سندھ طاس معاہدے پر عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستان کے حق میں، بھارت کو بڑا قانونی دھچکا

سندھ طاس معاہدے پر عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستان کے حق میں، بھارت کو بڑا قانونی دھچکا

مستقل ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری تنازع میں پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے اہم فیصلہ جاری کر دیا ہے یہ فیصلہ 31 اگست 2026 کو سامنے آیا، جس میں واضح کیا گیا کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ اور دونوں ملکوں کے لیے پابند ہے
تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب پاکستان نے اعتراض اٹھایا کہ بھارت کی جانب سے دریائے سندھ کے مغربی دریاؤں پر 2 پن بجلی منصوبوں کی تعمیر سندھ طاس معاہدے میں موجود انجینئرنگ شرائط کی خلاف ورزی ہے پاکستان کا مؤقف تھا کہ بالائی حصے میں بنائے جانے والے یہ منصوبے پانی کے قدرتی بہاؤ کو متاثر کر سکتے ہیں اور اس کے نتیجے میں پاکستان کو پہنچنے والے پانی پر اثر پڑ سکتا ہے
بھارت نے ثالثی عدالت کے اختیار کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ قانونی تنازع نہیں بلکہ تکنیکی اختلاف ہے اور اسے غیر جانب دار ماہر کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے اس کے باوجود عدالت نے کارروائی جاری رکھی
23 اپریل 2025 کو پہلگام حملے کے بعد بھارت نے اعلان کیا تھا کہ سندھ طاس معاہدے کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔ بھارت نے پاکستان پر دہشت گردی کی حمایت کے الزامات بھی عائد کیے اور انہیں معاہدے کو روکنے کی وجوہات میں شامل کیا۔ تاہم ثالثی عدالت نے قرار دیا کہ دہشت گردی سے متعلق الزامات سندھ طاس معاہدے کے قانونی ڈھانچے سے الگ معاملہ ہیں اور انہیں معاہدے کی خلاف ورزی یا اسے معطل کرنے کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا
عدالت نے یہ بھی جائزہ لیا کہ آیا گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران حالات میں ایسی بنیادی تبدیلیاں آئی ہیں جن کی بنیاد پر معاہدہ معطل یا ختم کیا جا سکتا ہو اس سلسلے میں آبادی میں اضافہ، بھارت کی بڑھتی ہوئی صاف توانائی کی ضرورت، ڈیم بنانے کی جدید ٹیکنالوجی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے عوامل کا جائزہ لیا گیا، لیکن عدالت نے قرار دیا کہ یہ عوامل بین الاقوامی قانون کے تحت معاہدہ معطل کرنے کے لیے مطلوبہ معیار پورا نہیں کرتے
عدالت نے بھارت کی جانب سے یہ مؤقف بھی مسترد کر دیا کہ پاکستان کی جانب سے بار بار تنازع حل کرنے کے طریقہ کار سے رجوع کرنا معاہدے کی بنیادی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ سندھ طاس معاہدہ مسلح تنازع کے دوران بھی محض اس بنیاد پر معطل نہیں ہو سکتا اور یہ دونوں ملکوں کے درمیان بدستور نافذ العمل ہے
اہم بات یہ ہے کہ عدالت نے بھارت کے کارروائی میں شامل نہ ہونے کو پاکستان کے حق میں یکطرفہ فیصلہ دینے کا سبب نہیں بنایا بلکہ بھارتی مؤقف اور عوامی سطح پر پیش کیے گئے دلائل کا بھی آزادانہ جائزہ لیا۔ عدالت نے اس کے باوجود نتیجہ اخذ کیا کہ معاہدے کو معطل کرنے کے لیے بھارت کی پیش کردہ قانونی بنیادیں کافی نہیں ہیں
عدالت کی عبوری ہدایات کے تحت بھارت کے متنازع پن بجلی منصوبوں میں مزید تعمیراتی کام اور کنکریٹ کا کام روکنے کی مؤثر پابندی عائد ہو گئی ہے، جبکہ تکنیکی معاملات پر غیر جانب دار ماہر کی کارروائی جاری رہے گی اس دوران ایسے اقدامات سے گریز کرنا ہوگا جو جاری کارروائی کو متاثر کریں یا زمینی صورتحال کو تبدیل کر دیں
یہ فیصلہ پاکستان کے لیے اس لحاظ سے انتہائی اہم ہے کہ عالمی قانونی فورم نے واضح کر دیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ سیاسی اختلافات یا دہشت گردی کے الزامات کی بنیاد پر یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا۔ تفصیلی فیصلہ سامنے آنے کے بعد اس کے مزید قانونی اور عملی اثرات واضح ہوں گے

قومی خبریں سے مزید