جرمنی کا الارم: کیا دنیا لبرل جمہوریت سے تھک کر اکثریتی قوم پرستی اور مضبوط حکمرانوں کے دور میں داخل ہو رہی ہے؟

جرمنی کا الارم: کیا دنیا لبرل جمہوریت سے تھک کر اکثریتی قوم پرستی اور مضبوط حکمرانوں کے دور میں داخل ہو رہی ہے؟

جرمنی میں اتوار کو جو کچھ ہوا، اسے صرف ایک علاقائی انتخاب کا نتیجہ سمجھنا شاید ایک بڑی تاریخی تبدیلی کو نظر انداز کرنا ہوگا
سیکسنی انہالٹ میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت اے ایف ڈی نے تقریباً 44 فیصد ووٹ حاصل کیے،وہ مکمل اکثریت سے معمولی فاصلے پر رہ گئی، مگر دوسری جنگِ عظیم کے بعد جرمنی میں کسی انتہائی دائیں بازو کی جماعت کی یہ سب سے بڑی انتخابی کامیابی ہے،مرکزی دائیں بازو کی جماعت سی ڈی یو تقریباً 17 فیصد اور سوشل ڈیموکریٹس صرف 9 فیصد کے قریب رہے
برطانیہ کے سیاسی سائنس دان کاس مودے نے اسی لیے خبردار کیا ہے کہ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ اے ایف ڈی حکومت بنانے کے لیے چند ووٹ کم رہ گئی،ان کے نزدیک زیادہ پریشان کن حقیقت یہ ہے کہ 44 فیصد ووٹ اب بھی ایک ایسی جماعت کے حصے میں گئے جسے جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت سمجھا جاتا ہے، اور جس کی موجودگی رفتہ رفتہ سیاسی معمول بنتی جا رہی ہے
یہیں سے جرمنی کی خبر ایک بہت بڑے سوال میں تبدیل ہوجاتی ہے
آخر دنیا کے مختلف حصوں میں لوگ لبرل جمہوریت، سیکولر ریاست، سیاسی تکثیریت اور روایتی سیاسی جماعتوں سے بدظن کیوں ہوتے جا رہے ہیں؟
اور کیا ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں جہاں شہری آزادی، اقلیتوں کے حقوق اور ادارہ جاتی توازن کے مقابلے میں قوم، مذہب، شناخت اور ’’مضبوط ہاتھ‘‘ زیادہ پرکشش سیاسی نعرے بن رہے ہیں؟
جرمنی صرف جرمنی نہیں
یورپ میں یہ تبدیلی کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہی،فرانس، اٹلی، نیدرلینڈز، آسٹریا، سویڈن، پولینڈ اور دیگر ممالک میں دائیں بازو کی قوم پرست یا انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور ہوچکی ہیں،ایک حالیہ تجزیے کے مطابق یورپ میں اب تقریباً ہر 4 میں سے 1 ووٹر انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کو ووٹ دے رہا ہے، جو 1990 کی دہائی کے مقابلے میں کئی گنا اضافہ ہے
یہ محض معاشی غصے کی کہانی بھی نہیں
تحقیق بتاتی ہے کہ امیگریشن، قومی شناخت، ثقافتی تبدیلی، اشرافیہ سے بداعتمادی، جرائم، معاشی عدم تحفظ اور ریاستی اداروں کی ناکامی کے احساسات ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر ایک ایسا سیاسی ماحول پیدا کرتے ہیں جس میں ’’ہم‘‘ اور ’’وہ‘‘ کی سیاست بہت طاقتور ہوجاتی ہے
ماہر سیاسیات کاس مودے کے مطابق انتہائی دائیں بازو کی سیاست کا بنیادی تصور قوم پرستی اور مقامی باشندوں کو دوسروں پر ترجیح دینا ہے، جبکہ آمرانہ رجحان اس سیاست کو مزید طاقت دیتا ہے،ان کے مطابق مسئلہ یہ بھی ہے کہ مرکزی دھارے کی جماعتیں جب انتہائی دائیں بازو کے موضوعات اور زبان کو اپنانا شروع کردیتی ہیں تو وہ خود اس سیاست کو معمول بنانے میں مدد دیتی ہیں
اصل بحران شاید ووٹر نہیں، اعتماد کا ہے
یہاں دنیا بھر کے اعداد و شمار ایک خطرناک تصویر پیش کرتے ہیں
پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق 12 امیر جمہوری ممالک، جن میں امریکہ، جرمنی، فرانس، برطانیہ اور دیگر ممالک شامل ہیں، میں 2024-25 کے دوران اوسطاً 64 فیصد افراد نے کہا کہ وہ اپنی جمہوریت کے کام کرنے کے طریقے سے غیر مطمئن ہیں، جبکہ صرف 35 فیصد مطمئن تھے
یہ اعداد اس بات کا ثبوت نہیں کہ لوگ جمہوریت ختم کرنا چاہتے ہیں،مگر یہ ضرور بتاتے ہیں کہ جمہوری نظام کی کارکردگی پر اعتماد کمزور ہورہا ہے
اور یہی وہ خلا ہے جس میں عوام پسند اور آمرانہ سیاست داخل ہوتی ہے
جب شہری یہ سمجھنے لگیں کہ انتخابات بدلتے ہیں مگر ان کی زندگی نہیں بدلتی، حکومتیں وعدے کرتی ہیں مگر مسائل حل نہیں ہوتے، سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے لڑتی ہیں مگر مہنگائی، بے روزگاری، امیگریشن، رہائش، صحت اور سکیورٹی کے سوال برقرار رہتے ہیں، تو ’’مضبوط آدمی‘‘ کا وعدہ اچانک پرکشش ہوجاتا ہے
امریکہ سے بھارت تک ایک ہی سوال
یہ رجحان صرف یورپ کا نہیں
امریکہ میں بھی مذہب، قومی شناخت اور سیاست کے تعلق پر شدید بحث جاری ہے،2026 کے پیو سروے کے مطابق 17 فیصد امریکی بالغ چاہتے ہیں کہ وفاقی حکومت عیسائیت کو ملک کا سرکاری مذہب قرار دے، جو 2024 میں 13 فیصد تھا،تاہم اسی سروے میں واضح اکثریت نے کہا کہ مذہبی اداروں کو روزمرہ سیاست سے دور رہنا چاہیے
بھارت میں بھی جمہوریت اور مضبوط قیادت کے درمیان عوامی ترجیحات میں ایک اہم کشمکش دکھائی دیتی ہے،پیو کے ایک مطالعے میں 46 فیصد بھارتیوں نے جمہوری حکومت کو مسائل حل کرنے کے لیے بہتر قرار دیا، جبکہ 48 فیصد نے ’’مضبوط ہاتھ‘‘ رکھنے والے رہنما کو ترجیح دی،اسی تحقیق میں 2019 تک مضبوط لیڈر کی خواہش میں گزشتہ دہائی کے مقابلے میں نمایاں اضافہ بھی دکھائی دیا
اس کا مطلب یہ نہیں کہ بھارت یا امریکہ جمہوریت چھوڑنے جا رہے ہیں،بلکہ اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ جمہوریت کے اندر ہی ایسے شہری بڑھ رہے ہیں جو جمہوری اداروں سے زیادہ طاقتور قیادت پر اعتماد کرنے لگتے ہیں، مطلب strong leader or strong man
پاکستان اور بھارت میں مذہب کا سوال
جنوبی ایشیا میں مسئلہ مزید پیچیدہ ہوجاتا ہے کیونکہ یہاں سیاسی شناخت میں مذہب بھی بہت طاقتور کردار ادا کرتا ہے
پیو ریسرچ سینٹر کے 2026 کے تجزیے کے مطابق دنیا کے 25 سب سے زیادہ آبادی والے ممالک میں بھارت، مصر، پاکستان، ایران اور انڈونیشیا میں مذہب سے متعلق حکومتی پابندیوں اور سماجی کشیدگی کی سطح سب سے زیادہ تھی،یہ اعداد 2023 کی صورتحال سے متعلق ہیں
یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے
مذہبی معاشرہ اور مذہبی انتہا پسندی ایک ہی چیز نہیں
کسی معاشرے میں مذہب کی اہمیت جمہوریت کے لیے لازماً خطرہ نہیں بنتی،خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سیاسی تحریک یہ دعویٰ کرنے لگے کہ صرف ایک مذہبی، نسلی یا قومی گروہ ہی ’’اصل عوام‘‘ ہے اور باقی شہری کم تر یا مشکوک ہیں
یہی منطق یورپ میں نسل اور قومیت، بھارت میں مذہبی شناخت، امریکہ میں بعض مذہبی قوم پرستانہ تصورات اور دنیا کے دوسرے حصوں میں مختلف مذہبی و نسلی سیاست میں مختلف شکلوں سے سامنے آتی ہے
سیاسی سائنس دان پِپا نورس اور رونالڈ انگلہارٹ نے ’’ثقافتی ردعمل‘‘ کے تصور میں یہ دلیل پیش کی ہے کہ معاشرے جیسے جیسے زیادہ لبرل، سیکولر اور فرد کی آزادی پر مبنی ہوتے گئے، ان تبدیلیوں کے خلاف ایک ردعمل بھی پیدا ہوا،پرانی سماجی اقدار، قومی شناخت اور روایتی اختیار سے وابستہ گروہوں کو محسوس ہوا کہ دنیا ان کے سامنے بدل رہی ہے اور ان کی حیثیت کم ہورہی ہے
اس نظریے کی تمام تفصیلات پر ماہرین کا اتفاق نہیں، مگر ایک بات پر تحقیق کافی سنجیدہ ہے
انتہا پسند سیاست صرف غریب یا ناخوش لوگوں کی سیاست نہیں،یہ شناخت، حیثیت، ثقافتی تبدیلی اور اداروں پر اعتماد کے بحران سے بھی پیدا ہوتی ہے
یعنی ایک شخص کو صرف یہ خوف نہیں ہوتا کہ اس کی آمدنی کم ہورہی ہے
اسے یہ بھی محسوس ہوسکتا ہے کہ اس کا ملک، اس کی زبان، اس کی ثقافت، اس کا مذہب یا اس کی سماجی حیثیت اس کے ہاتھ سے نکل رہی ہے
اور سیاست دان اسی خوف کو ووٹ میں تبدیل کرنا سیکھ گئے ہیں
یہ تبدیلی اس وقت ہورہی ہے جب لوگوں کا سیاسی معلومات حاصل کرنے کا طریقہ بھی تبدیل ہوچکا ہے
روایتی سیاسی جماعتیں کئی صفحات پر مشتمل منشور پیش کرتی ہیں،سوشل میڈیا کا کامیاب سیاسی پیغام اکثر چند سیکنڈ میں ایک دشمن تلاش کرتا ہے
’’مہاجر تمہاری نوکری لے رہے ہیں۔‘‘
’’اشرافیہ تمہیں لوٹ رہی ہے۔‘‘
’’میڈیا جھوٹ بول رہا ہے”
’’عدالتیں عوام کے راستے میں ہیں”
’’صرف ہم تمہاری نمائندگی کرتے ہیں”
یہی وہ سیاسی منطق ہے جسے سیاسی سائنس دان کاس مودے نے ’’عوام بمقابلہ بدعنوان اشرافیہ‘‘ کی عوام پسندانہ تقسیم سے جوڑا ہے،انتہائی دائیں بازو میں اس کے ساتھ قوم پرستی اور آمرانہ رجحان شامل ہوجاتا ہے
یورپ نے یہ راستہ پہلے بھی دیکھا ہے
1930 کی دہائی میں معاشی بحران، قومی ذلت، سیاسی عدم استحکام، بے روزگاری اور اداروں پر اعتماد کے خاتمے نے جرمنی میں نازی ازم کے لیے جگہ پیدا کی،لیکن تاریخ کا سبق یہ نہیں کہ آج کا ہر دائیں بازو کا ووٹر نازی ہے
سبق کہیں زیادہ بنیادی ہے
جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں
جمہوریت کے ساتھ آزاد عدلیہ، آزاد صحافت، اقلیتوں کے حقوق، آئینی حدود، اقتدار کی تقسیم اور مخالف سیاسی آواز کو جائز سمجھنے کی صلاحیت بھی ضروری ہے
اسی لیے آج کی بحث میں اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کون سی جماعت دائیں بازو کی ہے اور کون سی بائیں بازو کی
اصل سوال یہ ہے
کیا وہ اقتدار میں آنے کے بعد بھی ان اداروں اور حقوق کو تسلیم کرتی ہے جو اسے شکست بھی دے سکتے ہیں؟
یہی وہ نکتہ ہے جہاں ’’انتہائی دایاں‘‘، ’’عوام پسند‘‘ اور ’’آمرانہ‘‘ سیاست ایک دوسرے سے الگ ہوتی ہے
وی ڈیم انسٹی ٹیوٹ کی 2026 کی جمہوریت رپورٹ کا جواب خاصا تشویشناک ہے،اس کے مطابق 2025 کے اختتام پر دنیا میں 92 آمرانہ اور 87 جمہوری ریاستیں تھیں اور دنیا کی تقریباً 74 فیصد آبادی آمرانہ نظاموں میں رہ رہی تھی،رپورٹ کے مطابق مغربی یورپ اور شمالی امریکہ میں بھی جمہوریت کی سطح پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصے کی کم ترین سطح تک پہنچی، جبکہ امریکہ کی جمہوری حیثیت میں نمایاں گراوٹ رپورٹ کی گئی
یہ اعداد یہ ثابت نہیں کرتے کہ لبرل جمہوریت ختم ہونے والی ہے
لیکن یہ ضرور بتاتے ہیں کہ وہ تاریخی فتح جسے 1990 کی دہائی میں تقریباً یقینی سمجھا جاتا تھا، اب یقینی نہیں رہی
شاید اصل جنگ ’’دائیں اور بائیں‘‘ کی نہیں
دنیا میں اس وقت ایک عجیب تاریخی تضاد پیدا ہوگیا ہے
لوگ جمہوریت چاہتے ہیں، مگر جمہوری حکومتوں سے ناراض ہیں
لوگ آزادی چاہتے ہیں، مگر غیر یقینی سے خوفزدہ ہیں
لوگ اپنی شناخت پر فخر کرتے ہیں، مگر دوسری شناختوں سے بڑھتی ہوئی قربت انہیں بے چین کرتی ہے
لوگ عالمی معیشت کے فوائد چاہتے ہیں، مگر عالمگیریت کے پیدا کردہ نقصان کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیار نہیں
اور سیاسی جماعتیں اس بے چینی کا جواب اکثر اصلاحات کے بجائے کسی دشمن کی نشاندہی سے دیتی ہیں
اسی لیے سیکسنی انہالٹ کا 44 فیصد محض ایک انتخابی عدد نہیں
یہ اس بڑے سوال کی ایک نئی علامت ہے جس کا جواب ابھی دنیا کے پاس نہیں
کیا 20ویں صدی کے آخر میں جس لبرل، سیکولر اور تکثیری جمہوری دنیا کو انسانی سیاسی ارتقا کی اگلی منزل سمجھا گیا تھا، وہ صرف ایک تاریخی مرحلہ تھا؟
یا یہ ایک ایسا نظام ہے جو اپنی کمزوریوں کو دور کرکے دوبارہ عوام کا اعتماد حاصل کرسکتا ہے؟
جرمنی کا انتخاب اس سوال کا جواب نہیں دیتا۔
مگر یہ ضرور بتاتا ہے کہ سوال اب ٹالنے کے قابل نہیں رہا

قومی خبریں سے مزید