بھارتی آئی ٹی ماہرین کے لیے امریکا کا خواب مہنگا، ایچ -1 بی سخت، گرین کارڈ کا کوٹہ ختم اور انتظار مزید طویل
واشنگٹن: امریکا میں بھارتی آئی ٹی ماہرین کے لیے امیگریشن کا راستہ بند نہیں ہوا، لیکن گزشتہ چند برسوں میں یہ راستہ نمایاں طور پر زیادہ مہنگا، مشکل اور غیر یقینی ضرور ہوگیا ہے،H-1B نظام میں سختی، نئی بھرتیوں پر بڑھتا ہوا مالی بوجھ، اضافی جانچ پڑتال اور بھارتی شہریوں کے لیے روزگار پر مبنی گرین کارڈ کے اہم زمروں میں سالانہ کوٹہ ختم ہونے سے ہزاروں بھارتی ٹیکنالوجی کارکن ایک ایسے نظام کا سامنا کر رہے ہیں جس میں امریکا پہنچنا بھی مشکل ہے اور مستقل رہائش حاصل کرنا اس سے کہیں زیادہ طویل عمل بنتا جا رہا ہے
سب سے پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ امریکا نے بھارتی شہریوں یا Cognizant جیسی کمپنیوں پر H-1B کی مکمل پابندی عائد نہیں کی یہ
Cognizant معاملہ اس تبدیلی کو سمجھنے کے لیے اہم ہے،دستیاب لیبر ریکارڈ کے مطابق کمپنی نے مالی سال 2023 میں تقریباً 13,000، مالی سال 2024 میں تقریباً 11,400 اور مالی سال 2025 میں تقریباً 11,100 لیبر کنڈیشن درخواستیں جمع کرائیں،تاہم یہ تعداد منظور شدہ H-1B ویزوں کی تعداد نہیں بلکہ H-1B عمل کے ایک مرحلے، یعنی لیبر کنڈیشن درخواستوں کی تعداد ہے
اصل بڑی تصویر امریکی شہریت اور امیگریشن سروس کے اعدادوشمار میں سامنے آتی ہے
مالی سال 2021 میں مجموعی طور پر تقریباً 407,000 H-1B درخواستیں منظور ہوئیں، جو مالی سال 2022 میں بڑھ کر تقریباً 442,000 ہوگئیں،مالی سال 2023 میں یہ تعداد تقریباً 19,000 کم ہوئی
اصل دباؤ نئی ملازمت کے H-1B میں زیادہ نمایاں ہے،مالی سال 2023 میں Cognizant کے لیے نئی ملازمت کے تقریباً 2,597 H-1B منظور ہوئے تھے،اسی سال Infosys کے 2,171، TCS کے 1,174 اور Wipro کے 992 نئے H-1B منظور ہوئے
بعد کے اعدادوشمار بھارتی آئی ٹی کمپنیوں کے لیے اس تبدیلی کو مزید نمایاں کرتے ہیں،مالی سال 2025 میں امریکا میں H-1B کی نئی ملازمت کے لیے سات بڑی بھارتی آئی ٹی کمپنیوں کو مجموعی طور پر صرف 4,573 منظوریوں کا حصہ ملا، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً 37 فیصد کم تھا اور 2015 کے مقابلے میں تقریباً 70 فیصد کمی تھی
یہ وہ عدد ہے جو بھارتی آئی ٹی صنعت کے لیے سب سے زیادہ معنی رکھتا ہے، کیونکہ یہ موجودہ H-1B کارکنوں کی توسیع نہیں بلکہ نئے کارکنوں کو امریکا لانے کی صلاحیت میں آنے والی تبدیلی دکھاتا ہے
بھارت کا H-1B نظام میں حصہ پہلے ہی غیر معمولی طور پر بڑا ہے،امریکی امیگریشن سروس کے مطابق مالی سال 2020 میں منظور شدہ H-1B درخواستوں میں 74.9 فیصد ایسے افراد کی تھیں جن کی پیدائش بھارت میں ہوئی تھی،مالی سال 2025 میں بھی بھارت کا حصہ تقریباً 70 فیصد رہا
اس لیے جب امریکی حکومت H-1B نظام کی لاگت اور شرائط سخت کرتی ہے تو اس کا اثر بھارتی آئی ٹی کارکنوں پر نسبتاً زیادہ پڑتا ہے
سب سے بڑی تبدیلیوں میں سے ایک وہ اضافی مالی تقاضا ہے جس کے تحت مخصوص نئے H-1B کارکنوں کے معاملے میں 100,000 ڈالر کی اضافی رقم عائد کی گئی،تاہم یہ بات پھر واضح رہنی چاہیے کہ یہ ہر H-1B درخواست پر عام ’’ایک لاکھ ڈالر ویزا فیس‘‘ نہیں ہے،یہ مخصوص نئے H-1B کارکنوں، بالخصوص امریکا سے باہر موجود افراد سے متعلق انتظامی اقدام ہے
اس کے ساتھ امریکی محکمۂ خارجہ نے H-1B درخواست گزاروں کی جانچ بھی سخت کی،دسمبر 2025 سے تمام H-1B اور H-4 درخواست گزاروں کے لیے آن لائن موجودگی اور سماجی ذرائع ابلاغ کی جانچ کا دائرہ وسیع کردیا گیا
لیکن بھارتی ٹیکنالوجی کارکنوں کے لیے شاید اس سے بھی بڑا مسئلہ گرین کارڈ ہے
امریکا میں روزگار کی بنیاد پر گرین کارڈ کے لیے مختلف ترجیحی زمرے ہیں اور ہر ملک کے لیے قانونی حد بھی موجود ہے،بھارت چونکہ طویل عرصے سے ان زمروں میں غیر معمولی طلب رکھتا ہے، اس لیے بھارتی درخواست گزاروں کا بیک لاگ بہت بڑا ہے
مئی 2026 میں امریکی محکمۂ خارجہ نے اعلان کیا کہ بھارت کے لیے EB-2 کا مالی سال 2026 کا دستیاب کوٹہ مکمل طور پر استعمال ہوچکا ہے،اس کا مطلب یہ نہیں کہ بھارتیوں کے لیے گرین کارڈ بند کردیئے گئے، بلکہ اس مالی سال میں اس مخصوص زمرے کے مزید ویزے جاری کرنے کے لیے دستیاب تعداد ختم ہوگئی،نیا سال شروع ہونے پر سالانہ اعداد دوبارہ دستیاب ہوتے ہیں، اگرچہ پرانا بیک لاگ اپنی جگہ موجود رہتا ہے
جون 2026 میں بھارتی شہریوں کے لیے EB-5 کے غیر مختص زمرے کی فی ملک حد بھی پوری ہوگئی،امریکی محکمۂ خارجہ نے واضح کیا کہ روزگار پر مبنی امیگرنٹ ویزوں کے لیے قانون میں فی ملک حد موجود ہے اور بھارت جیسے زیادہ طلب والے ملک میں یہ حد جلد پوری ہوجاتی ہے
یہ مسئلہ نیا بھی نہیں ہے،2023 میں ہی بھارت کے لیے EB-1 اور EB-3 میں سالانہ دستیاب تعداد تیزی سے استعمال ہونے کے باعث امریکی محکمۂ خارجہ کو ترجیحی تاریخیں پیچھے لے جانا پڑی تھیں،جون 2023 میں محکمۂ خارجہ نے خبردار کیا تھا کہ بھارت کے لیے مالی سال کی EB-3 ویزا تعداد بھی ختم ہونے والی ہے
یعنی بھارتی آئی ٹی کارکن کے لیے مسئلہ اب دو سطحوں پر ہے
پہلا مسئلہ،امریکا میں نئی ملازمت کے لیے H-1B حاصل کرنا پہلے کے مقابلے میں مشکل اور مہنگا ہوگیا ہے
دوسرا مسئلہ،H-1B حاصل کرکے امریکا پہنچنے کے بعد مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ کے لیے بھارتی درخواست گزار کو کئی سال پر محیط بیک لاگ، سالانہ کوٹے اور ترجیحی تاریخوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے
اور یہی وہ نکتہ ہے جسے صرف ’’H-1B پر پابندی‘‘ یا ’’گرین کارڈ پر پابندی‘‘ کہہ کر بیان کرنا حقیقت کو بہت سادہ بنا دیتا ہے
پابندی مکمل نہیں، مگر راستہ سکڑ گیا ہے
امریکا اب بھی بھارتی آئی ٹی ماہرین کو H-1B دے رہا ہے، لیکن نئی بھرتیوں کے اعداد میں کمی، بھارتی آئی ٹی کمپنیوں کے نئے H-1B منظوریوں میں نمایاں گراوٹ، اضافی مالی بوجھ، سخت جانچ پڑتال اور گرین کارڈ کے کوٹے بار بار ختم ہونے سے یہ راستہ پہلے جیسا آسان نہیں رہا
مالی سال 2025 میں سات بڑی بھارتی آئی ٹی کمپنیوں کے نئے H-1B منظوریوں کا تقریباً 37 فیصد سالانہ گرنا اس تبدیلی کی ایک واضح علامت ہے
اس پوری صورتحال کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ اگر بھارت امریکا کے لیے ہنرمند ٹیکنالوجی کارکنوں کا سب سے بڑا ذریعہ ہے تو کیا بڑھتی ہوئی لاگت اور طویل گرین کارڈ انتظار کے باعث امریکی کمپنیاں مستقبل میں انہی ماہرین کو امریکا لانے کے بجائے انہیں بھارت یا دوسرے ممالک میں رکھنا شروع کردیں گی؟
اور اگر ایسا ہوا تو اس کا اثر صرف بھارتی کارکنوں پر نہیں بلکہ امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں، بھارتی آئی ٹی صنعت اور امریکا میں پہلے سے موجود ہزاروں H-1B خاندانوں کے مستقبل پر بھی پڑ سکتا ہے
فی الحال حقیقت یہی ہے: H-1B بند نہیں ہوا، گرین کارڈ بھی بند نہیں ہوا، لیکن بھارتیوں کے لیے دونوں راستوں پر دباؤ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے





