پاکستان میں بچوں کی غذائی قلت سنگین، 2 دہائیوں میں قد کی کم نشوونما میں معمولی کمی

پاکستان میں بچوں کی غذائی قلت سنگین، 2 دہائیوں میں قد کی کم نشوونما میں معمولی کمی

دنیا بھر میں بچوں میں غذائی قلت اور کم قد کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے، لیکن جنوبی ایشیا، خصوصاً پاکستان، اس پیش رفت سے اب بھی بہت پیچھے ہے ماہرین کے مطابق مسئلہ صرف خوراک کی کمی کا نہیں بلکہ خواتین کی غذائیت، صاف پانی، صفائی، تعلیم، صحت کی سہولیات اور غربت جیسے کئی عوامل اس بحران کو بڑھا رہے ہیں
دنیا بھر میں 2024 کے دوران 5 سال سے کم عمر تقریباً 150.2 ملین بچے کم قد کی نشوونما کا شکار تھے، جبکہ 42.8 ملین بچے شدید غذائی کمی اور 35.5 ملین بچے زائد وزن کا شکار تھے جنوبی ایشیا دنیا میں کم قد کی نشوونما سے متاثرہ بچوں کی سب سے بڑی تعداد رکھنے والے خطوں میں شامل ہے
پاکستان میں صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے بچوں میں کم قد کی شرح 2001 میں 41.6 فیصد تھی جو 2011 میں بڑھ کر 43.7 فیصد ہوگئی، جبکہ 2018 میں کم ہو کر 40.2 فیصد رہ گئی یوں تقریباً 2 دہائیوں کے دوران مجموعی کمی صرف 1.4 فیصد رہی
اس کے مقابلے میں بنگلہ دیش اور نیپال نے مسلسل سرمایہ کاری کے ذریعے بچوں میں کم قد کی شرح میں تقریباً 30 فیصد پوائنٹس تک کمی کی۔ سری لنکا میں یہ شرح تقریباً 16 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو خطے میں سب سے کم ہے ان ممالک نے لڑکیوں کی تعلیم، خواتین کی صحت، صفائی اور بنیادی صحت کی سہولیات کو غذائی پروگراموں کے ساتھ مربوط کیا
پاکستان میں بچوں کی غذائی حالت خراب ہونے کی بڑی وجوہات میں ماؤں کی غذائی کمی، کم وزن کے ساتھ بچوں کی پیدائش، ناکافی دودھ پلانا، آلودہ پانی، ناقص صفائی، خواتین کی کم شرح خواندگی، کم عمری کی شادیاں اور کمزور صحت کا نظام شامل ہیں
2018 کے قومی غذائی سروے کے مطابق 5 ماہ تک کی عمر کے صرف 48.4 فیصد بچوں کو مکمل طور پر ماں کا دودھ پلایا جا رہا تھا، جبکہ گھریلو پینے کے پانی کے 82.7 فیصد نمونوں میں بیکٹیریا کی آلودگی پائی گئی تھی
سیلاب اور موسمیاتی تبدیلی نے صورتحال کو مزید سنگین کردیا ہے۔ 2025 کے سیلاب سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے اور زرعی زمین کو بھی نقصان پہنچا ایک تجزیے کے مطابق رواں سال مون سون کے اختتام تک سیلاب سے متاثرہ 45 اضلاع میں 5 سال سے کم عمر 2.7 ملین سے زیادہ بچوں کو شدید غذائی قلت کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے، جن میں تقریباً 706,000 بچوں کو شدید ترین غذائی قلت کا خطرہ ہے
غذائی قلت کا معاشی نقصان بھی بہت بڑا ہے۔ پاکستان میں غذائی قلت کے باعث ہر سال 17 ارب ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان ہونے کا اندازہ ہے، جس کی وجہ کم پیداواری صلاحیت، صحت کے اخراجات اور بچوں کی ذہنی صلاحیت پر پڑنے والے منفی اثرات ہیں۔ ہر سال تقریباً 21 ملین آئی کیو پوائنٹس اور 3.3 ملین تعلیمی سال ضائع ہونے کا تخمینہ بھی پیش کیا گیا ہے
ماہرین کے مطابق غذائیت پر خرچ کیا گیا ہر 1 ڈالر تقریباً 23 ڈالر کے معاشی فوائد پیدا کرسکتا ہے اس لیے بچوں کی غذائیت کو محض صحت کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے ملکی معیشت، تعلیم اور مستقبل کی افرادی قوت سے براہ راست جوڑنا ضروری ہے
پاکستان میں بے نظیر نشوونما پروگرام کے ذریعے بھی اہم پیش رفت ہوئی ہے یہ پروگرام حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین اور 2 سال سے کم عمر بچوں کے لیے مالی معاونت، حفاظتی ٹیکوں، طبی معائنے، بچوں کی نشوونما کی نگرانی اور خصوصی غذاؤں سے منسلک ہے پروگرام اب 158 اضلاع میں 558 مراکز کے ذریعے 4.6 ملین افراد تک پہنچ چکا ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو بچوں کی زندگی کے پہلے 1,000 دنوں کو سب سے زیادہ ترجیح دینی چاہیے حاملہ خواتین کی مناسب غذا، محفوظ زچگی، مکمل دودھ پلانے، مناسب اضافی غذا، صاف پانی، بہتر صفائی، لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے پر بیک وقت توجہ دینا ہوگی
اس کے ساتھ غذائیت کے لیے الگ اور محفوظ بجٹ، سیلاب اور خشک سالی کے دوران فوری غذائی امداد، غذائی مصنوعات کے معیار پر سخت عمل درآمد اور حکومت کی مستقل سیاسی توجہ ضروری ہے ماہرین کے مطابق پاکستان کے پاس مسئلے سے نمٹنے کے لیے علم، منصوبے اور عملی تجربہ موجود ہے، اصل ضرورت انہیں مسلسل اور بڑے پیمانے پر نافذ کرنے کی ہے

قومی خبریں سے مزید