منیاپولس میں وینزویلا کے تارکِ وطن کو گولی مارنے والا آئی سی ای افسر تحقیقات سے جھوٹ بولنے کے الزام میں وفاقی فردِ جرم کا سامنا کر رہا ہے

منیاپولس میں وینزویلا کے تارکِ وطن کو گولی مارنے والا آئی سی ای افسر تحقیقات سے جھوٹ بولنے کے الزام میں وفاقی فردِ جرم کا سامنا کر رہا ہے

امریکی وفاقی استغاثہ نے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے افسر کرسچن کاسترو پر جنوری میں منیاپولس میں وینزویلا کے شہری جولیو سیزر سوسا سیلس کو گولی مارنے کے واقعے سے متعلق تفتیش کاروں سے جھوٹ بولنے کا الزام عائد کیا ہے،وفاقی گرینڈ جیوری نے بدھ کو ان کے خلاف فردِ جرم عائد کی، جس میں وفاقی تفتیش کاروں کو غلط بیانات دینے کے 6 الزامات شامل ہیں
14 جنوری کو امیگریشن کارروائی کے دوران کاسترو نے ایک گھر کے دروازے سے فائر کیا، جس سے سوسا سیلس کی ٹانگ میں گولی لگی،کاسترو کا دعویٰ تھا کہ افسران پر جھاڑو اور برف ہٹانے والے بیلچے سے حملہ کیا گیا تھا، لیکن بعد میں سامنے آنے والی ویڈیو سے اس دعوے پر سوال اٹھے،وفاقی استغاثہ نے سوسا سیلس اور ایک دوسرے شخص کے خلاف عائد الزامات بھی واپس لے لیے
کاسترو کو مئی میں ریاستی سطح پر حملے اور جھوٹی رپورٹ دینے کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا، مگر ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے انہیں مینیسوٹا منتقل کرنے کے لیے فوری حوالگی کی منظوری نہیں دی، جس کے بعد وہ گزشتہ ہفتے ٹیکساس کی جیل سے رہا ہوگئے،اب وفاقی حکام نے انہیں دوبارہ حراست میں لے لیا ہے
یہ مقدمہ اس لحاظ سے غیر معمولی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں منیاپولس کی بڑے پیمانے کی امیگریشن کارروائی کے دوران کسی وفاقی امیگریشن افسر کے خلاف پہلی مرتبہ وفاقی فوجداری کارروائی کی گئی ہے،تاہم، زیادہ سنگین شہری حقوق کی خلاف ورزی کے ممکنہ الزامات کی وفاقی تحقیقات اب بھی جاری ہیں

قومی خبریں سے مزید