نیپال، تبت سیلاب: چین پر معلومات چھپانے کا الزام، بیجنگ کا جواب، ’’افواہوں‘‘ کے خلاف کارروائی کا دفاع
نیپال اور تبت میں تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد چین ایک بار پھر معلومات پر سخت کنٹرول کے الزامات کی زد میں ہے،رطانوی اخبار گارڈین کے مطابق تبتی علاقوں میں تباہی، لاپتا افراد اور ہلاکتوں سے متعلق معلومات تک آزادانہ رسائی محدود کی گئی اور سوشل میڈیا پر سرکاری مؤقف سے مختلف اطلاعات کو ہٹایا گیا، جس سے متاثرہ خاندانوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے
گارڈین کی تازہ رپورٹ میں ایسے تبتی خاندانوں کا ذکر کیا گیا ہے جو چین کے زیر انتظام تبت میں موجود اپنے عزیزوں کے بارے میں کئی دن گزرنے کے باوجود واضح معلومات حاصل نہیں کر سکے،رپورٹ کے مطابق چین کی وسیع تر ’’کلین انٹرنیٹ‘‘ مہم، جو ابتدا میں سائبر جرائم اور ہیکنگ کے خلاف کارروائی کے لیے پیش کی گئی تھی، اب ایسے آن لائن مواد تک بھی پھیل چکی ہے جسے حکام سرکاری بیانیے سے متصادم یا غیر مصدقہ سمجھتے ہیں
چینی حکام تاہم اس تاثر کو مسترد کرتے ہیں کہ وہ محض تباہی کی اصل صورتحال چھپا رہے ہیں،بیجنگ کا مؤقف ہے کہ سیلاب کے بعد سوشل میڈیا پر ہلاکتوں اور لاپتا افراد کے بارے میں بڑے پیمانے پر غیر مصدقہ اور مبالغہ آمیز اعداد و شمار پھیلائے گئے، جنہیں روکنا ضروری تھا،چینی حکام نے ایسے افراد کے خلاف کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ مقصد افواہوں اور غلط معلومات کو پھیلنے سے روکنا اور امدادی سرگرمیوں کے دوران عوامی نظم برقرار رکھنا تھا،چین نے لاپتا غیر ملکی شہریوں کے بارے میں بھی اعداد و شمار جاری کیے اور کہا کہ متاثرہ علاقوں میں تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں
چین کا کہنا ہے کہ اس نے معلومات چھپانے کے بجائے صورت حال کے بارے میں باقاعدہ سرکاری اپ ڈیٹس فراہم کی ہیں اور غیر ملکی حکومتوں کے ساتھ تعاون بھی کیا جا رہا ہے،،تاہم لاپتا افراد کے خاندانوں اور بعض غیر ملکی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ انہیں اب بھی اہم معلومات، خصوصاً لاپتا افراد کی شناخت اور تلاش کے عمل کے بارے میں مکمل تفصیلات نہیں مل رہیں
اس تنازعے نے چین کی ’’کلین انٹرنیٹ‘‘ پالیسی پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں،ناقدین کا کہنا ہے کہ قدرتی آفت کے دوران آزاد اور بروقت معلومات تک رسائی امدادی کارروائیوں اور متاثرہ خاندانوں کے لیے بنیادی ضرورت ہے، جبکہ چین کا مؤقف ہے کہ غیر مصدقہ اطلاعات کو روکنا ریاست کی ذمہ داری ہے،صحافیوں کی عالمی تنظیم رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے بھی خبردار کیا ہے کہ غیر واضح اور تاخیر سے فراہم کی جانے والی سرکاری معلومات افواہوں اور غلط اطلاعات کے پھیلاؤ کو مزید بڑھا سکتی ہیں





