وہ 24 سال کی عمر میں مصنوعی ذہانت کی ترقی اور مستقبل کی ٹھیک ٹھیک پیشگوئیاں کرتا تھا، اسکے کہنے پر بینکوں اور انویسٹرز کے اربوں ڈالر لگے ، پھر وہ چند دن میں پنتالیس ارب کھو بیٹھا ، مگر کھیل سے باہر نہیں ہوا، امریکہ کی مالیاتی تاریخ کا انوکھا واقعہ
مصنوعی ذہانت کے مستقبل کی غیر معمولی پیش گوئیاں کرکے سلیکون ویلی میں ’’اے آئی کا نوسٹرادامس‘‘ کہلانے والے 24 سالہ لیوپولڈ آشِن برینر کا اربوں ڈالر کا ہیج فنڈ صرف چند دن میں ایسے بحران کا شکار ہوگیا کہ اسے تقریباً 35 ارب ڈالر مالیت کی سرمایہ کاری ہنگامی طور پر فروخت کرنا پڑی، جبکہ امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے اس واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ تاہم آشِن برینر پر کسی غلط کاری کا الزام عائد نہیں کیا گیا
یہ انکشاف معروف امریکی جریدے ’’دی اٹلانٹک‘‘ کی ایک تفصیلی رپورٹ میں سامنے آیا ہے، جس کے مطابق آشِن برینر کی کمپنی ’’سیچویشنل اویئرنیس‘‘ نے انتہائی مختصر عرصے میں غیر معمولی رفتار سے ترقی کی،تقریباً 225 ملین ڈالر کی ابتدائی سرمایہ کاری بڑھ کر 45 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، لیکن جولائی کے آخر میں چند ہی دنوں کے اندر اس کا بڑا حصہ ختم کرنا پڑا
آشِن برینر کی کہانی اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ وہ محض 24 برس کے ہیں،وہ 19 سال کی عمر میں کولمبیا یونیورسٹی کے اپنے سال کے نمایاں ترین طالب علم قرار پائے،بعد میں انہوں نے مصنوعی ذہانت کی دنیا کی سب سے اہم کمپنیوں میں شمار ہونے والی اوپن اے آئی میں کام کیا، تاہم وہاں سے انہیں ایسے حالات میں نکالا گیا جن کی مکمل تفصیلات کبھی منظرعام پر نہیں آئیں
اوپن اے آئی سے علیحدگی کے بعد آشِن برینر نے 165 صفحات پر مشتمل ایک طویل تحریر ’’سیچویشنل اویئرنیس‘‘ کے نام سے شائع کی،اس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ مصنوعی عمومی ذہانت، یعنی ایسی اے آئی جو انسانی صلاحیتوں کے برابر یا ان سے آگے نکل سکے، ممکنہ طور پر 2027 تک وجود میں آسکتی ہے
ان کی تحریر نے سلیکون ویلی میں غیر معمولی توجہ حاصل کی،وہ انتہائی اعتماد کے ساتھ یہ مؤقف پیش کرتے رہے کہ انہیں اے آئی کی ترقی کے مستقبل کے بارے میں ایسی اندرونی بصیرت حاصل ہے جو عام لوگوں، حتیٰ کہ بہت سے ماہرین، کے پاس بھی نہیں،ان کے اسی اعتماد نے انہیں سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنا دیا اور وہ جلد ہی ایسے نوجوان ٹیک ماہر کے طور پر دیکھے جانے لگے جو آنے والی دنیا کو پہلے سے دیکھ سکتا ہے
اسی نظریے کی بنیاد پر انہوں نے اپنا ہیج فنڈ قائم کیا اور اے آئی کے ممکنہ انقلاب سے فائدہ اٹھانے والی کمپنیوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری شروع کی،ان کی بنیادی حکمت عملی یہ تھی کہ اگر مصنوعی عمومی ذہانت ان کی پیش گوئی کے مطابق تیزی سے ترقی کرتی ہے تو صرف اے آئی بنانے والی کمپنیاں ہی نہیں بلکہ وہ تمام صنعتیں غیر معمولی رفتار سے بڑھیں گی جو اے آئی کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچہ فراہم کرتی ہیں
چنانچہ انہوں نے چِپ بنانے والی کمپنیوں، ڈیٹا سینٹروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق سرمایہ کاری پر بڑی رقم لگائی،یہ حکمت عملی ابتدا میں انتہائی کامیاب ثابت ہوئی،اٹلانٹک کے مطابق صرف دو برس میں ان کے فنڈ کی قدر میں 1,000 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا اور 225 ملین ڈالر کی ابتدائی رقم بڑھ کر 45 ارب ڈالر تک پہنچ گئی
لیکن اس کامیابی کے پیچھے ایک انتہائی خطرناک مالی حکمت عملی بھی چھپی ہوئی تھی
آشِن برینر کا فنڈ صرف اپنے سرمایہ کاروں کے پیسے سے سرمایہ کاری نہیں کر رہا تھا بلکہ بڑے پیمانے پر قرض بھی لے رہا تھا،اٹلانٹک کے مطابق بعض معاملات میں فنڈ ہر 1 ڈالر کے اپنے سرمائے کے مقابلے میں 3 سے 4 ڈالر تک قرض لے کر سرمایہ کاری کر رہا تھا،مالیاتی دنیا میں اسے انتہائی زیادہ قرض یا لیوریج کے ذریعے سرمایہ کاری کرنا کہا جاتا ہے
یہ حکمت عملی اس وقت تک انتہائی منافع بخش دکھائی دیتی ہے جب تک مارکیٹ اسی سمت میں چلتی رہے جس کا اندازہ سرمایہ کار نے لگایا ہو،لیکن اگر مارکیٹ اچانک مخالف سمت اختیار کرلے تو قرض دینے والے ادارے اضافی رقم یا ضمانت طلب کرسکتے ہیں اور سرمایہ کار کو اپنی پوزیشنیں فوری طور پر فروخت کرنا پڑتی ہیں
جولائی کے آخر میں یہی ہوا
اے آئی سے فائدہ اٹھانے والی بعض کمپنیوں کے حصص میں عارضی دباؤ آیا، جبکہ وہ کمپنیاں جنہیں اے آئی انقلاب سے نسبتاً نقصان پہنچنے والا سمجھا جا رہا تھا، ان کے حصص میں اضافہ ہونے لگا،آشِن برینر کے پورٹ فولیو کے دونوں جانب کے مفروضے ایک ہی بنیادی تصور سے جڑے ہوئے تھے، یعنی اے آئی بہت تیزی سے آگے بڑھے گی اور ان کی مقرر کردہ رفتار سے مصنوعی عمومی ذہانت کی منزل کی طرف دنیا بڑھے گی
جب مارکیٹ نے اس مفروضے کے خلاف حرکت کی تو فنڈ کے پاس نقصان برداشت کرنے یا انتظار کرنے کی گنجائش کم رہ گئی،بینکوں نے اپنی رقم واپس طلب کرنا شروع کردی اور آشِن برینر کو اپنی بڑی پوزیشنیں ختم کرنا پڑیں
نتیجہ یہ نکلا کہ تقریباً 35 ارب ڈالر مالیت کی سرمایہ کاری چند دنوں کے اندر فروخت کردی گئی،اٹلانٹک نے اس رقم کا موازنہ یونائیٹڈ ایئرلائنز کی تقریباً مکمل مارکیٹ قدر سے کیا ہے،یہ واقعہ اسی ہفتے پیش آیا جب آشِن برینر کی شادی ہونے والی تھی
یہاں ایک اہم وضاحت بھی ضروری ہے،35 ارب ڈالر آشِن برینر کی ذاتی دولت نہیں تھی اور نہ ہی اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اپنی جیب سے 35 ارب ڈالر کھو دیے،یہ ان کے زیرانتظام فنڈ کی سرمایہ کاری کی پوزیشنوں کی مجموعی مالیت تھی جنہیں مالی دباؤ کے باعث فروخت کرنا پڑا
اس کے باوجود یہ واقعہ امریکی مالیاتی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے،2007 کے مالی بحران سے قبل مورگن اسٹینلے کے بانڈ ٹریڈر ہاوِی ہبلر نے تقریباً 9 ارب ڈالر کا نقصان کیا تھا،اٹلانٹک کے مطابق آشِن برینر کا واقعہ اس نقصان سے تقریباً چار گنا بڑا تھا، اگرچہ دونوں واقعات کی نوعیت مختلف تھی
آشِن برینر کو سلیکون ویلی میں ’’اے آئی کا نوسٹرادامس‘‘ کہا جانے لگا تھا،ان کی شہرت کا بنیادی سبب یہ تھا کہ وہ اے آئی کے مستقبل کے بارے میں انتہائی پُراعتماد زبان استعمال کرتے تھے،ان کا مؤقف تھا کہ وہ مستقبل کو دوسروں سے پہلے دیکھ سکتے ہیں
لیکن مصنوعی ذہانت کے کئی ممتاز ماہرین نے اس طرز فکر پر سوال اٹھایا ہے
اٹلانٹک کی رپورٹ میں اوپن اے آئی کی سابق بورڈ رکن اور اے آئی ماہر ہیلن ٹونر کا کہنا ہے کہ آشِن برینر کی انتہائی زیادہ قرض پر مبنی سرمایہ کاری ان کے اس عالمی تصور سے جڑی ہوئی تھی کہ دنیا ایک ہی واضح منزل، یعنی سپر انٹیلی جنس، کی طرف بڑھ رہی ہے
اس سوچ میں مسئلہ یہ تھا کہ اگر مستقبل کی سمت ایک ہی ہو اور اس کی رفتار بھی تقریباً یقینی سمجھی جائے تو سرمایہ کار اس راستے سے ہٹنے والے کسی بھی عارضی واقعے کے لیے مناسب حفاظتی انتظامات نہیں کرتا
اور یہی ’’ہیج فنڈ‘‘ کی بنیادی ستم ظریفی بن گئی،جس فنڈ کا نام ہی ’’سیچویشنل اویئرنیس‘‘ یعنی حالات سے آگاہی تھا، وہ اچانک بدلنے والے مالی حالات کے خلاف مناسب حفاظتی انتظامات نہیں کر سکا
اٹلانٹک کے مطابق مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کامیاب ہونے والے نوجوانوں کے بارے میں سلیکون ویلی میں ایک خاص کشش پائی جاتی ہے،سرمایہ کار ایسے افراد کو غیر معمولی بصیرت رکھنے والا سمجھنے لگتے ہیں جو پیچیدہ ٹیکنالوجی کے مستقبل کو انتہائی اعتماد کے ساتھ بیان کرتے ہیں
لیکن اے آئی کے ماہر کرسٹوفر میننگ نے اس رجحان کو سلیکون ویلی کی ’’گروؤں پر حد سے زیادہ اعتماد کرنے‘‘ کی عادت قرار دیا،ان کے مطابق کسی شخص کی ابتدائی کامیابی اس کے اندر اپنی صلاحیتوں کے بارے میں ضرورت سے زیادہ اعتماد پیدا کرسکتی ہے
دلچسپ بات یہ ہے کہ آشِن برینر کی مالی تباہی کے باوجود ان کی اے آئی کے مستقبل سے متعلق بنیادی سوچ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی،اٹلانٹک کے مطابق وہ اب بھی رواں سال مجموعی طور پر منافع میں ہیں اور اربوں ڈالر کی پوزیشنیں ختم کرنے کے چند ہی دن بعد انہوں نے ایک نئی چِپ کمپنی میں 400 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کی
یعنی 35 ارب ڈالر کی پوزیشنیں ختم ہونے کے باوجود آشِن برینر مکمل طور پر کھیل سے باہر نہیں ہوئے
اس واقعے کا ایک اور پہلو مصنوعی ذہانت کی موجودہ دوڑ سے متعلق ہے،اے آئی کے بارے میں دنیا بھر میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اس یقین پر کی جارہی ہے کہ یہ ٹیکنالوجی معاشی پیداوار، صنعت، روزگار اور انسانی صلاحیتوں کو بنیادی طور پر تبدیل کردے گی،لیکن خود اے آئی کے ماہرین اس بات پر مکمل اتفاق نہیں رکھتے کہ مصنوعی عمومی ذہانت کب آئے گی، وہ کس شکل میں آئے گی اور آیا موجودہ ماڈل اس منزل تک پہنچنے کے لیے کافی ہیں یا نہیں
آشِن برینر کا واقعہ اسی غیر یقینی صورتحال کی ایک بڑی مثال بن گیا ہے
ممکن ہے ان کی 2027 والی پیش گوئی درست ثابت ہو،ممکن ہے مصنوعی عمومی ذہانت واقعی توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے سامنے آئے،لیکن مالیاتی منڈیوں میں مستقبل کے درست ہونے سے زیادہ اہم یہ ہوتا ہے کہ وہ مستقبل کب آئے گا
اگر کوئی سرمایہ کار کسی درست خیال پر بھی ضرورت سے زیادہ قرض لے کر شرط لگا دے اور اس خیال کے درست ثابت ہونے سے پہلے مارکیٹ اس کے خلاف چلی جائے تو درست پیش گوئی بھی اسے دیوالیہ پن کے قریب پہنچا سکتی ہے
یہی وجہ ہے کہ آشِن برینر کی کہانی صرف ایک 24 سالہ نوجوان کی اربوں ڈالر کی مالی ناکامی کی داستان نہیں بلکہ اے آئی کے موجودہ جنون کے لیے ایک بڑا انتباہ بھی ہے
مصنوعی ذہانت کا مستقبل شاید واقعی اتنا ہی بڑا ہو جتنا اس کے سب سے پرجوش حامی دعویٰ کرتے ہیں، لیکن مستقبل کو درست طور پر دیکھ لینے اور اس مستقبل تک محفوظ طریقے سے پہنچنے کے درمیان بہت بڑا فرق ہے
اٹلانٹک کے مضمون کا بنیادی سوال بھی یہی ہے کہ کیا سلیکون ویلی نے اے آئی کے مستقبل پر اتنا یقین کرلیا ہے کہ وہ ان لوگوں کو بھی اربوں ڈالر سونپنے لگی ہے جو ابھی صرف 20 کی دہائی میں ہیں اور جن کی سب سے بڑی طاقت شاید ان کی ٹیکنالوجی سے زیادہ اپنے مستقبل کے بارے میں یقین سے بات کرنے کی صلاحیت ہے
آشِن برینر کا 35 ارب ڈالر کا بحران اس سوال کو مزید سنجیدہ بنا دیتا ہے





