ناروے کے 2.3 ٹریلین ڈالر کے آئل فنڈ نے امریکی خزانے کے بانڈز میں تقریباً 80 ارب ڈالر کی کمی کی تجویز دے دی
دنیا کے سب سے بڑے خودمختار دولت فنڈ، ناروے کے تقریباً 2.3 ٹریلین ڈالر کے آئل فنڈ نے امریکی خزانے کے بانڈز میں اپنی سرمایہ کاری تقریباً 80 ارب ڈالر کم کرنے کی تجویز دی ہے،یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی حکومتی قرض، افراط زر اور طویل مدتی شرح سود کے بارے میں عالمی سرمایہ کاروں کی تشویش بڑھ رہی ہے
ناروے کے مرکزی بینک کے سرمایہ کاری بازو نارجس بینک انویسٹمنٹ مینجمنٹ نے وزارتِ خزانہ کو سفارش کی ہے کہ فنڈ کے بانڈ پورٹ فولیو میں سرکاری بانڈز کا حصہ موجودہ 70 فیصد سے کم کرکے 50 فیصد کر دیا جائے،اس تبدیلی کا سب سے بڑا اثر امریکی خزانے کے بانڈز پر پڑے گا، جو اس پورٹ فولیو میں سب سے بڑی سرمایہ کاری ہیں
جون کے اختتام پر فنڈ کے پاس تقریباً 215 ارب ڈالر کے امریکی خزانے کے بانڈز موجود تھے،مجوزہ تبدیلی کے بعد ان میں تقریباً 80 ارب ڈالر کی کمی آئے گی،امریکی حکومتی بانڈز کا حصہ فنڈ کے متعلقہ اشاریے میں 34.1 فیصد سے کم ہو کر 21.9 فیصد رہ جائے گا
لیکن یہاں اصل کہانی صرف یہ نہیں کہ ناروے امریکہ سے پیسہ نکال رہا ہے،فنڈ مجموعی طور پر امریکی ڈالر سے پیچھے نہیں ہٹ رہا،امریکی غیر سرکاری قرض، خصوصاً رہن سے وابستہ بانڈز میں سرمایہ کاری بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے،یوں امریکی ڈالر میں مجموعی سرمایہ کاری تقریباً 52.9 فیصد سے صرف 52.5 فیصد تک کم ہوگی
یعنی ناروے کا پیغام زیادہ درست طور پر یہ ہے کہ “امریکی ڈالر سے نہیں، امریکی حکومت کے قرض سے کچھ حد تک دوری” اختیار کی جائے
فنڈ کا کہنا ہے کہ رہن سے وابستہ بعض بانڈز اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ معیاری اور زیادہ آسانی سے خرید و فروخت کیے جا سکتے ہیں اور ان میں سے کئی کو فینی مے، فریڈی میک اور جینی مے کی ضمانت حاصل ہوتی ہے، جس کے باعث ان کا قرض کا معیار امریکی حکومتی بانڈز کے قریب سمجھا جاتا ہے
یہ فیصلہ ایسے وقت میں خاص اہمیت رکھتا ہے جب عالمی بانڈ منڈی دباؤ کا شکار ہے،امریکی 10 سالہ حکومتی بانڈ کی شرح منافع حالیہ دنوں میں تقریباً 4.8 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ سرمایہ کار بڑھتے ہوئے امریکی قرض اور بجٹ خسارے کو بھی خطرے کی علامت سمجھ رہے ہیں
تاہم ناروے کا یہ قدم امریکی خزانے کے لیے فوری طور پر 80 ارب ڈالر کا نقصان یا ایک ہی دن میں فروخت نہیں ہے،یہ ایک سرمایہ کاری پالیسی کی سفارش ہے اور اگر منظور ہوئی تو تبدیلیاں بتدریج کی جائیں گی تاکہ منڈی پر غیر ضروری دباؤ اور لین دین کے اخراجات کم رہیں،حتمی فیصلہ ناروے کی وزارتِ خزانہ کرے گی
اصل اہمیت یہ ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا خودمختار دولت فنڈ امریکی حکومتی قرض کو اپنے پورٹ فولیو میں پہلے جیسی محفوظ اور منافع بخش منزل نہیں سمجھ رہا،یہ امریکی خزانے کے بانڈز سے مکمل اعتماد اٹھ جانے کی علامت نہیں، لیکن واشنگٹن کے لیے ایک واضح مالیاتی اشارہ ضرور ہے کہ دنیا کے بڑے سرمایہ کار اب بڑھتے ہوئے امریکی قرض، افراط زر اور حکومتی مالیاتی پالیسی کے خطرات کو پہلے سے زیادہ سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں





