پی ٹی آئی، کشمیریوں کا خوف ، وزیراعظم کا پاکستانی امریکن کمیونٹی سے ملاقات کے لئیے تقریب کا پروگرام ملتوی

پی ٹی آئی، کشمیریوں کا خوف ، وزیراعظم کا پاکستانی امریکن کمیونٹی سے ملاقات کے لئیے تقریب کا پروگرام ملتوی
رپورٹ :آفاق فاروقی
وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے موقع پر پاکستانی امریکی کمیونٹی کے لیے مجوزہ عشائیے کی تقریب ملتوی کر دی ہے، اسلام آباد کے انتہائی اہم سرکاری ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ امریکہ میں مقیم پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کے میں حکومت سے متعلق بڑھتی ہوئی سیاسی بے چینی اور ممکنہ عوامی ردعمل کے خدشات کے پیش نظر کیا گیا
ذرائع کے مطابق مذکورہ پروگرام پر غور کرنے کے لیے وزیراعظم کی نگرانی میں قائم اوورسیز پاکستانیوں سے متعلق کمیٹی کا اجلاس 7 ستمبر کو ہوا، جس میں کمیونٹی عشائیے کے انعقاد کے لیے جاری تیاریوں کو روکنے کا فیصلہ کیا گیا،اس کمیٹی میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار جو مسلم لیگ ن اوورسیز کے بھی انچارج ہیں ، اور وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانی چوہدری شجاعت کے صاحبزادے چوہدری سالک حسین سمیت متعدد اہم وفاقی حکام شامل ہیں
وزیراعظم کی خواہش تھی کہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے دوران نیویارک میں قیام کے موقع پر پاکستانی امریکی کمیونٹی کے نمائندوں سے ملاقات کی جائے، تاہم سفارتی سطح پر ملنے والی رپورٹس میں انہیں کسی بڑے عوامی اجتماع سے گریز کا مشورہ دیا گیا،ذرائع کے مطابق نیویارک میں پاکستانی سفارتی حکام، بالخصوص قونصلر جنرل اور دیگر متعلقہ ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات میں کمیونٹی کے ممکنہ ردعمل کے بارے میں تحفظات ظاہر کیے گئے تھے
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ میں موجود تحریک انصاف کے حامیوں میں عمران خان کی مسلسل قید اور موجودہ حکومتی پالیسیوں کے حوالے سے شدید ناراضگی پائی جاتی ہے، اسی طرح امریکہ میں مقیم کشمیریوں اور پاکستانی کمیونٹی کے حلقوں میں آزاد کشمیر کی حالیہ صورت حال اور وہاں ہونے والے اقدامات پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے
ذرائع کے مطابق نئے صوبوں اور نئے انتظامی یونٹس کے حوالے سے جاری بحث نے بھی بیرون ملک پاکستانی کمیونٹی میں سوالات اور بے چینی پیدا کی ہے،ایسے وقت میں جب پاکستان کو دہشت گردی، انتہاپسندی، معاشی مشکلات اور سیاسی و سماجی کشیدگی جیسے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، حکومت کے لیے کسی بڑے کمیونٹی اجتماع کا انعقاد غیر متوقع سیاسی ردعمل کا باعث بن سکتا تھا
سرکاری ذرائع کے مطابق سفارتی مشوروں کے ساتھ نیویارک سے موصول ہونے والی دیگر رپورٹس میں بھی اسی نوعیت کے خدشات سامنے آئے، جس کے بعد وزیراعظم سے متعلق کمیٹی نے کمیونٹی عشائیے کی تجویز پر مزید پیش رفت روکنے کا فیصلہ کیاہے
یوں وزیراعظم کا پاکستانی امریکی کمیونٹی سے براہ راست بڑے اجتماع میں ملاقات کا منصوبہ فی الحال مؤخر کر دیا گیا ہے،تاہم ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے نیویارک میں قیام کے دوران کمیونٹی کے بعض نمائندوں سے محدود یا غیر رسمی ملاقات کے امکانات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، جن میں امریکن پاکستانی ڈاکٹرز ایسوسی ایشن APPNA کے صدر بابر راؤ کے اصرار پر وزیراعظم نے اپنا کے صدر کی سربراہی میں اپنا کے وفد سے ملاقات پر رضامندی ظاہر کر دی ہے جبکہ ، وزیراعظم نیویارک اور امریکہ میں مسلم لیگ ن کے مقامی بچے کھچُے کارکنوں اور رہنماؤں سے بھی حسب روایت ملیں گے
وزیراعظم شہباز شریف کا 20 ستمبر کی شام گئے لندن سے نیویارک پہنچنے کا امکان ہے، جہاں وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کریں گے،پاکستان کے وزیراعظم کا عمومی مباحثے سے خطاب 25 ستمبر کو متوقع ہے، جس کے فوری بعد وزیراعظم حسب روایت امریکہ میں اپنے فرنٹ مین اور سابق سینٹر کیپٹن ریٹائرڈ خالد شاہین کے گھر واقع نیوجرسی ، اپنے اعزاز میں دیئے گئے عشائیے شرکت کریں گے اور امکان کے اسُی روز وہیں نیورک ائرپورٹ سے واپس پاکستان چلے جائیں گے ، جبکہ اقوام متحدہ میں سالانہ اجلاس کے موقع پر اعلیٰ سطحی عمومی مباحثے کا آغاز 22 ستمبر کو برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا کے خطاب سے ہوگا، جس کے بعد روایتی ترتیب کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خطاب کریں گے، اور اسی روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لئیے آئے تمام ممالک کے سربراہان کو ڈنر دیں گے ، یہاں واضع رہے
پاکستانی حکمرانوں کی جانب سے امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے بڑے اجتماعات میں شرکت کوئی نئی روایت نہیں،ماضی میں جنرل پرویز مشرف، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف سمیت متعدد پاکستانی صدور اور وزرائے اعظم ایسے مواقع پر پاکستانی امریکیوں سے براہ راست ملاقاتیں کرتے رہے ہیں،موجودہ دورے میں اس روایت سے ممکنہ طور پر گریز اس بات کی علامت ہے کہ حکومت کو امریکی پاکستانی کمیونٹی کے موجودہ سیاسی مزاج اور ممکنہ ردعمل کے بارے میں غیر معمولی احتیاط کا سامنا ہے

قومی خبریں سے مزید