ہٹلر نے جرمنی کی جمہوریت ایک ہی دن میں نہیں توڑی، 53 دنوں میں جمہوری راستے سے اقتدار پر قبضہ کیا، تاریخ دان کی امریکہ کے لیے خطرناک تنبیہ
تاریخ دان ٹموتھی ڈبلیو رائبک کی نئی کتاب ’’53 ڈیز: ہاؤ ہٹلر ڈسمینٹلڈ اے ڈیموکریسی‘‘ جرمنی میں ایڈولف ہٹلر کے اقتدار پر قبضے کے ان 53 دنوں کا جائزہ لیتی ہے جنہوں نے دنیا کی ایک جمہوری ریاست کو آمریت میں تبدیل کر دیا,نیویارک ٹائمز میں کتاب پر شائع ہونے والے تجزیے کے مطابق اس تاریخ کا سب سے پریشان کن پہلو یہ ہے کہ نازیوں نے جمہوریت کو محض طاقت کے زور پر ختم نہیں کیا بلکہ اسی کے آئینی اور سیاسی طریقۂ کار کو استعمال کرکے اسے اندر سے کھوکھلا کیا
عام طور پر فاشزم کی تصویر اس کے عروج کے زمانے سے جڑی ہوتی ہے، جب آمریت قائم ہوچکی ہو، سیاسی آزادی ختم ہو، ریاست جنگی مشین بن چکی ہو اور شہری حقوق پامال ہو رہے ہوں،لیکن کتاب کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ فاشزم کی ابتدا اکثر جمہوری ماحول ہی سے ہوتی ہے،نازی پروپیگنڈا کے وزیر جوزف گوئبلز نے 1928 میں لکھا تھا کہ جمہوریت کی سب سے بڑی ’’مزاحیہ بات‘‘ یہ ہے کہ وہ اپنے ہی دشمنوں کو اپنی تباہی کے ذرائع فراہم کرتی ہے
رائبک کے مطابق ہٹلر کا عروج کسی ایک اچانک بغاوت یا فوجی قبضے کا نتیجہ نہیں تھا،وہ ایسے سیاسی بحران سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آگے بڑھا جس میں جرمنی کی جمہوری حکومت کمزور، سیاسی جماعتیں منقسم اور عوامی اعتماد متزلزل ہوچکا تھا،ہٹلر کو جنوری 1933 میں چانسلر مقرر کیا گیا، مگر اصل تبدیلی اس کے بعد آنے والے چند ہفتوں میں ہوئی، جب اس نے ریاستی اختیارات کو بتدریج اپنے ہاتھ میں مرکوز کرنا شروع کیا
27 فروری 1933 کو جرمن پارلیمنٹ کی عمارت میں آگ لگنے کے بعد حکومت نے قومی سلامتی کے خطرے کو بنیاد بنایا،اگلے ہی روز صدر پال فان ہنڈن برگ نے ایک ہنگامی فرمان جاری کیا جس نے شہری آزادیوں، آزادیٔ اظہار، اجتماع اور اخبارات سمیت بنیادی حقوق کو شدید محدود کر دیا،نازی حکومت نے اس اقدام کو سیاسی مخالفین، خصوصاً کمیونسٹوں، کے خلاف کارروائی کے لیے استعمال کیا
اس کے بعد مارچ 1933 کے انتخابات میں نازیوں نے مکمل اکثریت حاصل کیے بغیر بھی سیاسی طاقت برقرار رکھی،رائبک کی کتاب کا اہم نکتہ یہ ہے کہ ہٹلر نے اس مرحلے پر جمہوری اداروں کو ختم کرنے کے بجائے انہیں اپنی مرضی کے مطابق استعمال کیا،23 مارچ کو منظور ہونے والے ’’اختیاراتی قانون‘‘ نے حکومت کو پارلیمان کی منظوری کے بغیر قانون سازی کا اختیار دے دیا اور عملاً جمہوری نظام کے اندر سے آمریت کا دروازہ کھول دیا
یوں ہٹلر نے جمہوریت کو ایک ہی وار میں ختم نہیں کیا،انتخابات، پارلیمان، آئینی اختیارات، ہنگامی قوانین اور سیاسی اتحاد جیسے بظاہر قانونی ذرائع ایک دوسرے کے بعد استعمال ہوئے، یہاں تک کہ وہ ادارے جنہیں جمہوریت کی حفاظت کرنا تھی، اسی کے خاتمے کا ذریعہ بن گئے
کتاب کا موجودہ امریکہ سے تعلق اسی تاریخی مماثلت میں تلاش کیا گیا ہے،تجزیہ نگار سام ایڈلر بیل کے مطابق آج کے جمہوری معاشروں میں بھی اصل خطرہ صرف یہ نہیں کہ کوئی آمر کھلے عام جمہوریت ختم کرنے کا اعلان کرے، بلکہ یہ ہے کہ منتخب حکومتیں اور سیاسی تحریکیں جمہوری طریقۂ کار برقرار رکھتے ہوئے ان اقدار کو کمزور کردیں جو جمہوریت کو حقیقی معنوں میں جمہوریت بناتی ہیں
یہی وجہ ہے کہ فاشزم کے بارے میں جدید تاریخ دانوں کی توجہ اب صرف اس کے خوفناک انجام پر نہیں بلکہ اس کے ابتدائی مرحلے پر بھی ہے،رائبک کی 2 سال قبل شائع ہونے والی کتاب ’’ٹیک اوور: ہٹلرز فائنل رائز ٹو پاور‘‘ میں بھی ہٹلر کے چانسلر بننے سے پہلے کے 6 ماہ کی تفصیلی داستان بیان کی گئی تھی
نئی کتاب اس عمل کو مزید محدود مدت میں دیکھتی ہے اور دکھاتی ہے کہ جمہوریت کی تباہی ہمیشہ ٹینکوں کے سڑکوں پر آنے یا آئین کو کھلے عام پھاڑنے سے شروع نہیں ہوتی،بعض اوقات وہ انتخابات، قانونی اختیارات، ہنگامی اقدامات اور سیاسی فیصلوں کے ایسے سلسلے سے شروع ہوتی ہے جو ہر مرحلے پر بظاہر قانونی دکھائی دیتا ہے، مگر آخرکار پورے جمہوری نظام کو اندر سے تبدیل کر دیتا ہے
یہی اس کتاب کا امریکہ کے لیے سب سے چونکا دینے والا سبق ہے،جمہوریت صرف انتخابات اور قوانین کا نام نہیں،اگر جمہوری طریقۂ کار استعمال کرکے جمہوری اقدار، اداروں اور شہری آزادیوں کو کمزور کر دیا جائے تو ایک ملک قانونی راستے سے بھی جمہوریت سے آمریت کی طرف جا سکتا ہے





