امریکا کی منظوری ملتے ہی غزہ کے فلسطینیوں کو نکالنے کے لیے تیار ہیں، اسرائیلی وزیر دفاع
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ کی پوری آبادی کو وہاں سے نکالنے کے لیے تیار ہے، تاہم اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے امریکا کی منظوری اور فلسطینیوں کو منتقل کرنے کے لیے مناسب مقامات کا تعین ضروری ہے۔ کاٹز نے یہ بات ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی
اسرائیلی وزیر دفاع کے مطابق ان کی حکومت غزہ کے فلسطینیوں کو سمندر، فضائی راستے اور دیگر ممکنہ طریقوں سے باہر منتقل کرنے کے لیے منظم اور تیار ہے ان کا کہنا تھا کہ غزہ کے مسئلے کا کوئی حقیقی حل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک فلسطینیوں کی نقل مکانی نہ ہو
کاٹز نے کہا کہ اسرائیل اس سلسلے میں امریکا کے ساتھ بات چیت کررہا ہے اور واشنگٹن سے یہ جاننے کا منتظر ہے کہ غزہ سے منتقل کیے جانے والے فلسطینیوں کو کہاں آباد کیا جائے گا امریکی سفارت خانے نے اس معاملے پر تبصرے کے لیے سوالات امریکی محکمہ خارجہ کی جانب بھیج دیے ہیں
اس بیان کو فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے منصوبے کے طور پر دیکھا جارہا ہے بین الاقوامی قانون کے تحت جنگ کے دوران مقبوضہ علاقے سے شہری آبادی کو زبردستی بے دخل کرنا سنگین قانونی معاملہ ہے اور جنیوا کنونشنز کے تحت جبری منتقلی کو جنگی جرم قرار دیا جاسکتا ہے
غزہ میں جاری جنگ کے نتیجے میں پہلے ہی بڑی تعداد میں فلسطینی اپنے گھروں سے بے گھر ہوچکے ہیں اسرائیلی حملوں کے دوران رہائشی علاقوں، اسپتالوں، تعلیمی اداروں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ لاکھوں فلسطینی کئی مرتبہ نقل مکانی پر مجبور ہوچکے ہیں
اسرائیلی وزیر دفاع کا تازہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ کے مستقبل اور وہاں فلسطینی آبادی کی موجودگی کے حوالے سے اسرائیلی حکومت کے اندر سخت گیر مؤقف رکھنے والے حلقوں کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اس سے قبل بھی اسرائیلی حکومت کے بعض اہم ارکان فلسطینیوں کو غزہ سے باہر منتقل کرنے کی تجاویز کی حمایت کرچکے ہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ماضی میں غزہ کے فلسطینیوں کو دوسرے علاقوں میں منتقل کرنے اور غزہ کو ایک نئے انداز میں تعمیر کرنے کی تجویز پیش کی تھی، جس پر فلسطینی قیادت، عرب ممالک اور متعدد عالمی حلقوں کی جانب سے شدید مخالفت سامنے آئی تھی
فلسطینیوں کی جبری منتقلی کا کوئی بھی منصوبہ خطے میں پہلے سے موجود بحران کو مزید سنگین کرسکتا ہے، کیونکہ فلسطینی قیادت اور عرب ممالک طویل عرصے سے اس مؤقف پر قائم ہیں کہ فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے مستقل طور پر بے دخل نہیں کیا جاسکتا





