جس ملک کے 2.51 کروڑ بچے اسکول سے باہر ہوں، وہاں 30 بلٹ پروف گاڑیوں پر 6.6 ارب روپے کیوں؟ ایک گاڑی کی قیمت 22 کروڑ!

جس ملک کے 2.51 کروڑ بچے اسکول سے باہر ہوں، وہاں 30 بلٹ پروف گاڑیوں پر 6.6 ارب روپے کیوں؟ ایک گاڑی کی قیمت 22 کروڑ!

پاکستان جیسے شدید معاشی دباؤ کا شکار ملک میں حکومت نے ستمبر 2027 میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے لیے 30 بلٹ پروف گاڑیاں خریدنے کی خاطر 6.6 ارب روپے کی منظوری دے دی ہے۔ ابتدائی طور پر 50 سے زائد گاڑیوں کے لیے 12.6 ارب روپے مانگے گئے تھے، تاہم اقتصادی رابطہ کمیٹی نے فی الحال 30 گاڑیوں کی خریداری کی منظوری دی۔ سرکاری حساب کے مطابق ہر گاڑی پر اوسطاً تقریباً 22 کروڑ روپے خرچ ہوں گے
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 2.51 کروڑ بچے اسکول سے باہر ہیں۔ اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے کے مطابق پاکستان دنیا میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر ہے اور اس عمر کے تقریباً 35 فیصد بچے تعلیم حاصل نہیں کر رہے
یہ صرف اعداد نہیں بلکہ 2.51 کروڑ بچوں کا مستقبل ہے ایک طرف لاکھوں خاندان اپنے بچوں کی فیس، کتابیں، یونیفارم اور روزمرہ خوراک کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہیں، دوسری طرف ایک سرکاری اجلاس کے لیے ایک گاڑی پر کروڑوں روپے خرچ کرنے کا فیصلہ سوال اٹھاتا ہے کہ قومی ترجیحات آخر طے کون کرتا ہے
6.6 ارب روپے اگر 22 کروڑ روپے فی گاڑی کے حساب سے 30 گاڑیوں پر خرچ ہوں گے تو یہ رقم صرف نمائشی یا حفاظتی ضرورت نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کے لیے ایک بڑا مالی فیصلہ ہے جہاں بنیادی انسانی ضرورتیں ابھی بھی پوری نہیں ہو رہیں صرف موازنہ کی خاطر، اسی رقم کو اگر 10 ہزار روپے کے تعلیمی وظیفے کی صورت میں استعمال کیا جائے تو 6.6 لاکھ بچوں کو ایک سال کے لیے مدد دی جاسکتی ہے
پاکستان پہلے ہی قرضوں کے بھاری بوجھ تلے دبا ہوا ہے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2026 کے اختتام پر پاکستان کے ذمے اس ادارے کے قرضوں کی واجب الادا رقم ہی تقریباً 7.14 ارب ایس ڈی آر تھی، جبکہ 2026 میں پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو مختلف مدوں میں تقریباً 550 ملین ایس ڈی آر کی ادائیگیاں متوقع تھیں
مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ حکومت کو اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے مسلسل قرض لینے کی ضرورت پڑتی ہے وزارت خزانہ کا اپنا سالانہ قرض گیری منصوبہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ حکومت کو مالی سال کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر اندرونی اور بیرونی قرضوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے
ایسے میں سوال یہ نہیں کہ غیر ملکی سربراہان کی سکیورٹی ضروری ہے یا نہیں۔ یقیناً اہم عالمی رہنماؤں کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے اصل سوال یہ ہے کہ کیا 30 مہمانوں کے لیے 6.6 ارب روپے کی گاڑیاں خریدنا ہی سب سے مناسب، کفایتی اور قومی مفاد کے مطابق راستہ تھا؟ کیا موجودہ سرکاری گاڑیوں، سکیورٹی انتظامات یا کرائے کے محفوظ ذرائع سے یہی مقصد کم خرچ میں حاصل نہیں کیا جاسکتا تھا؟
ایک اور سوال یہ ہے کہ جب حکومت کے پاس وسائل محدود ہوں تو ترجیح کس کو ملنی چاہیے؟ ایک ایسی گاڑی جس کی قیمت تقریباً 22 کروڑ روپے ہو، یا وہ اسکول جس میں بچے آج بھی مناسب کلاس روم، فرنیچر، کتابوں اور بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں؟
پاکستان میں غذائی قلت بھی ایک سنگین مسئلہ ہے صرف 2025 میں اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے کے مطابق 3.04 لاکھ بچوں کا شدید غذائی قلت کا علاج کیا گیا یہ اعداد اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ملک کے لاکھوں بچے اب بھی بنیادی ضروریات کے لیے مدد کے محتاج ہیں
حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ گاڑیاں عالمی سطح کے سربراہ اجلاس میں شریک سربراہان مملکت کی محفوظ نقل و حرکت کے لیے درکار ہیں اور اجلاس پاکستان کی میزبانی میں ستمبر 2027 میں ہوگا اقتصادی رابطہ کمیٹی نے مزید گاڑیوں کی ضرورت پر تفصیلی جائزہ لینے کی ہدایت بھی کی ہے
لیکن عوام کے لیے اصل سوال شاید اس سے کہیں بڑا ہے
کیا ایک ایسے ملک میں جہاں 2.51 کروڑ بچے اسکول سے باہر ہیں، جہاں حکومت قرض لے کر اپنے اخراجات چلاتی ہے اور جہاں لاکھوں خاندان بنیادی ضروریات کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، ریاست کی کامیابی اس بات میں ہے کہ وہ کتنی مہنگی بلٹ پروف گاڑیاں خرید سکتی ہے، یا اس بات میں کہ وہ کتنے بچوں کو اسکول پہنچا سکتی ہے؟

قومی خبریں سے مزید