مہنگائی، ایران جنگ اور امیگریشن: کیا نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ٹرمپ حکومت اچانک پالیسی پلٹنے پر مجبور ہوگی؟
تحقیق و رپورٹ : عامر ارائیں
امریکہ میں نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے صرف چند ہفتے پہلے ایک بنیادی سوال واشنگٹن کے سیاسی اور معاشی مباحثے کے مرکز میں آ گیا ہے، اگر پٹرول، توانائی اور روزمرہ اشیا کی قیمتیں بلند رہیں، ایران کے ساتھ جنگ جاری رہی اور سفید پوش امریکیوں کے لیے ملازمتوں کا بحران برقرار رہا تو کیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت انتخابات سے پہلے اپنی کچھ پالیسیوں میں بڑی تبدیلی لانے پر مجبور ہو سکتی ہے؟ اور اگر ایران کے ساتھ اچانک جنگ بندی ہو جائے، تیل کی عالمی رسد بحال ہو اور پٹرول سستا ہونا شروع ہو جائے تو کیا نومبر تک معاشی صورتحال اتنی بدل سکتی ہے کہ موجودہ سیاسی ماحول کا رخ بھی تبدیل ہو جائے؟
اس وقت امریکی اور یورپی تجزیہ نگاروں، معیشت دانوں اور سیاسی سائنس دانوں کے درمیان کسی ایک نتیجے پر اتفاق نہیں، لیکن ایک بات نمایاں طور پر مشترک ہے،معیشت، مہنگائی اور جنگ اب 2026 کے وسط مدتی انتخابات کے بنیادی سیاسی متغیر بن چکے ہیں
پییو ریسرچ سینٹر کے جولائی کے جائزے میں امریکی ووٹرز نے معیشت کو انتخابات کے قریب پہنچتے ہوئے سب سے اہم سیاسی موضوعات میں شمار کیا،دلچسپ بات یہ ہے کہ معیشت پر کس جماعت کو زیادہ اعتماد حاصل ہے، اس سوال پر عوام تقریباً برابر تقسیم تھے، 37 فیصد نے ڈیموکریٹس اور 36 فیصد نے ریپبلکنز کو ترجیح دی
لیکن اس کے بعد حالات مزید تبدیل ہوئے ہیں
تازہ ترین فنانشل ٹائمز پول میں ٹرمپ کی مجموعی منظوری صرف 33 فیصد رہ گئی، جبکہ 57 فیصد امریکیوں نے کہا کہ وہ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد مالی طور پر پہلے سے بدتر حالت میں ہیں،پٹرول کی بڑھتی قیمت، مہنگائی اور ایران جنگ اس ناراضگی کے اہم عوامل میں شامل ہیں، اسی سروے میں ڈیموکریٹس کو کانگریس کے عمومی انتخابی مقابلے میں 7.5 پوائنٹس کی برتری حاصل تھی
یہاں ایران جنگ ایک غیر معمولی سیاسی مسئلہ بن گئی ہے
بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے تجزیے کے مطابق ایران جنگ نے توانائی کی قیمتیں، مہنگائی اور فوجی اخراجات بڑھائے ہیں اور امریکی عوام میں جنگ کی مقبولیت کم ہے،تجزیے میں یہ بھی کہا گیا کہ جنگ نے 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کے سیاسی فائدے کے امکانات بڑھائے اور ریپبلکن جماعت کے اندر بھی اختلافات نمایاں کیے
لیکن تیل کے معاملے میں تصویر اتنی سیدھی نہیں جتنی سیاسی بحث میں دکھائی دیتی ہے،بروکنگز کے تازہ توانائی تجزیے کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی تیل کی تقریباً 20 فیصد رسد کو خطرے میں ڈالا ہے، لیکن اس کے باوجود تیل کی قیمتیں اب تک 2022 کی روس یوکرین جنگ کے بعد کی بلند ترین سطح تک نہیں پہنچیں،اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر جنگ بندی یا رسد میں بہتری آتی ہے تو قیمتوں میں نسبتاً تیز کمی کا امکان موجود ہے، لیکن اسے یقینی پیش گوئی قرار نہیں دیا جا سکتا
امریکہ میں مسئلہ یہ ہے کہ توانائی کی مہنگائی صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتی،ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے، اشیائے خورونوش کی ترسیل مہنگی ہوتی ہے، کاروباری اخراجات بڑھتے ہیں اور پھر یہ لاگت صارف تک پہنچتی ہے،یہی وجہ ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے یا تیل کی قیمت میں کمی کا سیاسی اثر صرف پٹرول کی قیمت تک محدود نہیں ہوگا بلکہ امریکی خاندان کے پورے ماہانہ بجٹ پر محسوس ہوسکتا ہے
اسی تناظر میں یہاں ایک اور مشکل موجود ہے،جولائی کے تازہ دستیاب سرکاری اعداد کے مطابق امریکہ میں سالانہ مہنگائی 3.4 فیصد تھی اور توانائی کی قیمتیں سالانہ بنیاد پر 14.7 فیصد زیادہ تھیں،پٹرول کی قیمت جولائی میں ماہانہ بنیاد پر کم ہوئی، لیکن سالانہ بنیاد پر پٹرول اب بھی 24.6 فیصد مہنگا تھا،اگست کی مکمل صارف قیمتوں کی رپورٹ 11 ستمبر کو جاری ہونی ہے، اس لیے اس وقت نومبر تک مہنگائی کے مکمل رجحان کے بارے میں قطعی فیصلہ دینا قبل از وقت ہوگا
روزگار کی صورتحال بھی بظاہر اور حقیقت میں دو مختلف کہانیاں پیش کر رہی ہے
اگست میں امریکی معیشت نے 162,000 نئی ملازمتیں پیدا کیں اور بے روزگاری کی شرح 4.1 فیصد پر برقرار رہی،یہ بظاہر ایک مضبوط رپورٹ ہے،لیکن ملازمتوں کی نوعیت اور ان کے معیار پر سوالات موجود ہیں،اگست کی ملازمتوں میں تفریح و مہمان داری اور مقامی سرکاری تعلیم جیسے شعبوں کا بڑا حصہ تھا، جبکہ معلومات اور مالیاتی شعبوں میں روزگار کم ہوا
سب سے زیادہ تشویش نوجوان کالج گریجویٹس کے بارے میں ہے،نیویارک فیڈ کے مطابق 2026 کی دوسری سہ ماہی میں حالیہ کالج گریجویٹس کی بے روزگاری تقریباً 5.6 فیصد اور کم درجے کی ملازمتوں میں کام کرنے یا اپنی تعلیم سے کم درجے کے روزگار کی شرح تقریباً 42 فیصد تھی،یعنی مجموعی امریکی روزگار کی تصویر نسبتاً مضبوط نظر آنے کے باوجود تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے پیشہ ورانہ ملازمتوں کا راستہ اب بھی مشکل ہے
اگست میں 20 سے 24 سال کے ایسے نوجوان جنہیں ابھی تک کوئی سابقہ ملازمت کا تجربہ نہیں تھا، ان میں بے روزگار افراد کی تعداد 245,000 تک پہنچ گئی، جو 2014 کے بعد اس گروپ کے لیے بلند ترین سطح بتائی گئی ہے،ماہرین نے مصنوعی ذہانت کے باعث ابتدائی درجے کی ملازمتوں میں بھرتی سست ہونے کو بھی اس صورتحال کے عوامل میں شمار کیا ہے
یہ وہ تضاد ہے جسے سیاسی مہمات میں دونوں جماعتیں اپنے اپنے انداز میں استعمال کر رہی ہیں،حکومت مجموعی روزگار کے اعداد دکھا کر معیشت کی طاقت کا دعویٰ کر سکتی ہے، جبکہ اپوزیشن نوجوان گریجویٹس، سفید پوش ملازمین، مہنگے گھروں اور روزمرہ اخراجات کی طرف اشارہ کر کے کہہ سکتی ہے کہ مجموعی اعداد عام امریکی کے تجربے کی مکمل تصویر نہیں
نیویارک فیڈ کے تازہ سروے میں بھی یہی تضاد سامنے آیا،امریکیوں کی اپنی ملازمت کے بارے میں تشویش نسبتاً محدود رہی، لیکن اگلے ایک سال میں بے روزگاری بڑھنے کا خدشہ 44.4 فیصد تک پہنچ گیا، جو اپریل 2020 کے بعد بلند ترین سطح ہے
تو کیا انتخابات سے پہلے کوئی بڑی معاشی ’’پلٹی‘‘ ممکن ہے؟
تجزیہ کاروں کے نزدیک سب سے بڑی ممکنہ پلٹی ایران کے محاذ پر ہو سکتی ہے،اگر واشنگٹن اور تہران کسی جنگ بندی، محدود معاہدے یا ایسی سفارتی پیش رفت تک پہنچ جاتے ہیں جس سے آبنائے ہرمز کھلتی ہے اور عالمی تیل کی رسد معمول پر آتی ہے تو توانائی کی قیمتوں میں کمی کا امکان پیدا ہوگا،اس کے نتیجے میں امریکی خاندانوں کو پٹرول اور بعض دوسری اشیا میں نسبتاً فوری ریلیف مل سکتا ہے
لیکن یہاں بھی ایک اہم اقتصادی حقیقت ہے، پٹرول کی قیمت کم ہونے سے مہنگائی کی شرح کم ہو سکتی ہے، مگر پہلے سے مہنگی ہو چکی چیزیں عموماً اپنی پرانی قیمتوں پر خود بخود واپس نہیں آتیں،قیمت بڑھنے کی رفتار کم ہونا اور قیمت کا دوبارہ نیچے آنا دو مختلف چیزیں ہیں
یورپ بھی اسی مسئلے سے دوچار ہے،یورپی مرکزی بینک کے ماہرین نے ایران اور یوکرین کی جنگوں کو بڑے توانائی کے جھٹکوں سے تعبیر کیا ہے، اگرچہ ان کے مطابق عالمی توانائی منڈی نے ایران جنگ کے صدمے کو اب تک توقع سے بہتر جذب کیا ہے
اس لیے یورپی تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ اگر جنگ کا دائرہ مزید نہ پھیلے تو توانائی کی قیمتوں کا دباؤ وقت کے ساتھ کم ہوسکتا ہے، لیکن اگر آبنائے ہرمز یا مشرق وسطیٰ کی دوسری اہم توانائی تنصیبات دوبارہ شدید متاثر ہوئیں تو امریکہ اور یورپ دونوں میں مہنگائی کا مسئلہ پھر سنگین ہوسکتا ہے
امیگریشن اس پوری سیاسی کہانی کا دوسرا بڑا پہلو ہے
کیا ٹرمپ حکومت وسط مدتی انتخابات سے پہلے امیگریشن پالیسی میں کوئی بڑی نرمی لا سکتی ہے تاکہ معتدل اور آزاد خیال ووٹرز کو ریلیف دیا جا سکے؟
موجودہ شواہد سے اس وقت ایسی کسی بڑی عمومی نرمی کے آثار بہت واضح نہیں ہیں،اس کے برعکس ستمبر میں امیگریشن ججوں کو زیر التوا مقدمات میں وقت کم کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں تاکہ ویزا یا گرین کارڈ کے منتظر افراد کے مقدمات تیزی سے نمٹائے جا سکیں اور ملک بدری کا عمل تیز ہو،امیگریشن عدالتوں میں تقریباً 3.2 ملین مقدمات کا بوجھ بھی موجود ہے
تازہ اے پی نارک سروے میں بھی ایک دلچسپ سیاسی تضاد سامنے آیا،تقریباً 80 فیصد ریپبلکن ووٹرز ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی سے مطمئن تھے، لیکن مجموعی امریکی آبادی میں صرف 39 فیصد نے ان کی امیگریشن پالیسی کی منظوری دی،تقریباً نصف امریکیوں کا خیال تھا کہ ٹرمپ غیر قانونی تارکین وطن کی ملک بدری اور قانونی امیگریشن محدود کرنے میں بہت آگے جا چکے ہیں
اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کے لیے امیگریشن میں مکمل یوٹرن سیاسی طور پر آسان نہیں،سخت پالیسی ریپبلکن بنیادی ووٹر کے لیے مقبول ہے، جبکہ سختی کی بعض شکلیں معتدل، آزاد امیدواروں اور لاطینی ووٹرز میں نقصان کا باعث بن رہی ہیں
لاطینی ووٹرز کے بارے میں تازہ ہارٹ ریسرچ پول خاص طور پر اہم ہے،17 مسابقتی ایوان نمائندگان کے حلقوں میں ڈیموکریٹس نے 58 فیصد کے مقابلے میں ریپبلکنز کے 35 فیصد کی برتری حاصل کی،ان ووٹرز میں امیگریشن اب بھی اہم مسئلہ ہے، لیکن معیشت اس سے بھی بڑا مسئلہ بن چکی ہے
یہی وہ حقیقی سوال ہے جہاں انتخابات سے پہلے محدود نوعیت کی امیگریشن تبدیلی ممکن دکھائی دیتی ہے، مکمل پالیسی یوٹرن کے بجائے حکومت قانونی امیگریشن کے مخصوص شعبوں، ہنرمند کارکنوں، کاروباری افراد، صحت کے شعبے یا ایسے روزگار میں محدود نرمی لا سکتی ہے جہاں کاروباری ادارے مزدوروں کی کمی کی شکایت کر رہے ہیں،لیکن اس وقت دستیاب شواہد کی بنیاد پر اسے ’’بڑی عام معافی‘‘ یا ملک بدری کی وسیع مہم ختم کرنے کی طرف قدم کہنا مشکل ہوگا
سیاسی سائنس دانوں کے لیے اصل سوال بھی یہی ہے کہ کیا نومبر کا ووٹر ایران، امیگریشن اور نظریاتی جنگ کو ترجیح دے گا یا اپنی جیب کو؟
تاریخ اور موجودہ سیاسی سائنس کا بڑا سبق یہ ہے کہ وسط مدتی انتخابات میں صدر کی جماعت اکثر دفاعی پوزیشن میں ہوتی ہے، لیکن 2026 کی صورتحال میں ایران جنگ نے اس روایتی رجحان کو مزید پیچیدہ کردیا ہے،بروکنگز کے مطابق جنگ پہلے ہی ریپبلکن جماعت کے اندر اختلافات پیدا کر چکی ہے، جبکہ اے پی کے تازہ جائزے کے مطابق ریپبلکنز کی سینیٹ میں اکثریت برقرار رکھنے کی دوڑ بھی اب پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ غیر یقینی ہو چکی ہے
یہاں ایک انتہائی اہم امکان بھی موجود ہے،اگر اکتوبر تک ایران جنگ ختم ہونے لگتی ہے، تیل سستا ہوجاتا ہے اور امریکی پٹرول پمپ پر قیمت واضح طور پر نیچے آتی ہے، تو موجودہ سیاسی ماحول بدل سکتا ہے،اس صورت میں ٹرمپ انتظامیہ یہ مؤقف اختیار کر سکتی ہے کہ جنگ، توانائی اور مہنگائی کے بحران پر قابو پایا جا رہا ہے،لیکن اگر جنگ جاری رہی، تیل مزید مہنگا ہوا اور مہنگائی دوبارہ اوپر گئی تو یہی مسئلہ ریپبلکن امیدواروں کے لیے ایک بھاری سیاسی بوجھ بن سکتا ہے
دوسری طرف اگر فیڈرل ریزرو مہنگائی میں کمی دیکھ کر شرح سود کم کرتا ہے تو گھر خریدنے، کاروباری سرمایہ کاری اور قرض لینے کی لاگت میں کچھ بہتری آسکتی ہے،لیکن اگر توانائی کی قیمتوں کے باعث مہنگائی دوبارہ بڑھتی ہے تو مرکزی بینک کے لیے شرح سود کم کرنا مشکل ہوگا،اسٹینفورڈ کے اقتصادی ماہرین پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ اگر روزگار کمزور ہوتا گیا اور مہنگائی بلند رہی تو امریکہ کو مہنگائی اور بے روزگاری کے بیک وقت بڑھنے یعنی جمودی مہنگائی کے خطرے کا سامنا ہوسکتا ہے
اس پوری تصویر میں سب سے بڑا ’’اگر‘‘ ایران ہے
جنگ بندی ہوئی تو نومبر سے پہلے ٹرمپ حکومت کو ایک معاشی سانس مل سکتی ہے،جنگ جاری رہی اور تیل کی قیمت مزید اوپر گئی تو سیاسی نقصان بڑھ سکتا ہے،روزگار کے مجموعی اعداد مضبوط رہے تو حکومت کے پاس دفاع موجود ہوگا، لیکن اگر سفید پوش نوجوانوں اور حالیہ گریجویٹس کے لیے ملازمتوں کا بحران بڑھا تو ’’معیشت مضبوط ہے‘‘ کا سرکاری بیانیہ کمزور پڑ سکتا ہے،اور اگر امیگریشن میں اچانک بہت بڑی نرمی کی گئی تو ریپبلکن کے اپنے بنیادی ووٹر میں ردعمل کا خطرہ موجود ہے، جبکہ اگر سختی جاری رہی تو معتدل اور لاطینی ووٹرز کے ایک حصے میں سیاسی نقصان بڑھ سکتا ہے
چنانچہ مین اسٹریم امریکی اور یورپی تجزیے سے فی الحال جو تصویر بنتی ہے وہ کسی ایک یقینی ’’پلٹی‘‘ کی نہیں بلکہ نومبر تک انتہائی حساس چند ہفتوں کی ہے،اگر توانائی سستی ہوتی ہے، جنگ کم ہوتی ہے، مہنگائی نیچے آتی ہے اور ملازمتیں بہتر رہتی ہیں تو ٹرمپ حکومت اپنی موجودہ پالیسیوں کا دفاع نسبتاً مضبوط پوزیشن سے کرسکتی ہے،لیکن اگر ایران جنگ طول پکڑتی ہے، پٹرول دوبارہ اوپر جاتا ہے، مہنگائی برقرار رہتی ہے اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے روزگار کا مسئلہ حل نہیں ہوتا تو وہی معاشی دباؤ وسط مدتی انتخابات کو ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک عوامی احتساب میں تبدیل کرسکتا ہے
اور شاید سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس وقت کسی معتبر تجزیے میں یہ یقین سے نہیں کہا جا رہا کہ نومبر سے پہلے مہنگائی لازماً ختم ہوجائے گی یا پٹرول اپنی پرانی قیمت پر واپس آجائے گا،بلکہ موجودہ اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ دونوں امکانات کے درمیان فیصلہ کن عنصر ایران جنگ اور عالمی توانائی منڈی ہے،یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن میں اس وقت انتخابی کیلنڈر کو صرف سیاسی کیلنڈر نہیں بلکہ ایک معاشی اور جنگی کیلنڈر کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے





