اکثریت امریکی ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے مخالف، ٹرمپ حکومت کے لیے عوامی حمایت میں کمی

اکثریت امریکی ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے مخالف، ٹرمپ حکومت کے لیے عوامی حمایت میں کمی

امریکا میں ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کے حوالے سے عوامی مخالفت میں اضافہ ہوگیا ہے اور تازہ رائے شماری کے مطابق امریکیوں کی واضح اکثریت اس جنگ کی حمایت نہیں کرتی رائے شماری کے نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان فوجی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرچکی ہے
تازہ سروے کے مطابق 58 فیصد امریکی ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کی مخالفت کرتے ہیں، جبکہ تقریباً 34 فیصد اس کارروائی کی حمایت کرتے ہیں خاص طور پر آزاد ووٹرز میں مخالفت زیادہ نمایاں ہے، جہاں 66 فیصد افراد نے امریکی فوجی مہم کی مخالفت کی
رائے شماری سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے معاملے پر امریکی عوام اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کے درمیان واضح فرق پیدا ہوگیا ہے امریکی عوام کی بڑی تعداد جنگ کو مزید آگے بڑھانے کے بجائے اس تنازع کو ختم کرنے کی خواہش رکھتی ہے
یہ رجحان صرف ایک سروے تک محدود نہیں۔ مارچ میں بھی مختلف امریکی رائے شماریوں میں اکثریت نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی مخالفت کی تھی ایک سروے میں 56 فیصد امریکیوں نے فوجی کارروائی کی مخالفت کی جبکہ 44 فیصد نے حمایت کی تھی
ایک اور رائے شماری میں 66 فیصد امریکیوں نے کہا تھا کہ امریکا کو ایران کے تنازع سے جلد نکلنے کی کوشش کرنی چاہیے، چاہے اس کا مطلب یہ ہو کہ ایران کے بارے میں امریکا اپنے تمام اہداف حاصل نہ کرسکے صرف 27 فیصد افراد نے طویل فوجی مہم جاری رکھنے کی حمایت کی
جولائی میں ہونے والی رائے شماریوں نے بھی جنگ کے خلاف بڑھتی ہوئی عوامی بے چینی کی نشاندہی کی۔ ایک رائے شماری کے مطابق صرف تقریباً ایک تہائی امریکی ایران کے خلاف جنگ کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ 69 فیصد امریکیوں کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے ایران میں امریکی فوجی مداخلت کے مقاصد واضح طور پر بیان نہیں کیے
تازہ صورتحال میں یہ مخالفت ٹرمپ حکومت کے لیے سیاسی طور پر بھی اہم بن گئی ہے۔ ایران کے خلاف جنگ طویل ہونے کے ساتھ ساتھ امریکا میں ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی اور جنگی اخراجات کے اثرات بھی عوامی تشویش میں اضافہ کررہے ہیں اگلے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل یہ مسئلہ ٹرمپ اور ان کی جماعت کے لیے خاص طور پر حساس بن چکا ہے
حالیہ رائے شماریوں میں صدر ٹرمپ کی مجموعی مقبولیت بھی کمزور دکھائی دے رہی ہے۔ 31 اگست کو جاری ہونے والی رائے شماری میں صرف 33 فیصد امریکیوں نے ٹرمپ کی کارکردگی کی منظوری دی، جبکہ ایران کی جنگ سے متعلق صرف 36 فیصد نے ان کی پالیسی کی حمایت کی
امریکی عوام کی بڑھتی ہوئی مخالفت ایسے وقت میں سامنے آرہی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست فوجی کارروائیاں دوبارہ تیز ہوئی ہیں حالیہ دنوں میں امریکا نے ایران کے جنوبی ساحل کے قریب فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں ایران نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ اس صورتحال نے مشرق وسطیٰ میں وسیع تر جنگ کے خدشات دوبارہ بڑھا دیے ہیں
امریکی حکومت کے اندر بھی جنگ کو محدود رکھنے کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے بعض اعلیٰ عہدیدار چاہتے ہیں کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو مزید پھیلانے کے بجائے معاشی پابندیوں اور سفارتی دباؤ پر زیادہ توجہ دی جائے، کیونکہ طویل جنگ امریکی عوام میں پہلے ہی غیر مقبول ہورہی ہے
یوں ایران کے خلاف جنگ اب صرف بیرونی محاذ کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ امریکا کے اندر بھی ایک بڑا سیاسی مسئلہ بنتی جارہی ہے۔ مسلسل فوجی کارروائی، بڑھتے اخراجات اور جنگ کے واضح اختتام کے نہ ہونے سے عوامی حمایت کم ہونے کا رجحان ٹرمپ حکومت کے لیے آنے والے مہینوں میں ایک اہم سیاسی چیلنج بن سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید