انتخابات سے چند روز پہلے سویڈن نے تارکینِ وطن کو ملک چھوڑنے کے لیے 350,000 کرونا تک دینے کا اعلان کر دیا، یورپ کے دروازے ہی نہیں کونے کھُدرے بھی بند ہونے لگے
سویڈن، جو کبھی پناہ گزینوں اور تارکینِ وطن کے لیے یورپ کے سب سے زیادہ استقبال کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا تھا، اب امیگریشن پالیسی میں نمایاں تبدیلی کے بعد قانونی طور پر مقیم بعض غیر ملکیوں کو رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑنے اور اپنے آبائی ملک واپس جانے کے لیے مالی معاونت فراہم کر رہا ہے، یہ منصوبہ 13 ستمبر کے پارلیمانی انتخابات سے چند روز قبل سویڈن کی سخت تر ہوتی ہوئی امیگریشن پالیسی کو ایک بار پھر انتخابی بحث کا مرکز بنا رہا ہے
سویڈش حکومت نے جنوری 2026 سے رضاکارانہ واپسی کی مالی معاونت میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے، نئی اسکیم کے تحت 18 سال سے زائد عمر کے اہل افراد کو 350,000 سویڈش کرونا تک دیے جا سکتے ہیں، جو پاکستانی روپے میں ایک کروڑ ایک لاکھ سے کچھ زیادہ بنتے ہیں ، جبکہ 18 سال سے کم عمر افراد کے لیے رقم 25,000 کرونا ہے،میاں بیوی یا ساتھ رہنے والے شریک حیات کے لیے مجموعی معاونت 500,000 کرونا تک جبکہ ایک گھرانے کے لیے زیادہ سے زیادہ 600,000 کرونا مقرر کی گئی ہے
حکومت کے مطابق یہ رقم ان افراد کے لیے ہے جو پہلے ہی سویڈن میں قانونی رہائش رکھتے ہیں اور رضاکارانہ طور پر اپنے آبائی ملک یا کسی دوسرے ملک میں دوبارہ آباد ہونا چاہتے ہیں،اس اسکیم کا اطلاق ان افراد پر نہیں ہوتا جنہیں سویڈن چھوڑنے کا سرکاری حکم دیا جا چکا ہو
لیکن اس غیر معمولی مالی پیشکش کا ابتدائی ردعمل محدود رہا ہے،رائٹرز کے مطابق 2026 میں اب تک صرف 171 افراد نے اس پیشکش کو قبول کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالی ترغیب کے باوجود بڑی تعداد میں تارکینِ وطن سویڈن چھوڑنے میں دلچسپی نہیں رکھتی
سویڈن کی یہ پالیسی گزشتہ ایک دہائی کے دوران ملک کی امیگریشن پالیسی میں آنے والی بڑی تبدیلی کی عکاس ہے،2015 میں یورپ میں پناہ گزینوں کے بحران کے دوران سویڈن نے تقریباً 163,000 پناہ کے درخواست گزاروں کو قبول کیا تھا، جو آبادی کے تناسب سے یورپ میں دوسری بڑی تعداد تھی،لیکن 2025 تک پناہ کے درخواست گزاروں کی تعداد 2015 کے مقابلے میں تقریباً 96 فیصد کم ہوچکی تھی
اس تبدیلی میں سویڈن ڈیموکریٹس کا کردار اہم رہا ہے،دائیں بازو کی یہ جماعت، جو تارکینِ وطن اور امیگریشن پر سخت پالیسی کی حامی ہے، پارلیمان میں موجودہ حکومت کی حمایت کرتی ہے،حکومت اور سویڈن ڈیموکریٹس کے درمیان امیگریشن کو محدود کرنے اور رضاکارانہ واپسی کو فروغ دینے کے حوالے سے متعدد معاہدے ہوچکے ہیں
حکومت نے صرف رضاکارانہ واپسی کی مالی معاونت ہی نہیں بڑھائی بلکہ امیگریشن کے دوسرے شعبوں میں بھی قوانین سخت کیے ہیں،حکومت اور سویڈن ڈیموکریٹس نے 2026 میں مزدور تارکینِ وطن کے لیے کم از کم اجرت کی شرط کو سویڈن کی اوسط اجرت کے 90 فیصد تک بڑھانے اور خاندانی بنیاد پر امیگریشن کے تقاضے مزید سخت کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے
سویڈن کی حکومت کا مؤقف ہے کہ رضاکارانہ واپسی کی مالی معاونت ان لوگوں کو اپنے آبائی ملک میں نئی زندگی شروع کرنے کا موقع دیتی ہے جو سویڈش معاشرے میں مناسب طور پر ضم نہیں ہوسکے یا طویل عرصے سے سماجی مشکلات کا شکار ہیں۔ حکومت نے اسکیم میں مالی بے ضابطگی اور دھوکا دہی روکنے کے لیے سویڈش امیگریشن ایجنسی کو اضافی اختیارات بھی دیے ہیں
یہ پالیسی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پورے یورپ میں امیگریشن کے معاملے پر سیاسی بحث تیز ہوگئی ہے،جرمنی، آسٹریا، یونان، ڈنمارک اور نیدرلینڈز بھی ایسے تارکینِ وطن کی واپسی کے لیے یورپی یونین سے باہر ’’ریٹرن ہبز‘‘ قائم کرنے کے امکانات پر کام کر رہے ہیں جنہیں یورپ میں قانونی رہائش کا حق حاصل نہیں
سویڈن کے معاملے میں تاہم رضاکارانہ واپسی کی اسکیم اور جبری بے دخلی میں بنیادی فرق ہے،حکومت کی موجودہ مالی پیشکش ان افراد کے لیے ہے جو قانونی طور پر سویڈن میں رہنے کے حق کے باوجود اپنی مرضی سے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کریں،اس لیے اسے عمومی طور پر ’’تمام تارکینِ وطن کو ملک سے نکالنے‘‘ کی پالیسی کہنا درست نہیں ہوگا
یہ معاملہ سویڈن کے 13 ستمبر کے انتخابات کے تناظر میں بھی اہم ہے،وزیراعظم الف کرسٹرسن کی قیادت میں دائیں بازو کا حکومتی اتحاد اور سوشل ڈیموکریٹ رہنما میگڈالینا اینڈرسن کی قیادت میں مرکز سے بائیں جانب کا اتحاد انتہائی قریبی مقابلے میں ہیں،رائٹرز کے مطابق ستمبر کے آغاز میں جاری ہونے والے ایک ڈیموسکوپ جائزے میں مرکز سے بائیں اتحاد کو 50.6 فیصد جبکہ حکومتی اتحاد کو 47.3 فیصد حمایت حاصل تھی، اگرچہ مختلف جائزوں میں فرق موجود ہے
امیگریشن اس انتخاب کے اہم موضوعات میں شامل ہے، تاہم سویڈش ووٹرز کے لیے فلاحی ریاست، صحت، تعلیم، مہنگائی، سلامتی اور توانائی بھی اہم انتخابی مسائل ہیں
سویڈن کی موجودہ صورتحال اس بڑے یورپی رجحان کی بھی عکاسی کرتی ہے جس میں وہ ممالک جو ایک زمانے میں وسیع پیمانے پر پناہ گزینوں کو قبول کرنے کے لیے معروف تھے، اب امیگریشن کو محدود کرنے، واپسی کے عمل کو تیز کرنے اور قانونی طور پر مقیم بعض تارکینِ وطن کو بھی رضاکارانہ طور پر واپسی کی ترغیب دینے کی پالیسیوں کی طرف بڑھ رہے ہیں
سویڈش حکومت کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ آیا 350,000 کرونا تک کی مالی ترغیب واقعی بڑی تعداد میں تارکینِ وطن کو واپس جانے پر آمادہ کرسکتی ہے یا یہ اسکیم زیادہ تر ایک محدود پروگرام ہی رہے گی،اب تک کے اعداد و شمار میں قبول کرنے والوں کی تعداد صرف 171 ہے، جو بتاتی ہے کہ بڑی مالی پیشکش کے باوجود سویڈن میں زندگی، روزگار، خاندان اور مستقبل سے وابستہ عوامل بہت سے تارکینِ وطن کے لیے رقم سے زیادہ اہم ہیں





