چین جنگ کے میدان میں انسان نما روبوٹس اتارنے کی تیاری میں، 5 سے 10 سال میں فوجی دستوں کا حصہ بننے کا منصوبہ
چین نے انسان نما روبوٹس کو محض صنعتی یا تفریحی ٹیکنالوجی کے طور پر دیکھنے کے بجائے مستقبل کی جنگی طاقت میں تبدیل کرنے کی تیاری تیز کر دی ہے،رائٹرز کی 100 سے زیادہ چینی فوجی خریداری دستاویزات، تحقیقی مطالعات، پیٹنٹس اور سرکاری ریکارڈز کے جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ چینی فوج انسان نما روبوٹس کو میدانِ جنگ میں فوجیوں کے ساتھ استعمال کرنے کے امکانات پر عملی تحقیق کر رہی ہے
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ماہ چین میں ہونے والے عالمی انسان نما روبوٹ مقابلوں میں روبوٹس نے دوڑ، باکسنگ اور مارشل آرٹس سمیت مختلف مقابلوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا،ان مقابلوں کے صرف 2 دن بعد چینی فوج کے سرکاری اخبار نے مطالبہ کیا کہ جدید روبوٹ ٹیکنالوجی کو تجربہ گاہوں سے نکال کر فوجی تربیتی میدانوں تک پہنچایا جائے
چینی فوجی تحقیق میں ایک انتہائی اہم تصور شہری جنگ کا ہے،ایک تحقیقی منصوبے میں 6 جنگی روبوٹس پر مشتمل 2 حملہ آور ٹیموں کا تصور پیش کیا گیا ہے جو فوجیوں کے ساتھ مل کر دشمن کے قبضے میں موجود عمارت میں منزل بہ منزل داخل ہوں اور کمروں کو صاف کریں،اس منصوبے میں ایسے نظام کا تصور کیا گیا ہے جو آئندہ 5 سے 10 سال میں دستیاب ہو سکتا ہے
چین صرف روبوٹس بنانے پر توجہ نہیں دے رہا بلکہ انہیں جنگ کے قابل بنانے کے لیے دیکھنے، حرکت کرنے، چیزیں پکڑنے، راستہ پہچاننے اور مصنوعی ذہانت سے تربیت دینے والے نظام بھی تیار کر رہا ہے،جون 2026 میں چینی فوج نے انسان نما روبوٹس کے لیے کیمروں، ریڈار اور حرکتی معلومات جمع کرکے انہیں تربیتی ڈیٹا میں تبدیل کرنے والے نظام کے لیے تقریباً $300,000 مختص کیے
چینی تحقیق میں روبوٹس کو دشمن کی صفوں کے پیچھے داخل ہونے، علاقے کا نقشہ بنانے، اہداف تلاش کرنے، نگرانی اور گشت جیسے کاموں کے لیے بھی آزمایا گیا ہے،2025 میں چین کی نیشنل یونیورسٹی آف ڈیفنس ٹیکنالوجی نے ایسی مشق کرائی جس میں روبوٹ کو دشمن کی صفوں کے پیچھے پہنچ کر علاقے کی شناخت اور اہداف تلاش کرنے کا تصور آزمایا گیا
چین کی دفاعی صنعت بھی اس دوڑ میں شامل ہو چکی ہے،سرکاری دفاعی ادارے نورینکو کا فوشی نامی انسان نما روبوٹ نگرانی، گشت اور خطرناک ماحول میں کام کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے،اسے ایک انسانی آپریٹر دور بیٹھ کر بھی کنٹرول کر سکتا ہے، جس سے مکمل خودمختار روبوٹ کے مقابلے میں فوری طور پر انسانی نگرانی برقرار رکھنے کا راستہ نکلتا ہے
تاہم رائٹرز کے مطابق ابھی چین نے مسلح انسان نما روبوٹ کو باقاعدہ جنگی یونٹ میں تعینات نہیں کیا،موجودہ روبوٹس توانائی کے بہت زیادہ استعمال، محدود برداشت اور حقیقی میدانِ جنگ کے غیر متوقع حالات میں قابلِ اعتماد کارکردگی جیسے مسائل سے دوچار ہیں
اس دوڑ میں امریکہ بھی پیچھے نہیں رہنا چاہتا،امریکی فوج نے گزشتہ سال فوجی مقاصد کے لیے انسان نما روبوٹس تیار کرنے کا مقابلہ شروع کیا تھا، جنہیں نگرانی، رکاوٹیں ہٹانے، خطرناک مواد سے نمٹنے اور شہری علاقوں میں دفاعی و جارحانہ کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کے امکانات دیکھے جا رہے ہیں،لیکن روبوٹس کی صنعتی پیداوار میں چین اس وقت واضح برتری رکھتا ہے،2025 میں دنیا بھر میں بھیجے گئے انسان نما روبوٹس میں تقریباً 95 فیصد چینی ساختہ تھے
سب سے بڑا سوال ٹیکنالوجی نہیں بلکہ جنگی فیصلے کا ہے،اگر مستقبل میں کوئی روبوٹ خود یہ فیصلہ کرنے لگے کہ سامنے موجود شخص دشمن ہے یا عام شہری، یا کوئی فوجی ہتھیار ڈال چکا ہے یا نہیں، تو انسانی جنگی قوانین اور اخلاقی ذمہ داری کا مسئلہ انتہائی پیچیدہ ہو جائے گا
یعنی چین ابھی روبوٹ فوج میدان میں نہیں اتار رہا، لیکن اس نے واضح طور پر اس سمت میں قدم بڑھا دیا ہے،اگر موجودہ تحقیق کامیاب رہی تو اگلی دہائی کی جنگ میں انسانوں کے ساتھ لڑنے والے نہیں بلکہ انسانوں کی جگہ خطرناک ترین علاقوں میں بھیجے جانے والے مشینی سپاہی ایک حقیقت بن سکتے ہیں





