امریکا میں ویکسین سے خوف ’’عوامی تشویش‘‘ ہے تو پاکستان میں یہی خوف ’’انتہا پسندی‘‘ کیوں؟
ایک طرف پنسلوانیا کے گرجا گھروں، فائر اسٹیشنوں اور لوگوں کے گھروں میں خاموشی سے خسرے کی ویکسین لگائی جا رہی ہے،صحت کے کارکن ویکسینیشن مراکز کے پتے تک مشتہر کرنے سے گریز کر رہے ہیں تاکہ وہاں احتجاج کرنے والے یا میڈیا کے لوگ نہ پہنچ جائیں،دوسری طرف دنیا کے ایک ایسے ملک میں جہاں خسرہ جیسی بیماری کو بڑی حد تک ماضی کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، 2026 میں 3,134 کیسز سامنے آ چکے ہیں اور یہ تعداد 35 برس سے زیادہ عرصے میں سب سے بلند سالانہ سطح ہے
یہ ملک امریکا ہے
اور یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کے بارے میں ہماری روایتی گفتگو کو دوبارہ دیکھنے کی ضرورت پیدا ہوتی ہے
پاکستان میں جب پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیمیں گھر گھر جاتی ہیں تو انہیں بعض علاقوں میں صرف طبی عملے کی حیثیت سے نہیں دیکھا جاتا،ان پر شک کیا جاتا ہے، ان کے خلاف افواہیں پھیلتی ہیں، بعض اوقات انہیں مغربی سازش کا حصہ قرار دیا جاتا ہے اور کئی مواقع پر پولیو کارکنوں اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں کو مسلح حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے،1990 کی دہائی سے اب تک 200 سے زیادہ پولیو کارکن اور ان کی حفاظت پر مامور اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں
اس خوف کے پیچھے ایک انتہائی طاقتور افسانہ بھی رہا ہے کہ ویکسین دراصل بچوں کو بانجھ بنانے کی مغربی سازش ہے،سوشل میڈیا نے اس قسم کی جھوٹی اطلاعات کو مزید طاقت دی ہے اور پاکستان میں ویکسین سے انکار کی کئی لہروں کے پیچھے غلط معلومات کا کردار تحقیقی مطالعات میں بھی سامنے آیا ہے
لیکن یہاں ایک بنیادی سوال کھڑا ہوتا ہے
اگر پاکستان میں ایک شخص ویکسین کے بارے میں خوف، افواہ، مذہبی یا ثقافتی خدشات کی بنیاد پر اپنے بچے کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کرے تو ہم فوراً اسے ’’پسماندگی‘‘، ’’جہالت‘‘ یا ’’انتہا پسندی‘‘ کے خانے میں کیوں ڈال دیتے ہیں؟
اور جب امریکا میں ایک نسبتاً تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ معاشرے کے والدین ویکسین سے انکار کریں، ویکسینیشن مراکز پر احتجاج ہو، خسرہ دوبارہ بڑے پیمانے پر پھیل جائے اور صحت کے کارکنوں کو ویکسین لگانے کے لیے لوگوں کے گھروں تک جانا پڑے تو اس رویے کو عموماً ’’ویکسین ہیزیٹینسی‘‘، ’’والدین کی تشویش‘‘ یا ’’ذاتی آزادی‘‘ کی بحث میں کیوں بیان کیا جاتا ہے؟
یہاں مسئلہ امریکا یا پاکستان میں سے کسی ایک معاشرے کو موردِ الزام ٹھہرانا نہیں،اصل مسئلہ ہماری زبان کا دوہرا معیار ہے
خوف اگر کراچی، پشاور یا قبائلی علاقے میں پیدا ہو تو اسے جہالت کہا جا سکتا ہے، لیکن اگر وہ پنسلوانیا یا کسی امریکی مضافاتی علاقے میں پیدا ہو تو اسے صرف ’’اپنے جسم اور اپنے بچے کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق‘‘ کہنا مکمل تصویر نہیں
حقیقت یہ ہے کہ ویکسین سے ہچکچاہٹ ایک عالمی انسانی رویہ ہے،اس کی جڑیں صرف کم تعلیم یا غربت میں نہیں ہوتیں،اس کے پیچھے اداروں پر عدم اعتماد، ماضی کے تجربات، مذہبی یا ثقافتی تصورات، سماجی شناخت، افواہیں، سیاسی وابستگیاں اور انٹرنیٹ پر پھیلنے والی غلط معلومات سب شامل ہو سکتے ہیں
امریکا کی موجودہ صورتِ حال اس حقیقت کی ایک غیر معمولی مثال ہے،خسرہ کی ویکسین مؤثر اور طویل عرصے سے استعمال ہونے کے باوجود ویکسینیشن میں کمی نے بیماری کے دوبارہ پھیلاؤ کے لیے جگہ پیدا کی ہے،جانز ہاپکنز کے ماہرین بھی 2026 کے خسرہ کے پھیلاؤ کو برسوں سے جاری ویکسینیشن کی شرح میں کمی سے جوڑ رہے ہیں
یہ مسئلہ صرف خسرہ تک محدود بھی نہیں،حالیہ امریکی اعداد و شمار میں نومولود بچوں کو دی جانے والی وٹامن K کی خوراک سے انکار میں بھی نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے، جس کے بارے میں طبی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اس سے بچوں میں جان لیوا خون بہنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے
یہاں ایک اور اہم پہلو سامنے آتا ہے،غلط معلومات اب کسی ایک تہذیب، مذہب یا جغرافیے کی ملکیت نہیں رہی
پاکستان میں ایک افواہ واٹس ایپ کے ذریعے پھیل سکتی ہے کہ پولیو ویکسین بچوں کو بانجھ بناتی ہے،امریکا میں یہی کام کسی سیاسی شخصیت، سوشل میڈیا اثرانداز یا انٹرنیٹ کی کسی سازشی مہم کے ذریعے ہو سکتا ہے،دونوں صورتوں میں ایک ہی چیز کام کرتی ہے،سائنسی ادارے کے مقابلے میں ایک ایسی کہانی پر اعتماد جو انسان کے خوف اور شناخت سے زیادہ براہِ راست بات کرتی ہے
فرق البتہ بہت اہم ہے
پاکستان میں پولیو ویکسین کے خلاف خوف جب مسلح تنظیموں کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے اور صحت کے کارکنوں کو قتل کیا جاتا ہے تو وہ محض ’’ویکسین ہیزیٹینسی‘‘ نہیں رہتا،وہ تشدد اور دہشت گردی بن جاتا ہے،اسی طرح امریکا میں کسی ویکسین کے خلاف احتجاج یا اپنے بچے کو ویکسین نہ لگوانا بذاتِ خود دہشت گردی یا انتہا پسندی نہیں کہا جا سکتا،دونوں کے درمیان ایک اخلاقی اور قانونی لکیر موجود ہے
لیکن اس کے ساتھ یہ بھی سچ ہے کہ کسی ترقی یافتہ معاشرے میں سائنسی طور پر بے بنیاد خوف کو صرف اس لیے زیادہ قابلِ احترام نہیں بن جانا چاہیے کہ وہ ایک امیر یا تعلیم یافتہ معاشرے سے آیا ہے
پاکستانی بچے کو پولیو سے بچانے کے لیے اگر پولیس کی بندوق درکار ہو جائے تو یہ ریاست کی ناکامی، شدت پسندانہ تشدد اور عوامی اعتماد کے بحران کی انتہائی خطرناک علامت ہے،مگر جب امریکا میں صحت کے کارکنوں کو خسرہ کی ویکسین لگانے کے لیے لوگوں کے گھروں میں چھپ کر جانا پڑے تو یہ بھی عوامی اعتماد کے بحران کی علامت ہے
اصل سوال یہ نہیں کہ کون سا معاشرہ زیادہ مہذب ہے
اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے اپنے اپنے معاشروں میں سائنس، ریاست اور طبی اداروں پر اعتماد کیوں کھو دیا ہے؟
اور شاید اس سوال کا سب سے غیر آرام دہ جواب یہ ہے کہ جدید معاشرہ تعلیم یافتہ ضرور ہو سکتا ہے، مگر تعلیم یافتہ ہونا انسان کو خوف، تعصب، سازشی نظریات اور گروہی نفسیات سے خودبخود محفوظ نہیں کرتا
پنسلوانیا کی خاموش ویکسینیشن مہم اور پاکستان کی خون آلود پولیو مہم کے درمیان یہی سب سے بڑا مشترک سبق پوشیدہ ہے،ویکسین سے انکار کا مقابلہ صرف ویکسین سے نہیں کیا جا سکت،اسے اعتماد سے شکست دینا پڑتی ہے
جہاں اعتماد ختم ہو جائے وہاں ڈاکٹر مشکوک ہو جاتا ہے، ریاست دشمن نظر آنے لگتی ہے اور ایک معمولی سا حفاظتی ٹیکہ بھی کسی بڑی سازش کی علامت بن سکتا ہے
فرق صرف یہ ہے کہ ایک معاشرے میں اس خوف کا اظہار احتجاج کی صورت میں ہوتا ہے اور دوسرے میں کبھی کبھی وہ بندوق تک پہنچ جاتا ہے





