یمن کے ساحل پر جنگی بادل: کیا مشرقِ وسطیٰ ایک نئی اور تباہ کن جنگ کی دہانے پر ہے؟

یمن کے ساحل پر جنگی بادل: کیا مشرقِ وسطیٰ ایک نئی اور تباہ کن جنگ کی دہانے پر ہے؟
صنعا / ریاض: یمن کے مغربی ساحل پر جاری حالیہ خونی جھڑپوں نے نہ صرف خطے کی سیکیورٹی کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ ایک ایسی جنگ کی یادیں تازہ کر دی ہیں جو بظاہر ختم ہوتی دکھائی دے رہی تھی،گزشتہ چند دنوں میں 120 سے زائد افراد کی ہلاکت نے عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے
یمن کی حکومت اور انصار اللہ (حوثی) کے درمیان تعز اور الحدیدہ کے محاذوں پر جاری یہ لڑائی اب اپنی شدت کے عروج پر ہے،ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ 2022 کی جنگ بندی کے بعد سے اب تک کا سب سے نازک اور خطرناک مرحلہ ہے،حوثیوں کی جانب سے جدید ڈرون اور میزائل ٹیکنالوجی کا استعمال یہ ثابت کر رہا ہے کہ ان کی عسکری صلاحیتوں میں حیران کن اضافہ ہوا ہے
سعودی، ایران تعلقات، امن کا خواب بکھر گیا؟
2023 میں چین کی ثالثی میں ہونے والے سعودی،ایران معاہدے نے امید کی کرن پیدا کی تھی، لیکن یمن کی تازہ صورتِ حال نے اس “ڈیٹینٹ” (تعلقات میں بہتری) کو شدید دھچکا پہنچایا ہے،حوثیوں کی جانب سے سعودی سرزمین پر حملے اور بحیرہ احمر میں ناکہ بندی کے اعلانات یہ واضح کرتے ہیں کہ تہران اور ریاض کے درمیان پراکسی جنگ ایک بار پھر شدت اختیار کر چکی ہے
اس تناظر میں ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدہ انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے
یہ معاہدہ صرف ایک رسمی پیشکش نہیں، بلکہ اسے خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے ایک “ڈیفنس شیلڈ” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور اب امکان ہے کہ پاکستان اور ترکی اپنی جدید عسکری ٹیکنالوجی، انٹیلیجنس شیئرنگ اور تربیت کے ذریعے سعودی عرب کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز کا جواب دیں گے،تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ اتحاد یمن میں حوثیوں کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے ایک نیا بیلنس آف پاور پیدا کرنے کی کوشش ہے
یہ لڑائی اب محض ایک مقامی تنازعہ نہیں رہی،عالمی سطح پر اس کی اہمیت کے تین بڑے پہلو ہیں
1.عالمی تجارت: دنیا کی 12 فیصد تجارت بحیرہ احمر سے گزرتی ہے،حوثیوں کی جانب سے جہازوں کو نشانہ بنانا عالمی سپلائی چین اور توانائی کی قیمتوں کو براہِ راست متاثر کر رہا ہے
2.ایران،امریکہ/اسرائیل کشیدگی،یہ جنگ 2026 کے بڑے علاقائی تنازعہ کا حصہ بن چکی ہے،یمن کا محاذ اب ایران اور مغرب کے درمیان ایک اہم ’فلیش پوائنٹ‘ ہے
3.انسانی المیہ، اقوامِ متحدہ پہلے ہی خبردار کر چکی ہے کہ 19.5 ملین سے زائد یمنی پہلے ہی انسانی امداد کے محتاج ہیں،نئی لڑائی اسے ایک بڑے انسانی بحران میں تبدیل کر سکتی ہے
مبصرین کا خیال ہے کہ آنے والے ہفتے فیصلہ کن ہوں گے،سعودی عرب کی طرف سے براہِ راست فوجی مداخلت میں تیزی، یا پھر مذکورہ دفاعی اتحاد کے زیرِ سایہ سخت فوجی جواب، خطے کو ایک “فل سکیل وار” (Full-scale War) کی طرف دھکیل سکتے ہیں،اس کھیل میں امریکہ، اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور مصر جیسے ممالک کا کردار بھی مزید نمایاں ہونے والا ہے، جس سے یمن کا میدانِ جنگ کسی بھی لمحے ایک بڑی علاقائی آگ میں تبدیل ہو سکتا ہے
یمن کے ساحل پر بہنے والا خون محض یمن کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا بارود ہے جس کی چنگاری پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے،عالمی طاقتوں کی خاموشی اور علاقائی عسکری اتحادوں کی سرگرمی یہ بتاتی ہے کہ یمن اب ایک نئی اور طویل جنگ کی طرف گامزن ہے

قومی خبریں سے مزید