ٹرمپ نے چین کے خلاف امریکی حکمتِ عملی کا رخ موڑ دیا، ہند بحرالکاہل سے پسپائی ایشیا میں طاقت کا توازن بیجنگ کے حق میں بدل سکتی ہے، حسین حقانی اور اپرنا پانڈے

ٹرمپ نے چین کے خلاف امریکی حکمتِ عملی کا رخ موڑ دیا، ہند بحرالکاہل سے پسپائی ایشیا میں طاقت کا توازن بیجنگ کے حق میں بدل سکتی ہے، حسین حقانی اور اپرنا پانڈے

واشنگٹن نے شاید اپنی خارجہ پالیسی کی ایک ایسی تبدیلی شروع کر دی ہے جس کے اثرات کا اندازہ آج نہیں بلکہ آنے والی دہائی میں ہوگا,امریکی انتظامیہ بظاہر ہند بحرالکاہل کو وہ مرکزی میدان نہیں سمجھ رہی جہاں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے امریکہ کو اپنی فوجی طاقت، اتحادیوں اور سفارتی وسائل کو مجتمع کرنا چاہیے،اس کے بجائے واشنگٹن چین کے ساتھ تعلقات کو زیادہ تر اقتصادی مقابلے، تجارتی سودے بازی اور محدود تعاون کے زاویے سے دیکھتا دکھائی دے رہا ہے
یہ تجزیہ معروف امریکی جریدے ’’دی نیشنل انٹرسٹ‘‘ میں سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی اور جنوبی ایشیا کی امور کی ماہر اپرنا پانڈے نے پیش کیا ہے،دونوں مصنفین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے کسی بڑے عوامی مباحثے یا اپنے ایشیائی اتحادیوں سے وسیع مشاورت کے بغیر امریکہ کی چین پالیسی میں ایک بنیادی تبدیلی شروع کر دی ہے،ان کے نزدیک یہ تبدیلی محض پالیسی میں معمولی ردوبدل نہیں بلکہ گزشتہ کئی برس سے تشکیل پانے والے پورے سکیورٹی ڈھانچے کو کمزور کرنے کے مترادف ہو سکتی ہے
یہ منظر اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ خود ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی انتظامیہ نے ہند بحرالکاہل کو امریکی عالمی حکمتِ عملی کا ایک مرکزی ستون بنایا تھا،اسی دور میں ایشیا میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر کو روکنے کے لیے امریکہ نے ’’آزاد اور کھلے ہند بحرالکاہل‘‘ کا تصور آگے بڑھایا، آسٹریلیا، جاپان اور بھارت کے ساتھ چار ملکی اتحاد کو اہمیت دی اور خطے میں امریکی اتحادیوں اور شراکت داروں کے ایک وسیع نیٹ ورک کی تعمیر کو چین کے مقابلے میں بنیادی ضرورت قرار دیا
اب دوسری ٹرمپ انتظامیہ میں تصویر مختلف دکھائی دے رہی ہے
مضمون کے مطابق ہوائی میں قائم امریکی فوجی کمان، جسے 2018 میں ’’امریکی ہند بحرالکاہل کمان‘‘ کا نام دیا گیا تھا، جون 2026 میں دوبارہ ’’امریکی بحرالکاہل کمان‘‘ کہلانے لگی،بظاہر یہ صرف نام کی تبدیلی ہے، لیکن مصنفین کے نزدیک اس کے پیچھے موجود سیاسی اور عسکری اشارہ کہیں زیادہ اہم ہے،امریکہ شاید پورے ہند بحرالکاہل میں ایک وسیع، فعال اور طویل المدت سکیورٹی کردار کے بجائے زیادہ محدود دفاعی کردار کی طرف واپس جا رہا ہے
اس تبدیلی کا سب سے بڑا سوال چین ہے
گزشتہ کئی امریکی حکومتوں نے، اگرچہ مختلف الفاظ میں، ایک بنیادی نکتہ تسلیم کیا تھا کہ چین اب صرف ایک تجارتی حریف نہیں بلکہ ایسی طاقت ہے جو اقتصادی، تکنیکی، سیاسی اور فوجی سطح پر امریکہ کے لیے ایک ہمہ جہت چیلنج بن سکتی ہے،2020 میں امریکی فوج نے چین کو ’’بنیادی رفتار متعین کرنے والا خطرہ‘‘ قرار دیا تھا، جبکہ بعد کی دفاعی حکمتِ عملیوں میں بیجنگ کو امریکی مفادات کے لیے سب سے بڑا طویل المدت چیلنج قرار دیا گیا
مگر موجودہ انتظامیہ کے بارے میں حقانی اور پانڈے کا استدلال ہے کہ چین کو اب امریکی حکمتِ عملی میں اس مرکزی خطرے کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا،واشنگٹن کی توجہ فوجی اتحاد بنانے کے بجائے سودے بازی، تجارتی مذاکرات اور اقتصادی دباؤ کی طرف زیادہ دکھائی دیتی ہے
یہاں اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر امریکہ چین کو روکنے کے لیے ایشیا میں اپنی طویل المدت فوجی اور سفارتی موجودگی کم کرتا ہے تو پھر بیجنگ کو روکنے کا عملی طریقہ کیا ہوگا؟
مصنفین کے مطابق اس سوال کا کوئی واضح جواب ٹرمپ انتظامیہ نے پیش نہیں کیا
اور یہی اس تبدیلی کو فکر انگیز بناتا ہے
ہند بحرالکاہل محض نقشے پر ایک خطہ نہیں،یہ دنیا کی تجارت، عالمی سپلائی چین، سمندری راستوں، ٹیکنالوجی اور مستقبل کی عالمی طاقت کے مقابلے کا مرکزی میدان ہے،یہاں سمندری راستوں کی آزادی، تائیوان کا مستقبل، جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات اور جاپان، آسٹریلیا اور بھارت جیسے ممالک کے ساتھ امریکی تعلقات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں
اگر واشنگٹن اس خطے میں اپنی موجودگی اور اتحادیوں پر اپنے سکیورٹی عزم کو کم کرتا ہے تو طاقت کا خلا پیدا ہونا تقریباً ناگزیر ہے،سوال صرف یہ ہے کہ اس خلا کو کون پُر کرے گا؟
حقانی اور پانڈے کا جواب واضح ہے: چین
امریکی پالیسی میں یہ تبدیلی اس لیے بھی اہم ہے کہ گزشتہ انتظامیہ نے ہند بحرالکاہل میں ایک پورا ’’اتحادی نظام‘‘ تشکیل دینے کی کوشش کی تھی،چار ملکی گروپ میں امریکہ، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا شامل تھے،آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ کا سہ فریقی دفاعی معاہدہ بھی اسی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ تھا،اسی طرح بھارت، متحدہ عرب امارات، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان محدود کثیر ملکی تعاون اور بھارت، مشرق وسطیٰ اور یورپ کے درمیان اقتصادی راہداری کا منصوبہ بھی چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے مقابلے میں متبادل روابط پیدا کرنے کی کوششوں سے جڑاتھا
مضمون کے مطابق یہ تمام ڈھانچے اب بھی موجود ہیں، لیکن واشنگٹن انہیں پہلے جیسی وسیع جغرافیائی اور سیاسی حکمتِ عملی کے حصے کے طور پر نہیں دیکھ رہا،ان کی جگہ ایک زیادہ لین دین پر مبنی رویہ لے رہا ہے، جس میں ہر ملک سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے اخراجات میں زیادہ حصہ ڈالے
یہ تبدیلی امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے بیانات میں بھی دکھائی دیتی ہے،2026 کے شنگری لا مکالمے میں انہوں نے ایشیا میں مسلسل کشیدگی اور لفظی محاذ آرائی پر تنقید کرتے ہوئے ایشیائی ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ کریں،ان کا پیغام یہ تھا کہ امریکہ اپنی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری کرے گا، مگر خطے کے دوسرے ممالک کو بھی اپنی دفاعی ذمہ داریاں خود اٹھانا ہوں گی
یہاں ٹرمپ انتظامیہ کی ’’امریکہ پہلے‘‘ سوچ اور روایتی امریکی عالمی قیادت کے درمیان بنیادی فرق سامنے آتا ہے
پرانا ماڈل یہ تھا کہ امریکہ اپنی فوجی طاقت، اتحادیوں اور عالمی اداروں کے ذریعے ایسے طاقت کے توازن کو برقرار رکھے جس میں کوئی ایک ملک کسی پورے خطے پر غالب نہ آ سکے
نیا ماڈل زیادہ تر یہ پوچھتا دکھائی دیتا ہے کہ اس نظام کی قیمت کون ادا کرے گا اور امریکہ کو اس کے بدلے کیا حاصل ہوگا
یہ تبدیلی بظاہر امریکی ٹیکس دہندگان کے نقطۂ نظر سے منطقی معلوم ہو سکتی ہے، مگر بین الاقوامی سیاست میں اس کے اثرات کہیں زیادہ پیچیدہ ہو سکتے ہیں،اتحاد صرف فوجی معاہدے نہیں ہوتے،وہ اعتماد پر قائم ہوتے ہیں، اور اعتماد بننے میں برسوں جبکہ ختم ہونے میں بہت کم وقت لگتا ہے
اگر جاپان، آسٹریلیا، بھارت یا دوسرے ایشیائی شراکت دار یہ محسوس کرنے لگیں کہ واشنگٹن کی توجہ عارضی سودوں اور فوری مفادات پر ہے اور امریکہ کسی بحران کے وقت پہلے جیسا عزم نہیں دکھائے گا تو وہ اپنی حکمتِ عملی تبدیل کر سکتے ہیں،وہ چین کے ساتھ زیادہ محتاط تعلقات قائم کر سکتے ہیں، اپنی دفاعی صلاحیتیں خود بڑھا سکتے ہیں یا ایک ایسی کثیر قطبی ایشیائی سیاست کی طرف بڑھ سکتے ہیں جس میں امریکی قیادت پہلے جیسی فیصلہ کن نہ ہو
بھارت کے لیے یہ تبدیلی خاص طور پر اہم ہے
گزشتہ برسوں میں واشنگٹن نے نئی دہلی کو چین کے مقابلے میں ایک اہم علاقائی شراکت دار کے طور پر دیکھا،لیکن اگر امریکہ ہند بحرالکاہل میں اپنی وسیع حکمتِ عملی محدود کرتا ہے تو بھارت کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ چین کے مقابلے میں امریکہ پر کس حد تک انحصار کر سکتا ہے،اسی طرح جاپان اور آسٹریلیا کے لیے بھی یہ سوال اہم ہوگا کہ امریکی سکیورٹی چھتری مستقبل میں کتنی قابلِ اعتماد ہے؟
اور تائیوان؟
یہ شاید اس پوری بحث کا سب سے خطرناک سوال ہے
اگر چین یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ امریکہ پہلے جیسی طویل المدت فوجی موجودگی، اتحادیوں کی مربوط طاقت اور سیاسی عزم کے ساتھ خطے میں موجود نہیں تو تائیوان کے گرد طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے،مصنفین براہِ راست یہ پیش گوئی نہیں کرتے کہ چین فوری طور پر کسی اقدام کی طرف جائے گا، لیکن ان کا بنیادی استدلال یہی ہے کہ چین کو روکنے کی امریکی حکمتِ عملی صرف تجارتی دباؤ سے مؤثر نہیں ہو سکتی،اس کے لیے سمندری راستوں کی آزادی، فوجی صلاحیت اور علاقائی اتحادیوں کی فعال شراکت ضروری ہے
اس پوری صورت حال کا سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ ٹرمپ کی پہلی اور دوسری انتظامیہ کی چین پالیسیوں کے درمیان نمایاں فاصلہ پیدا ہو گیا ہے
پہلی انتظامیہ نے چین کو روکنے کے لیے اتحاد بنائے
دوسری انتظامیہ بظاہر ان اتحادوں سے زیادہ قیمت وصول کرنے پر زور دے رہی ہے
پہلی انتظامیہ نے ہند بحرالکاہل میں امریکی قیادت کو مضبوط کرنے کی کوشش کی
دوسری انتظامیہ خطے کے ممالک سے زیادہ دفاعی اخراجات اور زیادہ ذمہ داری کا مطالبہ کر رہی ہے
یہ ممکن ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا خیال ہو کہ امریکہ نے گزشتہ برسوں میں عالمی سکیورٹی پر ضرورت سے زیادہ بوجھ اٹھایا ہے اور اب اتحادیوں کو اپنے حصے کی قیمت ادا کرنی چاہیے،لیکن حقانی اور پانڈے کے مطابق اصل خطرہ یہ ہے کہ بوجھ بانٹنے اور قیادت چھوڑنے کے درمیان لکیر کہیں بہت جلد عبور نہ ہو جائے
کیونکہ عالمی طاقت کے خلا کبھی خالی نہیں رہتے
اگر امریکہ ہند بحرالکاہل میں اپنی موجودگی کم کرتا ہے تو چین کو نہ صرف زیادہ فوجی بلکہ زیادہ سفارتی اور اقتصادی گنجائش بھی مل سکتی ہے،بیلٹ اینڈ روڈ جیسے منصوبے پہلے ہی چین کو ایشیا، مشرق وسطیٰ اور اس سے آگے انفراسٹرکچر اور تجارت کے ذریعے اثر بڑھانے کا موقع دے رہے ہیں
اسی لیے مصنفین کا بنیادی انتباہ یہ ہے کہ امریکہ اگر ہند بحرالکاہل کو محض ایک اور خطے کے طور پر دیکھنے لگتا ہے جہاں چین سے کبھی تجارت اور کبھی مقابلہ کیا جا سکتا ہے، تو واشنگٹن شاید اس حقیقت کو نظر انداز کر دے کہ ایشیا میں طاقت کا توازن خود عالمی نظام کے مستقبل کا تعین کر سکتا ہے
یہ صرف چین کے بارے میں سوال نہیں
یہ اس سوال کے بارے میں ہے کہ آنے والی دنیا میں امریکی طاقت کی نوعیت کیا ہوگی؟
کیا امریکہ اب بھی ایسے عالمی نظام کا محافظ بننا چاہتا ہے جس میں اس کے اتحادی اس کی طاقت پر بھروسا کر سکیں؟ یا واشنگٹن اب ایک ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں ہر خطہ اپنے دفاع کا ذمہ دار ہوگا، امریکہ صرف اپنے براہِ راست مفاد کے وقت مداخلت کرے گا اور عالمی اتحاد مستقل شراکت داری کے بجائے ضرورت کے مطابق کیے جانے والے سودوں میں تبدیل ہوتے جائیں گے؟
حسین حقانی اور اپرنا پانڈے کے نزدیک یہی وہ سوال ہے جس پر امریکی عوام اور واشنگٹن کے اتحادیوں کے ساتھ کھلی بحث ہونی چاہیے تھی، مگر جس کا فیصلہ بظاہر خاموشی سے کیا جا رہا ہے
اور تاریخ کا سبق یہ ہے کہ عالمی طاقتوں کی بڑی تبدیلیاں اکثر اس وقت نہیں پہچانی جاتیں جب وہ شروع ہوتی ہیں،ان کی اہمیت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب طاقت کا توازن پہلے ہی تبدیل ہو چکا ہوتا ہے
ہند بحرالکاہل میں آج جو کچھ ہو رہا ہے، ممکن ہے وہ صرف امریکی پالیسی کا ایک عارضی موڑ ہو،لیکن اگر یہ مستقل سمت بن گئی تو آنے والے برسوں میں ایشیا میں ایک بنیادی سوال یہ نہیں ہوگا کہ چین کتنا طاقتور ہو گیا، بلکہ یہ ہوگا کہ امریکہ نے چین کے بڑھنے کے لیے کتنی جگہ خود چھوڑ دی

قومی خبریں سے مزید