عمران خان اور بشریٰ بی بی سے متعلق عدالتی احکامات پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ
لاہور: سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے متعلق عدالتی احکامات پر فوری اور مکمل عملدرآمد کے لیے وفاقی و پنجاب حکومتوں، جیل حکام اور دیگر متعلقہ اداروں کو آئینی درخواست نما تحریری یادداشت جمع کرا دی گئی ہے
PTI سے وابستہ وکیل اظہر صدیق نے یہ درخواست جمع کرائی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ قید عمران خان اور بشریٰ بی بی کے حوالے سے عدالتوں کے احکامات پر مکمل اور مسلسل عملدرآمد ہونا چاہیے
درخواست میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے یکم ستمبر کے فیصلے اور سپریم کورٹ کے 18 اگست کے عبوری حکم پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا گیا ہے ان احکامات میں اہلِ خانہ سے ملاقات، بچوں سے رابطے، ورزش، بامعنی انسانی میل جول، اخبارات و کتابوں تک رسائی اور جیل قوانین و طبی ہدایات کے مطابق ٹی وی کی سہولت فراہم کرنے جیسے معاملات شامل ہیں
درخواست کے مطابق سپریم کورٹ نے عمران خان کو دو روز کے اندر شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی بھی ہدایت کی تھی، تاہم حکام کی جانب سے اس حکم پر عمل نہیں کیا گیا
درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالتی احکامات پر جزوی یا منتخب انداز میں عملدرآمد کے بجائے ان پر مجموعی اور مستقل طور پر عمل کیا جانا ضروری ہے اس سلسلے میں آئین کے آرٹیکلز 4، 9، 14 اور 35 کے علاوہ جیل قوانین اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے
تحریری درخواست میں خبردار کیا گیا ہے کہ عدالتی ہدایات پر مسلسل عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں عمران خان، بشریٰ بی بی اور درخواست گزار توہینِ عدالت کے اختیار کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عمران خان کے اسپتال جانے سے متعلق توہینِ عدالت کی درخواست پر سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ 16 ستمبر کو سماعت کرے گا





