11 کے بعد کینیڈا نے امریکہ کا جس طرح ساتھ دیا، امریکی سفارت کار آج بھی اسے یاد کرتے ہیں
امریکی سفارت کار بیکسٹر ہنٹ نے 9/11 کے دہشت گرد حملوں کے 25 سال مکمل ہونے کے موقع پر کینیڈا کی جانب سے مشکل کی گھڑی میں امریکہ کے ساتھ کھڑے ہونے کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دن آج بھی ان کے ذہن میں پوری طرح محفوظ ہے
ہنٹ کے مطابق وہ حملوں کے اگلے روز اوٹاوا میں امریکی سفارت خانے پہنچے تو عمارت کے باہر پھولوں کا ایک بہت بڑا ڈھیر موجود تھا۔ ان کے بقول کینیڈین عوام کی جانب سے ملنے والی ہمدردی، محبت اور مدد ان چیزوں میں شامل ہے جو وہ کبھی نہیں بھول سکتے۔ ہنٹ اس وقت ٹورنٹو میں امریکی قونصل جنرل ہیں
11 ستمبر 2001 کے حملوں میں تقریباً 3,000 افراد ہلاک ہوئے تھے حملوں کے فوراً بعد امریکہ میں فضائی سفر شدید متاثر ہوا اور بڑی تعداد میں بین الاقوامی پروازوں کو کینیڈا کی جانب موڑ دیا گیا۔ کینیڈا نے ان مسافروں اور طیاروں کو پناہ دی، جبکہ کئی کینیڈین شہریوں نے پھنس جانے والے مسافروں کو اپنے گھروں میں جگہ بھی فراہم کی
حملوں کے صرف 3 دن بعد اوٹاوا کی پارلیمنٹ ہل پر تقریباً 80,000 افراد جمع ہوئے اور امریکی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اس موقع پر اُس وقت کے کینیڈین وزیر اعظم ژاں کریتیان نے کہا تھا کہ کینیڈین عوام کی ہمدردی، دکھ اور مدد ان کے جذبات اور رویے کو واضح طور پر ظاہر کرتی ہے
اس واقعے کو آج بھی امریکہ اور کینیڈا کے درمیان قریبی تعلقات کی ایک نمایاں مثال کے طور پر یاد کیا جاتا ہے حملوں کے بعد دونوں ملکوں نے سرحدی سلامتی، خفیہ معلومات کے تبادلے اور دہشت گردی کے خلاف تعاون میں بھی اضافہ کیا
امریکی سفارت کار کے مطابق 9/11 کے بعد کینیڈا سے ملنے والی یکجہتی صرف حکومتی سطح تک محدود نہیں تھی بلکہ عام شہریوں نے بھی اپنے امریکی پڑوسیوں کے دکھ میں شریک ہو کر عملی مدد فراہم کی تھی





