ستمبر کو دہلی میں دو متضاد سیاسی منظرنامے، مسلمانوں کی آئینی مہم اور مودی کی سالگرہ کی تقریبات آمنے سامنے
نئی دہلی میں 17 ستمبر ایک غیر معمولی سیاسی دن بننے جا رہا ہے،اسی روز آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ جنتر منتر سے ’’تحفظِ دستور و شریعت‘‘ کی ملک گیر مہم شروع کرے گا، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور حکومت وزیراعظم نریندر مودی کی سالگرہ اور عوامی زندگی کے 25 سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں ایک ماہ طویل ’’سیوا سنکلپ ابھیان‘‘ شروع کرنے کی تیاری کررہی ہے
مسلم پرسنل لا بورڈ کی تین ماہ تک جاری رہنے والی مہم کا مرکز یکساں سول کوڈ، مذہبی آزادی، مسلم شخصی قوانین اور آئینی حقوق کا تحفظ ہے،بورڈ کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں اجتماعات، سیمینار اور پرامن احتجاج کے ذریعے عوامی رائے ہموار کی جائے گی اور صدرِ جمہوریہ کو مطالبات کا چارٹر پیش کیا جائے گا
اس مہم پر مسلم برادری کے اندر سے بھی سوال اٹھے ہیں،پسماندہ مسلم رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مذہبی نعروں کے گرد ایسی مہم انتخابی ماحول میں فرقہ وارانہ پولرائزیشن بڑھا سکتی ہے اور مسلمانوں کے روزگار، تعلیم اور سماجی ترقی جیسے مسائل پس منظر میں جا سکتے ہیں
دوسری طرف مودی کی سالگرہ 17 ستمبر سے 17 اکتوبر تک جاری رہنے والی حکومتی اور جماعتی سرگرمیوں کا نقطۂ آغاز ہوگی،دہلی میں خون کے عطیات، صفائی مہم، فلاحی سرگرمیوں، حکومتی منصوبوں کی تشہیر اور عوامی تقریبات کا پروگرام بنایا گیا ہے، جبکہ بی جے پی اسے مودی کے 25 سالہ عوامی سفر اور حکمرانی کی کامیابیوں کو اجاگر کرنے کا موقع قرار دے رہی ہے
یوں 17 ستمبر کو دارالحکومت میں دو بالکل مختلف سیاسی پیغامات ایک ہی وقت میں نمایاں ہوں گے،ایک طرف حکومت اور بی جے پی مودی کے 25 سالہ سیاسی سفر اور فلاحی کارکردگی کو اجاگر کریں گی، جبکہ دوسری طرف مسلم پرسنل لا بورڈ آئینی حقوق، مذہبی آزادی اور مسلم شخصی قوانین کے تحفظ کے لیے جنتر منتر دلی سے ملک گیر تحریک کا آغاز کرے گا،یہ اتفاقِ وقت آنے والے مہینوں میں بھارت کی مذہبی اور انتخابی سیاست کے لیے خاص اہمیت اختیار کر سکتا ہے





