بھارتی امریکیوں کے خلاف بڑھتی نفرت، واشنگٹن میں بھارتی نژاد امریکی رہنماؤں کا ہنگامی اجتماع،بھارتی امریکن کو بھارت میں اقلیتوں پر بڑھتے مظالم و نفرت پر بھی جمع ہونے کی ضرورت ہے

بھارتی امریکیوں کے خلاف بڑھتی نفرت، واشنگٹن میں بھارتی نژاد امریکی رہنماؤں کا ہنگامی اجتماع،بھارتی امریکن کو بھارت میں اقلیتوں پر بڑھتے مظالم و نفرت پر بھی جمع ہونے کی ضرورت ہے

واشنگٹن میں بھارتی نژاد امریکیوں کے خلاف مبینہ بڑھتی نفرت، نسلی ہراسانی، دھمکیوں اور تشدد کے واقعات نے بھارتی امریکی سیاسی قیادت کو کانگریس میں ہنگامی مشاورت پر مجبور کر دیا ہے،2 ستمبر کو کیپیٹل ہل پر منعقد ہونے والے ایک خصوصی اجلاس میں بھارتی نژاد امریکی ارکانِ کانگریس، ریاستی و مقامی منتخب نمائندوں اور شہری حقوق کے کارکنوں نے بھارتی امریکی کمیونٹی کو درپیش خطرات اور بڑھتے ہوئے نفرت انگیز واقعات پر تبادلہ خیال کیا
اجلاس کی قیادت بھارتی نژاد امریکی رکنِ کانگریس راجا کرشنامورتی نے کی،ان کے علاوہ پرمیلا جے پال، ایمی بیرا، سہاس سبرامنیم اور شری تھانی دار سمیت متعدد بھارتی نژاد امریکی سیاسی رہنما شریک ہوئے،اجلاس کا بنیادی موضوع بھارتی امریکیوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات، دھمکیوں اور امتیازی رویوں میں اضافے پر تشویش تھا
منتظمین کے مطابق 2024 کے اعدادوشمار میں تقریباً 48 فیصد جنوبی ایشیائی بالغ افراد نے نسلی ہراسانی کا سامنا کرنے کی اطلاع دی تھی جنکی اکثریت بھارتی نژاد امریکی شہریوں پر مشتمل تھی ، یہاں واضع رہے بھارتی نژاد امریکی کمیونٹی قومی منظر پر خود کو ساؤتھ ایشیا قرار دیکر پاکستانی بنگلہ دیشی اور نیپالی کمیونٹی کو بھی اپنا حصہ قرار دیتی ہے اور اس تناظر میں وفاقی و ریاستی حکومتوں سے ساؤتھ ایشیا کمیونٹی کے تمام فائدے بھی یہی کمیونٹی حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے جبکہ اعداد و شمار کے کھیل میں پاکستانی و بنگلہ دیشی امریکن کمیونٹی کو بھی اپنا حصہ ظاہر کرتی ہے ، تاہم اجلاس میں زیرِ بحث متعدد مخصوص واقعات بھارتی امریکیوں کو نشانہ بنانے سے متعلق تھے،ان میں بھارتی پرچم کی توہین، بھارتی نژاد امریکی سیاسی شخصیات کے خلاف دھمکیاں اور تارکینِ وطن مخالف مہمات میں بھارتی کمیونٹی کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات شامل تھے
ٹیکساس کے فریسکو میں جون 2026 میں ایک شخص کی جانب سے سٹی ہال کے باہر بھارتی پرچم پھاڑنے اور بھارت مخالف نعرے لگانے کا واقعہ بھی ان معاملات میں شامل کیا گیا جنہوں نے بھارتی امریکی رہنماؤں کی تشویش میں اضافہ کیا،فلوریڈا اور ایریزونا سے بھی بھارتی نژاد امریکی سیاسی شخصیات کو نشانہ بنانے والی مبینہ دھمکیوں اور اشتعال انگیز بیانات کا حوالہ دیا گیا
اجلاس میں اس خدشے کا بھی اظہار کیا گیا کہ سیاسی اور سماجی ذرائع ابلاغ پر پھیلنے والی تارکینِ وطن مخالف بیان بازی بعض اوقات حقیقی دنیا میں دھمکیوں اور تشدد کی شکل اختیار کر سکتی ہے،بھارتی امریکی رہنماؤں نے اس سلسلے میں نفرت انگیز جرائم کی بہتر نگرانی، واقعات کی مؤثر رپورٹنگ اور وفاقی سطح پر اعدادوشمار جمع کرنے کے نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا
راجا کرشنامورتی اور ان کے ساتھی ارکانِ کانگریس پہلے ہی نفرت انگیز جرائم کے محرکات کا جائزہ لینے کے لیے ایک وفاقی کمیشن قائم کرنے کی قانون سازی پیش کر چکے ہیں،مجوزہ قانون کے تحت نفرت انگیز جرائم کے بنیادی اسباب، ذرائع ابلاغ اور ٹیکنالوجی کے کردار، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رپورٹنگ میں حائل رکاوٹوں اور ایسے واقعات کی روک تھام کے طریقوں کا جائزہ لینے کی تجویز دی گئی ہے
بھارتی امریکی سیاسی قیادت کے لیے یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ امریکہ میں بھارتی نژاد آبادی گزشتہ برسوں کے دوران سیاسی، کاروباری، طبی، تعلیمی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں غیر معمولی طور پر نمایاں ہوئی ہے،بھارتی نژاد امریکیوں کی کانگریس، ریاستی اسمبلیوں اور مقامی حکومتوں میں نمائندگی بھی بڑھی ہے، جس کے باعث کمیونٹی کے خلاف کسی بڑے واقعے کا سیاسی ردعمل بھی پہلے کے مقابلے میں زیادہ منظم اور نمایاں دکھائی دیتا ہے
تاہم واشنگٹن میں ہونے والے اس اجتماع کی ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ اس کی قیادت اور نمایاں سیاسی شرکت بنیادی طور پر بھارتی نژاد امریکی نمائندوں کی تھی، جبکہ گفتگو کا فوری محرک بھی بھارتی امریکیوں کو نشانہ بنانے والے واقعات تھے،اس اعتبار سے اجلاس کو محض ایک عمومی جنوبی ایشیائی مسئلے کے بجائے بھارتی امریکی کمیونٹی کے تحفظ اور اس کے خلاف نفرت انگیز واقعات کے بارے میں بڑھتی ہوئی سیاسی تشویش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے
بھارتی امریکی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ کسی بھی امریکی شہری کو اس کے نام، نسلی پس منظر، مذہب یا آبائی ملک کی بنیاد پر دھمکی یا تشدد کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے،ان کے نزدیک نفرت انگیز واقعات کی بروقت شناخت اور رپورٹنگ نہ صرف متاثرہ افراد کے تحفظ کے لیے ضروری ہے بلکہ اس لیے بھی اہم ہے کہ چھوٹے واقعات بڑے تشدد میں تبدیل ہونے سے پہلے ان کا سدباب کیا جا سکے
واشنگٹن کا یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ میں امیگریشن، تارکینِ وطن اور نسلی شناخت سے متعلق سیاسی بحث غیر معمولی طور پر تلخ ہو چکی ہے،بھارتی امریکی رہنماؤں کے لیے اب سوال صرف یہ نہیں کہ ایک واقعے کے بعد مجرم کے خلاف کارروائی ہوئی یا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ آیا بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی بھارتی نژاد امریکیوں کے خلاف نفرت انگیز رویوں کو مزید ہوا دے رہی ہے
کیپیٹل ہل پر ہونے والا یہ اجتماع اسی بڑھتی ہوئی تشویش کا سیاسی اظہار تھا،بھارتی امریکی قیادت نے واضح کیا کہ کمیونٹی کے خلاف دھمکی، ہراسانی یا تشدد کو معمول کے سیاسی اختلاف کا حصہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور وفاقی حکومت کو ایسے واقعات کی نگرانی اور روک تھام کے لیے زیادہ مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا
بھارتی نژاد امریکی کمیونٹی کا اپنے خلاف نفرت اور تشدد پر متحد ہونا، کانگریس کا دروازہ کھٹکھٹانا، حکومت سے تحفظ کا مطالبہ کرنا اور انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی اور ریاستی ذمہ داری کی بات کرنا بلاشبہ ایک جمہوری معاشرے میں ہر شہری کا حق ہے،لیکن اسی منظر کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جو اس پوری بحث کو ایک زیادہ بنیادی سوال میں تبدیل کر دیتا ہے،کیا انسانی حقوق صرف اس وقت یاد آتے ہیں جب زیادتی کا نشانہ ہم خود بنیں؟
اگر بھارتی امریکیوں کو امریکہ میں اپنے خلاف نفرت پر تشویش ہے، تو یہی حساسیت بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں بھی دکھائی دینی چاہیے،اگر ریاست سے مطالبہ ہے کہ وہ مذہب، نسل یا شناخت کی بنیاد پر کسی شہری کو نشانہ بننے سے بچائے، تو یہی اصول دنیا کے کسی بھی ملک میں رہنے والے ہر شہری کے لیے ہونا چاہیے،مسجد ہو یا مندر، چرچ ہو یا گردوارہ، عبادت گاہ کی بے حرمتی اور مذہبی بنیاد پر تشدد کو ایک ہی اصول کے تحت مسترد کیا جانا چاہیے
یہ سوال صرف بھارتی امریکیوں تک محدود نہیں،پاکستانی امریکی، بنگلہ دیشی امریکی اور پورے جنوبی ایشیائی تارکینِ وطن کے لیے بھی یہ ایک اخلاقی امتحان ہے،پاکستان میں ہندوؤں، عیسائیوں اور احمدیوں سمیت مختلف اقلیتوں کے خلاف تشدد، جبری تبدیلیٔ مذہب، جبری شادیوں اور عبادت گاہوں پر حملوں کے واقعات جب سامنے آتے ہیں تو بیرونِ ملک آباد پاکستانی کمیونٹی کی آواز بھی اتنی ہی واضح ہونی چاہیے جتنی وہ امریکہ میں اپنے حقوق کے لیے بلند کرتی ہے
اسی طرح بنگلہ دیش، بھارت، پاکستان یا خطے کے کسی بھی ملک میں اگر کسی اقلیت کو مذہب، زبان، نسل یا عقیدے کی بنیاد پر نشانہ بنایا جائے تو بیرونِ ملک آباد ان ملکوں کے شہریوں کو خاموش تماشائی نہیں رہنا چاہیے،تارکِ وطن ہونے کا سب سے بڑا سبق شاید یہی ہے کہ جس آزادی، تحفظ اور انسانی وقار کا مطالبہ ہم اپنے نئے ملک میں کرتے ہیں، وہی حق اپنے آبائی ملک میں دوسرے انسانوں کے لیے بھی تسلیم کریں
انسانی حقوق کا اصل مطلب یہ نہیں کہ مظلوم کی شناخت دیکھ کر فیصلہ کیا جائے کہ اس کے لیے آواز اٹھانی ہے یا نہیں،اصل اصول یہ ہے کہ مظلوم صرف مظلوم ہوتا ہے،اس کا مذہب، زبان، رنگ، قومیت یا سیاسی وابستگی اس کے بنیادی انسانی حق کو کم نہیں کرتی
امریکہ میں بھارتی کمیونٹی کے خلاف نفرت کے خلاف آج اٹھنے والی آواز اسی لیے زیادہ مؤثر اور اخلاقی وزن رکھ سکتی ہے اگر وہ ایک قدم مزید آگے بڑھ کر یہ بھی کہے کہ نفرت کہیں بھی ہو، اقلیت کسی بھی مذہب کی ہو، اور ریاست کسی بھی ملک کی ہو، انسانی حقوق پر خاموشی قابلِ قبول نہیں
کیونکہ انسانی حقوق کی سب سے بڑی آزمائش یہ نہیں کہ ہم اپنے لیے کتنی بلند آواز میں انصاف مانگتے ہیں،اصل آزمائش یہ ہے کہ دوسروں کے لیے انصاف مانگتے وقت بھی ہماری آواز اتنی ہی بلند رہتی ہے یا نہیں

قومی خبریں سے مزید