احتجاج کا حق اور سیاسی کشیدگی، تصادم سے بچنے کے لیے مذاکرات پر زور

احتجاج کا حق اور سیاسی کشیدگی، تصادم سے بچنے کے لیے مذاکرات پر زور

پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے اور احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی گئی ہے۔ درخواست گزار، جو اسلام آباد کا تاجر بتایا گیا ہے، نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ احتجاج کے باعث معمولات زندگی اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں عدالت نے معاملے کی حساس نوعیت کے پیش نظر سماعت کے لیے بڑا بینچ تشکیل دے دیا ہے جبکہ آئندہ سماعت بھی مقرر کردی گئی ہے
حکومت کی جانب سے تحریک انصاف کے احتجاج کے حوالے سے تشویش کا اظہار ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جماعت نے اعلان کیا ہے کہ 27 ستمبر کا احتجاج آئین کی بالادستی اور اپنے بانی عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے کیا جائے گا حکومتی حلقوں کو خدشہ ہے کہ اسلام آباد میں بڑا احتجاج امن و امان کی صورتحال کو متاثر کرسکتا ہے
گزشتہ دنوں کراچی میں بھی تحریک انصاف کی سرگرمیوں کے موقع پر شہر کی متعدد اہم شاہراہیں بند کردی گئی تھیں سندھ حکومت نے ان اقدامات کو سکیورٹی وجوہات سے منسلک کیا، تاہم سیاسی حلقوں میں اس حوالے سے سوالات اٹھائے گئے کہ آیا احتجاج کو روکنے کے لیے انتظامی اقدامات کیے جا رہے ہیں
حکومت کے خدشات میں نومبر 2024 کے اسلام آباد احتجاج کا پس منظر بھی شامل ہے، جب تحریک انصاف اور ریاستی اداروں کے درمیان شدید کشیدگی اور جھڑپوں کی صورتحال پیدا ہوئی تھی اسی وجہ سے حکام کو خدشہ ہے کہ ایک نیا بڑا احتجاج دوبارہ تشدد اور تصادم کا باعث بن سکتا ہے
تاہم سیاسی احتجاج جمہوری نظام میں عوام اور سیاسی جماعتوں کا بنیادی حق سمجھا جاتا ہے حکومت کی جانب سے ہر احتجاجی راستہ بند کرنے یا سیاسی جماعتوں کو اپنے مطالبات عوام کے سامنے رکھنے سے روکنے کے نتیجے میں سیاسی بے چینی مزید بڑھ سکتی ہے۔ اختلافات کو دبانے کے بجائے ان کے سیاسی اور جمہوری اظہار کے لیے پرامن راستہ فراہم کرنا ضروری ہے
اسی کے ساتھ احتجاج کرنے والی سیاسی جماعتوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ مظاہرین کو پرامن رہنے کی ہدایت کریں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملے، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانا، عام شہریوں کو ہراساں کرنا اور کاروباری سرگرمیوں میں غیر ضروری رکاوٹ پیدا کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں ہونا چاہیے
جماعت اسلامی بھی کئی ہفتوں سے ایندھن کی قیمتوں کے خلاف ملک بھر میں دھرنے دے رہی ہے مختلف سیاسی جماعتوں کے احتجاج کے مقاصد ایک دوسرے سے مختلف ہوسکتے ہیں، لیکن پرامن احتجاج اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کا حق جمہوری معاشرے میں تسلیم شدہ ہے
ملک پہلے ہی مہنگائی، معاشی بے یقینی، دہشت گردی، سیاسی عدم استحکام اور جمہوری گنجائش میں کمی جیسے متعدد مسائل کا سامنا کر رہا ہے ایسے حالات میں سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھانا عام شہریوں، کاروباری طبقے اور معیشت کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت تحریک انصاف کے ساتھ بھی مذاکرات کا راستہ اختیار کرے اور احتجاج کے لیے ایسا طریقہ کار طے کیا جائے جس میں سیاسی جماعت کو اپنے مطالبات پیش کرنے کا حق بھی حاصل رہے اور عام شہریوں کے معمولات زندگی، کاروبار اور امن و امان بھی متاثر نہ ہوں
سیاسی اختلاف کو تصادم میں تبدیل ہونے سے روکنا حکومت اور احتجاج کرنے والی جماعت دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ملک مزید سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہوسکتا، اس لیے احتجاج کے حق اور عوام کے امن و سکون کے درمیان متوازن راستہ اختیار کرنا ناگزیر ہے

قومی خبریں سے مزید