بلوچستان میں سرکاری ملازمتوں کے لیے مصنوعی ذہانت کا نظام متعارف کرانے کا اعلان، ماہرین نے خطرات سے خبردار کردیا

بلوچستان میں سرکاری ملازمتوں کے لیے مصنوعی ذہانت کا نظام متعارف کرانے کا اعلان، ماہرین نے خطرات سے خبردار کردیا

بلوچستان حکومت نے آئندہ سرکاری ملازمتوں کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی بھرتی کا نظام متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے حکومت کے مطابق اس مقصد کے لیے ایک خصوصی یونٹ قائم کیا جائے گا جو امیدواروں کی جانچ اور بھرتی کے عمل میں مصنوعی ذہانت کو استعمال کرے گا، جبکہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس طریقے سے سرکاری ملازمتوں میں شفافیت اور میرٹ کو بہتر بنایا جا سکے گا
سرکاری ملازمتوں میں سیاسی دباؤ، غیر شفاف فیصلوں اور طویل تاخیر کی شکایات پہلے سے موجود ہیں اسی وجہ سے ٹیکنالوجی کے ذریعے بھرتی کا عمل تیز اور زیادہ منصفانہ بنانے کی کوشش بظاہر ایک مثبت قدم دکھائی دیتی ہے، لیکن اس کے ساتھ کئی اہم سوالات بھی پیدا ہوتے ہیں
مصنوعی ذہانت ہزاروں درخواستوں کو مختصر وقت میں جانچ سکتی ہے اور تمام امیدواروں پر ایک جیسے معیار لاگو کر سکتی ہے۔ اس طرح انسانی مداخلت، پسند ناپسند اور بعض غیر ضروری رکاوٹوں کو کم کیا جا سکتا ہے
تاہم ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت لازماً غیر جانب دار نہیں ہوتی، کیونکہ وہ جن معلومات اور سابقہ فیصلوں سے سیکھتی ہے، ان میں موجود جانبداری کو دوبارہ پیدا کر سکتی ہے
مثال کے طور پر اگر ماضی میں کسی ادارے نے مخصوص جامعات یا مخصوص تعلیمی پس منظر رکھنے والے امیدواروں کو زیادہ ملازمتیں دی ہوں تو مصنوعی ذہانت انہی سابقہ نمونوں کو بہتر امیدوار کی علامت سمجھ سکتی ہے اس صورت میں بظاہر خودکار اور غیر جانب دار نظر آنے والا نظام دراصل پرانے تعصبات کو نئے طریقے سے برقرار رکھ سکتا ہے
اس منصوبے میں ایک اور اہم سوال ذمہ داری کا ہے روایتی بھرتی کے نظام میں کسی امیدوار کو منتخب یا مسترد کرنے کا فیصلہ کرنے والے سرکاری افسر سے جواب طلبی کی جا سکتی ہے، لیکن اگر کسی امیدوار کو مصنوعی ذہانت کے نظام نے نااہل قرار دے دیا تو یہ سوال پیدا ہوگا کہ غلط فیصلے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی
ماہرین نے اس خطرے کی بھی نشاندہی کی ہے کہ سرکاری افسران کمپیوٹر کے فیصلوں پر ضرورت سے زیادہ اعتماد کرنا شروع کر سکتے ہیں۔ اگر انسانی افسر مصنوعی ذہانت کی سفارش کو بغیر تنقیدی جانچ کے قبول کرتے رہیں تو ایک غلط الگورتھمک فیصلہ بھی بڑے پیمانے پر لوگوں کے روزگار پر اثر انداز ہو سکتا ہے
بلوچستان حکومت نے مصنوعی ذہانت کے لیے الگ خصوصی یونٹ بنانے کا فیصلہ بھی کیا ہے، تاہم اس طریقہ کار پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا صرف بھرتی کے لیے ایک نیا انتظامی ڈھانچہ قائم کرنا کافی ہوگا یا حکومت کو پورے سرکاری نظام کو جدید بنانے کی ضرورت ہے
ماہرین کے مطابق اصل ضرورت صرف ملازمتوں کی بھرتی کو خودکار بنانے کی نہیں بلکہ سرکاری اداروں کے مجموعی انتظامی نظام کو تبدیل کرنے کی ہے سرکاری ریکارڈ کو مکمل طور پر برقی شکل دینا، فائلوں کی نقل و حرکت ختم کرنا، مختلف اداروں کے اعداد و شمار کو باہم مربوط کرنا، آن لائن عوامی خدمات بہتر بنانا، معلومات کا تحفظ یقینی بنانا اور سرکاری کام کے طریقہ کار کو جدید بنانا بھی اسی اصلاحاتی عمل کا حصہ ہونا چاہیے
بلوچستان سمیت کئی علاقوں میں سرکاری اداروں کے معمول کے کام اب بھی کاغذی فائلوں، دستی منظوریوں اور ایک دفتر سے دوسرے دفتر تک فائلیں پہنچانے کے پرانے طریقے پر بڑی حد تک منحصر ہیں ایسے ماحول میں صرف ملازمتوں کے لیے مصنوعی ذہانت کا نظام قائم کرنا ایک الگ تھلگ تبدیلی بن سکتا ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت بھرتی کا عمل تیز کر سکتی ہے، لیکن وہ خود بخود میرٹ، انصاف اور شفافیت کی ضمانت نہیں دے سکتی اس کے لیے واضح قوانین، انسانی نگرانی، امیدواروں کو فیصلے کے خلاف اپیل کا حق اور نظام کی باقاعدہ جانچ ضروری ہوگی
بلوچستان حکومت کے اس اقدام کو اس لحاظ سے اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ اگر اسے مناسب نگرانی اور وسیع تر انتظامی اصلاحات کے ساتھ نافذ کیا جائے تو سرکاری ملازمتوں کے روایتی مسائل کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے لیکن اگر صرف نئی ٹیکنالوجی نصب کردی گئی اور پرانا انتظامی ڈھانچہ برقرار رہا تو ممکن ہے کہ ایک نئے نظام کے ذریعے پرانے مسائل ہی دوبارہ پیدا ہوتے رہیں

قومی خبریں سے مزید