رانی مکھرجی کا دردناک اعتراف: دوسری اولاد کی خواہش پوری نہ ہو سکی، بیٹی کو بہن یا بھائی نہ دے سکنے کا دکھ آج بھی دل میں ہے

رانی مکھرجی کا دردناک اعتراف: دوسری اولاد کی خواہش پوری نہ ہو سکی، بیٹی کو بہن یا بھائی نہ دے سکنے کا دکھ آج بھی دل میں ہے

بالی ووڈ کی معروف اداکارہ رانی مکھرجی نے اپنی ذاتی زندگی کے ایک انتہائی حساس اور تکلیف دہ پہلو پر گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ وہ اپنی بیٹی ادیرا کو ایک بہن یا بھائی دینے کی خواہش پوری نہ کر سکیں اور یہ محرومی آج بھی ان کے لیے شدید جذباتی تکلیف کا باعث ہے
رانی مکھرجی نے یہ بات مارچ 2024 میں گلاٹا انڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتائ تھی جس کا سوشل میڈیا پر تذکرہ ان دنوں ہورہا ہے ، کہ بیٹی ادیرا کی پیدائش کے تقریباً ایک سے ڈیڑھ سال بعد انہوں نے دوسری اولاد کے لیے کوشش شروع کی,ان کے مطابق انہوں نے تقریباً 7 سال تک اس خواہش کے لیے کوشش جاری رکھی، یہاں تک کہ وہ دوبارہ حاملہ بھی ہوئیں، لیکن 2020 میں حمل ضائع ہوگیا،انہوں نے اس تجربے کو اپنی زندگی کا انتہائی آزمائش بھرا وقت قرار دیا
رانی نے بتایا کہ انہیں سب سے زیادہ تکلیف اس بات کی ہے کہ وہ اپنی بیٹی ادیرا کو ایک بہن یا بھائی نہیں دے سکیں،انہوں نے اس احساس کو اپنے لیے انتہائی تکلیف دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عمر بھی ایک اہم حقیقت بن چکی تھی،اس وقت وہ 46 برس کی ہونے والی تھیں اور انہیں احساس تھا کہ دوبارہ ماں بننا آسان نہیں ہوگا
تاہم رانی مکھرجی نے یہ بھی کہا کہ انہیں اپنی موجودہ زندگی اور اپنی بیٹی پر شکر گزار رہنا سیکھنا ہوگا،ان کے مطابق ادیرا ان کے لیے ایک “معجزاتی بچی” ہے اور وہ خود کو یہ سمجھاتی ہیں کہ ادیرا ہی ان کے لیے کافی ہے
رانی مکھرجی نے فلمساز آدتیہ چوپڑا سے 21 اپریل 2014 کو اٹلی میں ایک نجی تقریب میں شادی کی تھی،دونوں کی پہلی اور واحد اولاد بیٹی ادیرا ہے، جو 9 دسمبر 2015 کو پیدا ہوئی،رانی اور آدتیہ نے شروع ہی سے اپنی بیٹی کو ذرائع ابلاغ اور فوٹوگرافروں کی غیر ضروری توجہ سے دور رکھنے کا فیصلہ کیا اور آج بھی ادیرا کی نجی زندگی کو انتہائی محتاط انداز میں محفوظ رکھتے ہیں
رانی مکھرجی نے 1996 میں بنگالی فلم “بیئر پھول” سے اداکاری کا آغاز کیا اور اسی سال ہندی فلم “راجہ کی آئے گی بارات” میں مرکزی کردار ادا کیا،1998 میں “غلام” اور “کچھ کچھ ہوتا ہے” نے انہیں بالی ووڈ کی صف اول کی اداکاراؤں میں شامل کر دیا،اس کے بعد “ساتھیا”، “ہم تم”، “یووا”، “ویر زارا”، “بلیک”، “کبھی الوداع نہ کہنا”، “بंटी اور ببلی”، “نو ون کلڈ جیسیکا”، “مردانی”، “ہچکی” اور “مسز چٹرجی ورسز ناروے” سمیت متعدد فلموں میں ان کی اداکاری کو خاص پذیرائی ملی
ان کے فلمی کیریئر کا سفر تقریباً 3 دہائیوں پر محیط ہے اور 2026 میں “مردانی 3” بھی ان کے نمایاں کام میں شامل ہوئی،یش راج فلمز کے مطابق رانی مکھرجی نے اپنے کیریئر میں مختلف النوع کردار ادا کیے اور خاص طور پر ایسی خواتین کے کرداروں کے لیے شہرت حاصل کی جو مضبوط، خودمختار اور حالات کا مقابلہ کرنے والی نظر آتی ہیں
ان کی ذاتی زندگی کا یہ اعتراف اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ رانی مکھرجی عام طور پر اپنی نجی زندگی کو میڈیا کی توجہ سے دور رکھتی ہیں،ایک کامیاب اداکارہ کی حیثیت سے انہوں نے پردۂ اسکرین پر کئی بار ماں کا کردار ادا کیا، لیکن حقیقی زندگی میں اپنی دوسری اولاد کھونے کا تجربہ ان کے لیے انتہائی ذاتی صدمہ رہا
رانی مکھرجی کی کہانی اس حقیقت کی بھی یاد دہانی ہے کہ شہرت، کامیابی اور دولت کے باوجود زندگی میں بعض خواہشیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں انسان اپنی تمام تر کوشش کے باوجود پورا نہیں کر پاتا

قومی خبریں سے مزید