ہندوستان میں گزارے وہ 2 سال جنہوں نے ایک نوجوان امریکی صحافی کو گلوریا اسٹائنم بنا دیا
یہ 1950 کی دہائی کا ہندوستان ہے ، سڑکوں پر ہجوم، ریلوے اسٹیشنوں پر مسافر، گاؤں کی پگڈنڈیوں پر چلتی عورتیں، شہروں میں غربت اور ایک ایسا معاشرہ جو اپنی قدیم روایات اور ایک نئے مستقبل کے درمیان کھڑا ہے اسی ہندوستان میں ایک نوجوان امریکی عورت 2 برس تک گھومتی رہی،وہ ابھی وہ گلوریا اسٹائنم نہیں بنی تھی جسے آنے والی دنیا امریکا کی سب سے نمایاں نسوانی آوازوں میں شمار کرنے والی تھی
وہ یہاں کسی تحریک کی رہنما بن کر نہیں آئی تھی،وہ ایک نوجوان صحافی اور طالبہ تھی، جو ہندوستان کو دیکھنے، سمجھنے اور اس کے لوگوں کے درمیان رہنے آئی تھی،مگر جب وہ واپس امریکا گئی تو اس کے ساتھ صرف سفری یادیں نہیں تھیں،ہندوستان نے اس کے اندر عورت، معاشرے اور طاقت کے بارے میں ایک نئی نظر پیدا کر دی تھی
خود گلوریا اسٹائنم نے بعد میں اپنے ہندوستانی تجربے کو اپنی زندگی کی تشکیل کا بنیادی حصہ قرار دیا اور کہا کہ ہندوستان میں گزارے گئے یہ 2 برس ’’مجھے وہ بنانے میں فیصلہ کن ثابت ہوئے جو میں ہوں‘‘
1957 سے 1959 تک ہندوستان میں قیام کے دوران اسٹائنم نے صرف شہروں اور مشہور مقامات کا سفر نہیں کیا بلکہ مختلف علاقوں اور طبقات کے لوگوں کو قریب سے دیکھا،خواتین کی روزمرہ زندگی، خاندان میں ان کا کردار، غربت، طبقاتی فرق اور سماجی روایات ان کے مشاہدے کا حصہ بنتے گئے
یہیں ان کے سامنے ایک ایسا سوال بھی نمایاں ہوا جو بعد میں ان کی پوری فکری زندگی کا مرکزی سوال بن گیا،عورت کی زندگی کو آخر کون طے کرتا ہے، عورت خود یا وہ معاشرہ جو اس کے لیے کردار پہلے ہی مقرر کر چکا ہوتا ہے؟
ہندوستان نے انہیں یہ سمجھنے میں مدد دی کہ عورت کی محرومی صرف کسی ایک قانون، ایک ادارے یا ایک ملک کا مسئلہ نہیں،یہ اس سے کہیں زیادہ گہرا مسئلہ ہے جو خاندان، تعلیم، معاشی حیثیت، سماجی روایات اور لڑکوں اور لڑکیوں کی بچپن سے کی جانے والی تربیت تک پھیلا ہوا ہے
امریکا واپس پہنچنے کے بعد اسٹائنم نے صحافت کو اپنے خیالات کے اظہار کا ذریعہ بنایا اور بالآخر خواتین کے حقوق کی اس تحریک کی ایک نمایاں رہنما بن گئیں جس نے امریکی معاشرے میں عورت کے مقام پر بنیادی سوالات اٹھائے
ان کی بعد کی زندگی کو ہندوستان کے اس سفر سے الگ کر کے دیکھنا شاید ممکن نہیں،یہاں انہوں نے پہلی مرتبہ مختلف سماجی حقیقتوں کو اس فاصلے سے دیکھا جہاں اپنی ثقافت کو بھی ایک نئے آئینے میں دیکھنے کا موقع ملتا ہے
یہ تجربہ انہیں یہ سمجھنے کی طرف لے گیا کہ صنفی کردار پیدائشی تقدیر نہیں بلکہ بڑی حد تک معاشرتی تربیت کا نتیجہ بھی ہوتے ہیں،اسی لیے برسوں بعد وہ لڑکوں کی پرورش کے بارے میں یہ سوال اٹھاتی نظر آئیں کہ معاشرہ لڑکوں کو وہ جذبات، ہمدردی اور دیکھ بھال کیوں نہیں سکھاتا جنہیں روایتی طور پر لڑکیوں سے وابستہ کیا جاتا ہے
اسٹائنم کی زندگی کا یہ باب اس لیے غیر معمولی ہے کہ امریکا کی نسوانی تحریک کی ایک بڑی آواز کی فکری تشکیل کا ایک اہم حصہ امریکا سے ہزاروں میل دور ہوا،ہندوستان نے شاید انہیں کوئی تیار شدہ نظریہ نہیں دیا، مگر اس نے انہیں دیکھنے کا ایک نیا طریقہ ضرور دیا
اور یہی شاید اس سفر کی سب سے بڑی میراث تھی
ایک نوجوان امریکی صحافی ہندوستان آئی تھی
2 برس بعد وہ واپس گئی تو دنیا کو دیکھنے والی اس کی آنکھ بدل چکی تھی
آنے والی دہائیوں میں اسی بدلی ہوئی نظر نے اسے گلوریا اسٹائنم بنا دیا





