ہونے کی صورت میں عموماً کم تعداد میں ووٹ ڈالنے جاتے ہیں
گرٹرز کے مطابق پارٹی کی حکمت عملی یہ ہے کہ ٹرمپ کو عملاً مڈٹرم انتخابات کے انتخابی میدان میں مرکزی امیدوار کے طور پر پیش کیا جائے،اسی لیے ٹرمپ دونوں راتوں میں خطاب کریں گے،بدھ کی رات وہ مرکزی خطاب کریں گے، جبکہ جمعرات کو نائب صدر جے ڈی وینس کے خطاب کے بعد کنونشن کا اختتامی خطاب بھی ٹرمپ ہی کریں گے
ریپبلکن پارٹی کو تاہم ایک مشکل سیاسی ماحول کا سامنا ہے،امریکی تاریخ میں عموماً صدر کی جماعت کو مڈٹرم انتخابات میں کانگریس کی نشستوں کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے،موجودہ انتخابات میں مہنگائی، اشیائے ضروریہ کی قیمتیں، ایندھن کے نرخ اور ایران کے ساتھ جنگ جیسے معاملات بھی سیاسی بحث کا حصہ بنے ہوئے ہیں
اسی پس منظر میں ڈیلس کا کنونشن صرف پارٹی کا روایتی اجتماع نہیں بلکہ ریپبلکن پارٹی کی انتخابی حکمت عملی کا اہم حصہ بن گیا ہے،پارٹی قیادت کا مقصد ٹرمپ کے ذریعے اپنے بنیادی ووٹرز میں جوش پیدا کرنا اور ان امیدواروں کے لیے حمایت بڑھانا ہے جو نومبر میں سخت مقابلوں کا سامنا کر رہے ہیں
تاہم ریپبلکن پارٹی کے اندر ٹرمپ کے کردار کے بارے میں مکمل یکسانیت بھی نظر نہیں آتی،بعض ایسے امیدوار جو سخت مقابلے والی نشستوں پر انتخاب لڑ رہے ہیں، کنونشن سے دور رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ مقامی ووٹرز کے لیے اپنی انتخابی مہم کو ٹرمپ کے بجائے مقامی مسائل سے جوڑنا زیادہ اہم ہوسکتا ہے
اس کے باوجود پارٹی قیادت نے ٹرمپ کو تقریباً مکمل طور پر مرکز میں رکھا ہے،کنونشن میں نائب صدر جے ڈی وینس، ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور دیگر اہم ریپبلکن رہنما اور امیدوار بھی شریک ہو رہے ہیں
یہ کنونشن ٹرمپ کے لیے بھی اہم سیاسی لمحہ ہے،وہ 2026 کے مڈٹرم انتخابات میں خود امیدوار نہیں ہیں، لیکن ریپبلکن قیادت واضح طور پر چاہتی ہے کہ ووٹر ان انتخابات کو ٹرمپ کی صدارت اور ان کی پالیسیوں کے حوالے سے بھی دیکھیں،ٹرمپ خود بھی ریپبلکن امیدواروں کے لیے انتخابی مہم چلانے اور اہم مقابلوں میں براہ راست کردار ادا کرنے کا اعلان کر چکے ہیں
دوسری طرف ڈیموکریٹک پارٹی نے اس کنونشن کو ریپبلکن حکومت کی معاشی پالیسیوں اور ٹرمپ کی قیادت پر تنقید کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے،یوں ڈیلس میں ہونے والا یہ غیر معمولی کنونشن محض ریپبلکن پارٹی کا اجلاس نہیں رہا بلکہ نومبر کے انتخابات سے پہلے دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی بیانیے کی ایک بڑی جنگ کا میدان بن گیا ہے
ریپبلکن پارٹی کا اصل امتحان یہ ہوگا کہ ٹرمپ کی سیاسی توانائی اور ان کے بنیادی حامیوں کو متحرک کرنے کی صلاحیت کیا نومبر میں کانگریس کی اہم نشستوں پر ووٹوں میں تبدیل ہوتی ہے،ابھی اس کا نتیجہ سامنے نہیں آیا، لیکن ڈیلس کنونشن نے یہ ضرور واضح کر دیا ہے کہ 2026 کے مڈٹرم انتخابات میں ٹرمپ ریپبلکن انتخابی حکمت عملی کے مرکز میں موجود ہیں





