کرپشن اور اقربا پروری کے الزامات کے دوران مرکز نے جسٹس سنجے کمار اگروال کو راجستھان ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کردیا

کرپشن اور اقربا پروری کے الزامات کے دوران مرکز نے جسٹس سنجے کمار اگروال کو راجستھان ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کردیا

بھارت کی مرکزی حکومت نے جسٹس سنجے کمار اگروال کو راجستھان ہائی کورٹ کا نیا چیف جسٹس مقرر کردیا ہے یہ تقرری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عدالت کے قائم مقام چیف جسٹس سنجیو پرکاش شرما کے خلاف کرپشن، اقربا پروری، جانبداری اور اختیارات کے مبینہ غلط استعمال کے سنگین الزامات کے باعث عدالتی حلقوں میں شدید تنازع جاری ہے
سپریم کورٹ کے جج جسٹس سندیپ مہتا نے چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت کو اپنے 2، 10 اور 17 اگست کے خطوط میں جسٹس سنجیو پرکاش شرما کے انتظامی اختیارات کے استعمال، مقدمات کی فہرست بندی اور بعض مقدمات کو مخصوص بینچوں کے سامنے منتقل کیے جانے پر شدید اعتراضات اٹھائے تھے انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ بعض بااثر اور دولت مند فریقین کو مبینہ طور پر فائدہ پہنچایا گیا اور عدالت کے انتظامی اختیارات کا غلط استعمال کیا گیا
جسٹس سندیپ مہتا نے یہ بھی مطالبہ کیا تھا کہ جسٹس شرما کو راجستھان سے منتقل کیا جائے اور کسی دوسرے ہائی کورٹ سے مستقل چیف جسٹس مقرر کیا جائے ان الزامات کے بعد جے پور اور جودھپور میں وکلا کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا اور مستقل چیف جسٹس کی تعیناتی کا مطالبہ زور پکڑ گیا
جسٹس سنجے کمار اگروال اس سے قبل چھتیس گڑھ ہائی کورٹ میں خدمات انجام دے رہے تھے سپریم کورٹ کی مجلس نے 31 اگست کو انہیں راجستھان ہائی کورٹ منتقل کرنے اور پھر وہاں چیف جسٹس مقرر کرنے کی سفارش کی تھی مرکزی حکومت نے اس سفارش کے صرف 4 روز بعد ان کی تقرری کا باضابطہ اعلان کردیا
جسٹس اگروال کو ستمبر 2013 میں چھتیس گڑھ ہائی کورٹ کا اضافی جج مقرر کیا گیا تھا جبکہ مارچ 2016 میں انہیں مستقل جج بنا دیا گیا 4 ستمبر کو چھتیس گڑھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رمیش سنہا کی ریٹائرمنٹ کے بعد جسٹس اگروال نے وہاں قائم مقام چیف جسٹس کی ذمہ داریاں بھی سنبھالی تھیں
دوسری جانب جسٹس سنجیو پرکاش شرما نے اپنے خلاف عائد تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے ان کا کہنا ہے کہ الزامات ذاتی عناد کی بنیاد پر عائد کیے گئے اور انہوں نے اپنا تفصیلی جواب ثبوتوں کے ساتھ چیف جسٹس آف انڈیا کو جمع کرا دیا ہے
چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت نے بھی واضح کیا ہے کہ کسی جج کے خلاف صرف الزامات عائد ہوجانے سے انہیں ثابت شدہ حقیقت نہیں سمجھا جاسکتا اور متعلقہ جج کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا مکمل موقع دیا جانا ضروری ہے۔ معاملہ مناسب ادارہ جاتی طریقہ کار کے تحت زیر غور ہے
جسٹس شرما ستمبر 2025 سے راجستھان ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے ہیں اور رواں ماہ ریٹائر ہونے والے ہیں جسٹس اگروال کی تقرری سے اب راجستھان ہائی کورٹ کو مستقل چیف جسٹس ملنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے، تاہم جسٹس شرما کے خلاف عائد الزامات اور انہیں راجستھان سے منتقل کرنے کے مطالبے کا معاملہ الگ ادارہ جاتی عمل کے تحت جاری رہے گا

قومی خبریں سے مزید