امریکی ایوانِ نمائندگان نے اسرائیل کے بائیکاٹ کرنے والی جامعات کے خلاف بل منظور کر لیا
امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایک اہم بل منظور کیا ہے جس کے تحت ایسی امریکی جامعات کے وفاقی فنڈز روکنے کی راہ ہموار کی گئی ہے جو اسرائیل کے خلاف تجارتی بائیکاٹ میں حصہ لیں۔ بل کو 237 ووٹوں کے مقابلے میں 169 ووٹوں سے منظور کیا گیا۔ تاہم یہ ابھی قانون نہیں بنا؛ اسے اب سینیٹ سے بھی منظور ہونا ضروری ہے
یہ قانون، جس کا نام Protect Economic and Academic Freedom Act ہے، امریکی Higher Education Act میں تبدیلی کرے گا۔ سرکاری متن کے مطابق جن اداروں کو مخصوص وفاقی فنڈز ملتے ہیں، انہیں اسرائیل کے خلاف “nonexpressive commercial boycott” میں حصہ لینے سے گریز کرنا ہوگا، ورنہ وہ بعض وفاقی فنڈز کے لیے نااہل ہو سکتے ہیں
بل میں یہ بھی شرط شامل ہے کہ متعلقہ جامعات اس بات کی تصدیق کریں کہ طلبہ کو اسرائیل میں ہونے والے تعلیمی پروگراموں میں شرکت سے غیرمعقول طور پر نہ روکا جائے
غزہ کی جنگ کے بعد امریکہ کی کئی یونیورسٹیوں میں فلسطین کے حق میں بڑے مظاہرے ہوئے اور اسرائیل کے بائیکاٹ کی حمایت میں آوازیں بلند ہوئیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور کئی ریپبلکن ارکانِ کانگریس نے بعض احتجاجی سرگرمیوں کو یہود مخالف رویوں اور انتہا پسندی سے جوڑا، جبکہ مظاہرین کا کہنا ہے کہ فلسطینی حقوق کی حمایت اور اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں کی مخالفت کو یہود دشمنی قرار نہیں دینا چاہیے
بل زیادہ تر جماعتی بنیادوں پر منظور ہوا۔ 203 ریپبلکن ارکان، 33 ڈیموکریٹس اور ایک آزاد رکن نے حمایت کی، جبکہ صرف دو ریپبلکن ارکان نے مخالفت کی
دلچسپ بات یہ ہے کہ نیویارک کے ڈیموکریٹ رکن Jerrold Nadler خود BDS تحریک کے مخالف ہیں، لیکن انہوں نے بل کی مخالفت کی ان کا مؤقف ہے کہ انہیں BDS پسند نہ ہونے کے باوجود امریکی شہریوں کے آزادیٔ اظہار کے حق کا تحفظ کرنا چاہیے
بل کے مخالفین کا کہنا ہے کہ حکومت کو کسی یونیورسٹی کے سیاسی یا معاشی بائیکاٹ کے فیصلے کی بنیاد پر اس کی وفاقی امداد روکنے کی دھمکی دینا First Amendment، آزادیٔ اظہار اور academic freedomکے لیے خطرناک مثال بن سکتا ہے۔ بعض ناقدین یہ بھی کہتے ہیں کہ امریکہ کی زیادہ تر یونیورسٹیوں نے بحیثیت ادارہ BDS کی حمایت نہیں کی، اس لیے قانون ایک ایسے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو بڑے پیمانے پر موجود ہے
حامیوں کا کہنا ہے کہ سرکاری فنڈز لینے والی یونیورسٹیوں کو اسرائیلی طلبہ، محققین یا اداروں کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کرنا چاہیے بل کے شریک اسپانسر ڈیموکریٹ رکن Josh Gottheimer کے مطابق مقصد academic debate کو روکنا نہیں بلکہ ایسی institutional discrimination کو روکنا ہے جو وفاقی ٹیکس دہندگان کے پیسے سے چلنے والے اداروں میں ہو
ابھی کسی امریکی یونیورسٹی کی وفاقی امداد بند نہیں ہوئی۔ یہ صرف ایوانِ نمائندگان سے منظور ہونے والا بل ہے اسے پہلے سینیٹ سے منظور ہونا ہوگا، اس کے بعد ہی صدر کے دستخط کی صورت میں یہ قانون بن سکتا ہے





