امریکہ میں امیگریشن کا نیا سخت مرحلہ، گرین کارڈ اور پناہ کے درخواست گزاروں کے لیے اہم تبدیلیاں سامنے آگئیں
واشنگٹن :امریکہ میں مقیم تارکین وطن اور مستقبل میں گرین کارڈ حاصل کرنے کے خواہش مند افراد کے لیے امیگریشن نظام میں ایک اہم تبدیلی 18 ستمبر 2026 سے نافذ ہونے جا رہی ہے، جس کے اثرات خاص طور پر ان افراد پر پڑ سکتے ہیں جو امریکہ میں مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کے لیے درخواست دے رہے ہیں
امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز نے اعلان کیا ہے کہ وفاقی حکومت امیگریشن درخواستوں میں ’’پبلک چارج‘‘ کے جائزے کا دائرہ وسیع کر رہی ہے،نئی پالیسی کے تحت امیگریشن افسر درخواست گزار کی مالی حالت اور مستقبل میں سرکاری مدد پر انحصار کے امکانات کا پہلے سے زیادہ وسیع پیمانے پر جائزہ لے سکیں گے،نئی حتمی ضابطہ کاری 18 ستمبر 2026 سے نافذ ہوگی
اس تبدیلی کا مطلب یہ نہیں کہ امریکہ میں سرکاری سہولت حاصل کرنے والا ہر شخص خود بخود گرین کارڈ سے محروم ہوجائے گا،اصل معاملہ یہ ہے کہ مستقل رہائش یا بعض دیگر امیگریشن فوائد کے لیے درخواست دینے والے شخص کی مجموعی مالی اور خاندانی صورتحال کا جائزہ زیادہ سخت انداز میں لیا جا سکتا ہے
حکومت کے مطابق افسران درخواست گزار کے متعلقہ حالات کو مجموعی طور پر دیکھیں گے،اس میں آمدنی، مالی وسائل، خاندان، عمر، صحت، تعلیم اور ملازمت جیسے عوامل اہم ہو سکتے ہیں،نئی پالیسی سابقہ حکومت کے اس ضابطے کو ختم کرتی ہے جس نے ’’پبلک چارج‘‘ کے جائزے میں بعض سرکاری فوائد کے استعمال کو محدود کردیا تھا
گرین کارڈ رکھنے والوں کے لیے ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے
صرف گرین کارڈ ہولڈر ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ نئی پالیسی کے تحت اس کا گرین کارڈ ختم ہوجائے گا،یہ تبدیلی بنیادی طور پر ان امیگریشن درخواستوں سے متعلق ہے جن میں ’’پبلک چارج‘‘ کا قانونی جائزہ لاگو ہوتا ہے،اس لیے پہلے سے گرین کارڈ رکھنے والے افراد کو صرف اس خبر کی بنیاد پر یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ان کی مستقل رہائش خود بخود خطرے میں پڑ گئی ہے
لیکن وہ لوگ جو امریکہ کے اندر رہتے ہوئے گرین کارڈ کے لیے درخواست دے رہے ہیں، یا مستقبل قریب میں درخواست دینے والے ہیں، ان کے لیے یہ تبدیلی خاصی اہم ہے
دوسری بڑی پیش رفت پناہ کے درخواست گزاروں سے متعلق ہے
امریکی امیگریشن سروسز نے جولائی 2026 میں ایک عبوری ضابطہ نافذ کیا جس کے تحت بعض حالات میں امیگریشن افسر کسی پناہ کی درخواست کو باقاعدہ پناہ کے انٹرویو کے بغیر ہی امیگریشن عدالت کو بھیج سکتا ہے،اس تبدیلی کا مقصد بعض مقدمات کو زیادہ تیزی سے امیگریشن عدالت کے نظام میں منتقل کرنا ہے،امیگریشن وکلا کی تنظیم کے مطابق یہ ضابطہ 28 جولائی 2026 سے مؤثر ہے اور اس پر عوامی اعتراضات جمع کرانے کی آخری تاریخ 28 ستمبر 2026 ہے
یہ تبدیلی ان ہزاروں افراد کے لیے اہم ہے جنہوں نے امریکہ میں پناہ کی درخواستیں جمع کر رکھی ہیں اور طویل عرصے سے فیصلے کے منتظر ہیں،اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ پناہ کی درخواست زیر التوا ہونے کے باوجود مقدمہ ایک مرحلے پر امیگریشن عدالت میں منتقل ہوسکتا ہے، جہاں درخواست گزار کو اپنی قانونی پوزیشن کا دفاع کرنا پڑ سکتا ہے
ایک اور انتہائی اہم معاملہ سالانہ پناہ فیس کا ہے
امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز کے مطابق وہ شخص جس کی پناہ کی درخواست مخصوص مدت سے زیر التوا رہی ہے، سالانہ پناہ فیس ادا کرنے کا پابند ہوسکتا ہے،تاہم ایک وفاقی عدالت نے 5 اگست 2026 کو اس فیس کی عدم ادائیگی کے بعض نتائج پر عمل درآمد روک دیا ہے،اس کے نتیجے میں جن پناہ کے درخواست گزاروں سے فیس کی ادائیگی رہ گئی تھی، ان کے لیے ادائیگی کا نظام دوبارہ کھول دیا گیا ہے
یہ نقطہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ بہت سے پناہ کے درخواست گزار یہ سمجھ سکتے ہیں کہ فیس ادا نہ کرنے سے ان کی درخواست فوری طور پر ختم ہوگئی ہے؟موجودہ عدالتی حکم کے تحت صورتحال اتنی سادہ نہیں ہے، اور متعلقہ افراد کو اپنے مقدمے کی مخصوص صورتحال دیکھنا ضروری ہے
غیر قانونی طور پر امریکہ میں موجود افراد کے لیے صورتحال مزید حساس ہے
امریکی حکومت کی موجودہ پالیسی میں اندرون ملک امیگریشن قوانین کے نفاذ پر خاص زور دیا جا رہا ہے،امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ کے اعداد و شمار اور حالیہ کارروائیوں سے واضح ہے کہ اندرون ملک گرفتاریوں اور ملک بدری کی سرگرمیاں جاری ہیں
خاص طور پر وہ شخص جس کے خلاف پہلے ہی ملک بدری کا حکم موجود ہو، جس نے عدالت میں پیشی کا حکم نظر انداز کیا ہو یا جس کا امیگریشن مقدمہ منفی فیصلے کے بعد حتمی مرحلے میں پہنچ چکا ہو، اسے موجودہ ماحول میں زیادہ خطرہ درپیش ہوسکتا ہے
اس کے برعکس صرف یہ کہنا کہ ’’جس نے پناہ کی درخواست دے رکھی ہے اسے گرفتار نہیں کیا جاسکتا‘‘ بھی درست نہیں،ہر شخص کی قانونی حیثیت، درخواست کی نوعیت، عدالت میں مقدمے کی حالت اور کسی سابقہ ملک بدری کے حکم کو الگ سے دیکھنا ضروری ہے
امریکہ آنے کے خواہش مند افراد کے لیے بھی ایک اہم تبدیلی پہلے ہی سامنے آچکی ہے
امریکی حکومت نے رواں سال امیگریشن اور ویزا نظام میں کئی ایسی تبدیلیاں کی ہیں جن کے نتیجے میں قانونی امیگریشن بھی پہلے کے مقابلے میں زیادہ سخت جانچ پڑتال سے گزر رہی ہے،تازہ اعداد و شمار کے مطابق قانونی امیگریشن میں بھی پالیسی تبدیلیوں اور انتظامی تاخیر کے باعث نمایاں خلل آیا ہے
اس لیے بیرون ملک موجود وہ افراد جو امریکہ آنے کے لیے خاندانی امیگریشن، ملازمت، گرین کارڈ یا دیگر راستوں پر انحصار کر رہے ہیں، انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ موجودہ امریکی نظام میں صرف درخواست جمع کر دینا کافی نہیں، بلکہ مالی حیثیت، دستاویزات، امیگریشن تاریخ اور قانونی اہلیت کی جانچ پہلے کے مقابلے میں زیادہ اہم ہوگئی ہے
گرین کارڈ کے نئے درخواست گزاروں کے لیے 18 ستمبر 2026 ایک اہم تاریخ ہے، کیونکہ ’’پبلک چارج‘‘ سے متعلق نیا ضابطہ اسی دن نافذ ہوگا
پناہ کے درخواست گزاروں کے لیے سالانہ فیس کا معاملہ ابھی عدالتی کارروائی کے زیر اثر ہے، اور بعض افراد جن سے فیس کی ادائیگی رہ گئی تھی، انہیں دوبارہ ادائیگی کا موقع دیا گیا ہے
پناہ کے بعض مقدمات میں اب پناہ افسر کو انٹرویو کیے بغیر کیس امیگریشن عدالت بھیجنے کا اختیار دیا گیا ہے
اور غیر قانونی طور پر امریکہ میں موجود افراد کے لیے اندرون ملک امیگریشن نفاذ بدستور سخت ہے، اس لیے صرف امریکہ میں کئی سال سے رہنے کو قانونی تحفظ نہیں سمجھا جاسکتا
سب سے اہم بات یہ ہے کہ موجودہ امریکی امیگریشن ماحول میں ’’گرین کارڈ ہولڈر‘‘، ’’پناہ کا درخواست گزار‘‘، ’’غیر قانونی طور پر موجود شخص‘‘ اور ’’قانونی ویزا رکھنے والا شخص‘‘ چار مختلف قانونی حیثیتیں ہیں،کسی ایک پر لاگو ہونے والی نئی پالیسی کو باقی سب پر یکساں طور پر لاگو سمجھنا خطرناک ہوسکتا ہے





