پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ میں نورا کشتی ؟ صدر زرداری کی تین سیاسی ترجیحات: مرکز ، صوبہ اور پارٹی

پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ میں نورا کشتی ؟ صدر زرداری کی تین سیاسی ترجیحات: مرکز ، صوبہ اور پارٹی ۔ پاکستانی میڈیا پر صدر زرداری کے دورہ برطانیہ کے حوالے سے مختلف آرا کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کچھ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے صدر زرداری صوبوں کے معاملے میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ نہیں ہیں، وہ سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے اور بہت ممکن ہے وہ صدارت کا عُہدہ چھوڑ دیں یا انہیں اس عہدے سے استعفیٰ دینے کا کہا جائے۔ بڑئے صوبوں کی تقسیم کے علاوہ کراچی اور گوادر کو وفاق کے سپرد کرنے پر بھی خاموشی سے کام ہو رہا ہے۔میڈیا میں صدر زرداری اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی لندن میں ملاقات کے حوالے سے بھی قیاس آرائیاں کی گئیں کہ اس ملاقات میں صدر زرداری کو اسٹیبلشمنٹ کا خصوصی پیغام دیا گیا ہے اور انہیں چند روز کی مہلت دی گئی ہے۔ چند روز قبل بعض رپورٹرز نے انکشاف کیا کہ صدر زرداری نے محسن نقوی سے کہا انہیں اپنی صدارت چھوڑنے میں کوئی مسئلہ نہیں اگر آپکو وزیر اعظم بنا دیا جائے اور صدارت کی کرسی اعلیٰ ترین عسکری شخصیت سنبھال لے۔ کچھ ذرائع کے مطابق صدر زرداری کو اگر صدارت سے فارغ ہونا ہے تو وہ نئے نظام میں اپنی گنجائش دیکھیں گے اور کوشش کریں گے کہ اپنے سیاسی وارثان کیلئے جگہ بنایں ، اگر انکو اور انکی پارٹی کو بالکل فارغ کیا گیا، جسکا امکان کم ہے، تو وہ قوم پرستی کے نام پر اسٹیبلشمنٹ سے تصادم کی راہ اپنائیں گے۔ صدر زرداری کی ہمیشہ سے حکمت عملی رہی ہے پہلے وہ مرکز میں حکومت کے خواہشمند ہوتے ہیں ، دوسرے نمبر پر انکی کوشش ہوتی ہے کہ صوبہ سندھ انکے ہاتھ سے نہ نکلے اور آخر میں وہ اپنی پارٹی کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں، دیکھنا اب یہ ہے بدلتے سیاسی منظر نامے میں وہ کہاں پلیس ہوتے ہیں یا کیا راہ اختیار کرتے ہیں۔

قومی خبریں سے مزید