امریکی رہن کی شرح 1 سال سے زیادہ کی بلند ترین سطح پر، گھر خریدنا مزید مشکلُ

امریکی رہن کی شرح 1 سال سے زیادہ کی بلند ترین سطح پر، گھر خریدنا مزید مشکلُ

امریکا میں 30 سالہ مقررہ رہن کی اوسط شرح بڑھ کر 6.71 فیصد ہوگئی ہے، جو جولائی 2025 کے بعد بلند ترین سطح ہے،فریڈی میک کے مطابق ایک ہفتے میں شرح 6.66 فیصد سے بڑھ کر 6.71 فیصد ہوئی، جبکہ ایک سال پہلے یہ 6.50 فیصد تھی
شرحِ سود میں یہ اضافہ ایسے وقت ہوا ہے جب امریکی گھرانوں کو پہلے ہی بلند مکانوں کی قیمتوں اور مہنگائی کے دباؤ کا سامنا ہے،رہن کی شرحیں بڑی حد تک امریکی 10 سالہ حکومتی بانڈز کی پیداوار کے ساتھ حرکت کرتی ہیں، جو حالیہ ہفتوں میں حکومتی قرضوں، مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی سے پیدا ہونے والی مہنگائی کے خدشات کے باعث بلند ہوئی ہیں
15 سالہ رہن کی اوسط شرح بھی بڑھ کر 6.04 فیصد ہوگئی ہے،بلند شرحوں سے نئے خریداروں کی ماہانہ قسطیں بڑھ رہی ہیں اور پہلے سے موجود گھروں کے مالکان کے لیے کم شرح پر قرض کی دوبارہ تنظیم بھی کم پرکشش ہوتی جارہی ہے،ماہرین کے مطابق شرحِ سود میں مسلسل اضافہ امریکی ہاؤسنگ مارکیٹ کی کمزور طلب اور گھروں کی استطاعت کے بحران کو مزید طول دے سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید