امریکہ میں دولت اوپر، متوسط طبقہ نیچے: بڑھتی ہوئی معاشی خلیج کیا سوشلسٹ سیاست کو نئی طاقت دے رہی ہے؟
تحریر و تحقیق : آفاق فاروقی
امریکہ میں ایک خاموش معاشی تبدیلی تیزی سے ایک بڑے سیاسی سوال میں تبدیل ہو رہی ہے،دولت بڑھ رہی ہے، کارپوریٹ منافع ریکارڈ سطح پر پہنچ رہا ہے اور مصنوعی ذہانت نئی پیداواری طاقت بن رہی ہے، لیکن اسی وقت لاکھوں عام امریکی یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ اس ترقی میں ان کا حصہ کہاں ہے
یہ وہ سوال ہے جو آنے والے برسوں میں امریکی سیاست کی سمت متعین کر سکتا ہے
تازہ اعدادوشمار کے مطابق امریکی کارپوریشنوں کے قبل از ٹیکس منافع کی سالانہ شرح 2026 کی دوسری سہ ماہی میں تقریباً 4.8 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی، جو دوسری جنگ عظیم کے بعد کی بلند ترین سطحوں میں ہے، جبکہ قومی آمدنی میں اجرتوں اور مراعات کے ذریعے کارکنوں کا حصہ تقریباً 60 فیصد رہ گیا، جو 1950 کی دہائی کے بعد کم ترین سطح ہے
دوسری طرف نیویارک سٹی کے تازہ اعدادوشمار ایک اور تصویر پیش کرتے ہیں،2019 سے 2024 کے دوران شہر کے انتہائی امیر طبقے کی حقیقی آمدنی میں غیر معمولی اضافہ ہوا جبکہ نچلے 90 فیصد شہریوں کی آمدنی مہنگائی کو نکالنے کے بعد تقریباً جمود کا شکار رہی،شہر کے امیر ترین 1 فیصد کے پاس 2024 میں مجموعی آمدنی کا تقریباً 37 فیصد تھا، جبکہ قومی سطح پر یہ حصہ تقریباً 22 فیصد تھا
یہ صرف نیویارک کا مسئلہ نہیں،یہ اس سوال کی ایک جھلک ہے جو پورے امریکہ کے سامنے کھڑا ہے،اگر معیشت مسلسل دولت پیدا کرتی رہے لیکن اس دولت کا بڑا حصہ سرمایہ رکھنے والوں کے پاس جائے اور محنت کرنے والے طبقے کی قوتِ خرید پیچھے رہ جائے تو ایک جمہوریت کتنی دیر تک اس معاشی فرق کو سیاسی طور پر برداشت کر سکتی ہے؟
یونینیں کمزور ہوئیں، اجتماعی سودے بازی بھی کمزور ہوئی
امریکی متوسط طبقے کی تاریخ کو مزدور یونینوں کی تاریخ سے الگ کرنا مشکل ہے،بیسویں صدی کے وسط میں جب یونینیں مضبوط تھیں تو کارکن اجتماعی طور پر اجرت، اوقات کار، پنشن، صحت کی سہولت اور ملازمت کے تحفظ کے لیے انتظامیہ سے بہتر شرائط طے کر سکتے تھے
آج امریکی کارکنوں میں یونین رکنیت تقریباً 10 فیصد رہ گئی ہے، جو 1983 میں 20.1 فیصد تھی،اسی عرصے میں امیر ترین 1 فیصد کے پاس قومی دولت کا حصہ 22.9 فیصد سے بڑھ کر 31.6 فیصد ہو گیا
پرنسٹن یونیورسٹی کے ماہرین اقتصادیات ہنری فیبر، ڈینیئل ہرپسٹ، ایلیانا کزیمکو اور سریش نائیڈو کی طویل مدتی تحقیق نے بھی یہ نتیجہ اخذ کیا کہ امریکی تاریخ میں یونینوں کی مضبوطی اور آمدنی کی عدم مساوات کے درمیان الٹا تعلق رہا ہے اور یونینوں نے مجموعی طور پر آمدنی کے فرق کو کم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا
ایک اور تحقیقی مطالعے میں رچرڈ فری مین اور ان کے ساتھیوں نے پایا کہ یونین سے وابستہ کارکنوں کے متوسط آمدنی والے طبقے میں شامل ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں اور یونین سے وابستہ والدین کے بچوں کی آمدنی بھی، دوسرے یکساں حالات رکھنے والے خاندانوں کے مقابلے میں، زیادہ رہی
اس لیے سوال صرف یہ نہیں کہ یونینیں کمزور کیوں ہوئیں،اصل سوال یہ ہے کہ جب کارکن کی اجتماعی طاقت کم ہوتی ہے تو معاشی ترقی کے ثمرات کس طرف جاتے ہیں؟
اب مصنوعی ذہانت اس سوال کو اور پیچیدہ بنا رہی ہے
مصنوعی ذہانت نے اس بحث میں ایک نیا عنصر شامل کر دیا ہے،پہلے خودکاری زیادہ تر فیکٹری کے کارکن کو متاثر کرتی تھی،اب خطرہ دفتر، کمپیوٹر، سافٹ ویئر، کسٹمر سروس اور دوسرے سفید پوش شعبوں تک پہنچ رہا ہے
حالیہ تحقیق کے مطابق مصنوعی ذہانت سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے بعض شعبوں میں ابھی بڑے پیمانے پر ملازمتیں ختم نہیں ہوئی ہیں، لیکن اجرتوں اور پیشہ ورانہ ترقی پر دباؤ کے آثار نظر آ رہے ہیں،خاص طور پر ابتدائی سطح کے کارکنوں کے لیے مصنوعی ذہانت ان کی مہارت کی مارکیٹ ویلیو کم کر سکتی ہے اور ترقی کے روایتی راستے محدود کر سکتی ہے
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے بھی خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت اگر زیادہ آمدنی والے کارکنوں کی پیداواری صلاحیت اور سرمایہ کاری کے منافع میں اضافہ کرتی ہے تو دولت کی عدم مساوات بڑھ سکتی ہے،تاہم اگر مصنوعی ذہانت سے حاصل ہونے والی پیداواری صلاحیت کے فوائد وسیع پیمانے پر کارکنوں تک پہنچیں تو مجموعی آمدنی بھی بڑھ سکتی ہے،یعنی مصنوعی ذہانت خود مسئلہ نہیں،اصل سوال یہ ہے کہ اس سے پیدا ہونے والی دولت کا مالک کون ہوگا اور اس کا فائدہ کس کو ملے گا؟
یہی سوال نوجوان نسل کے ذہن میں بھی داخل ہو رہا ہے
سوشلزم کا لفظ واپس آ رہا ہے، مگر کہانی اتنی سادہ نہیں
امریکہ نے تقریباً پوری بیسویں صدی میں سوشلزم اور کمیونزم کو اپنے سیاسی اور معاشی نظام کے بنیادی مخالف کے طور پر دیکھا،سرد جنگ کے زمانے میں ’’سوشلزم‘‘ محض ایک معاشی نظریہ نہیں بلکہ سوویت یونین، ریاستی کنٹرول اور امریکی طرز زندگی کے متبادل کے طور پر پیش کیا جاتا تھا
لیکن آج نوجوان امریکیوں کا ایک حصہ اس لفظ سے اس طرح خوف زدہ نہیں جس طرح پچھلی نسلیں تھیں
ہارورڈ کے 2025 نوجوانوں کے سروے میں صرف 39 فیصد نوجوانوں نے سرمایہ داری کی حمایت کی، جبکہ 2020 میں یہ شرح 45 فیصد تھی،سوشلزم کی حمایت 21 فیصد رہی، جو 2020 کی 30 فیصد شرح سے کم تھی، جبکہ جمہوری سوشلزم کی حمایت 29 فیصد رہی،لیکن ڈیموکریٹ نوجوانوں میں سوشلزم کی حمایت 47 فیصد اور جمہوری سوشلزم کی حمایت 63 فیصد تھی
اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکہ سوشلسٹ ملک بننے جا رہا ہے،بلکہ اس کا مطلب زیادہ گہرا ہے،نوجوان نسل سرمایہ داری کو اس کے روایتی دعوے، یعنی مواقع اور خوشحالی کی منصفانہ تقسیم، کی بنیاد پر پرکھ رہی ہے
اگر ایک نوجوان کالج سے نکل کر بھاری قرض، مہنگے کرائے، مہنگی صحت کی سہولت اور غیر یقینی ملازمت کا سامنا کرتا ہے جبکہ اسی دوران مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کے مالک اربوں ڈالر کما رہے ہوں تو اس کے لیے ’’سرمایہ داری‘‘ ایک نظریاتی تصور نہیں رہتی، بلکہ اپنی روزمرہ زندگی کا تجربہ بن جاتی ہے
یہیں سے سیاسی تبدیلی شروع ہوتی ہے
نیویارک کے میئر زُہران ممدانی کا سیاسی عروج اسی وسیع تر تبدیلی کی ایک نمایاں علامت ہے،انہوں نے اپنی مہم کو کارپوریٹ لالچ، مہنگے کرایوں، بچوں کی نگہداشت، عوامی نقل و حمل اور عام شہری کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے خلاف استوار کیا
ان کی کامیابی کا مطلب یہ نہیں کہ نیویارک کے شہریوں نے سرمایہ داری کو مسترد کر دیا ہے،اس کا زیادہ درست مطلب یہ ہے کہ ایک بڑی تعداد نے ایسی سرمایہ داری سے سوال شروع کر دیا ہے جس میں معاشی ترقی تو ہو مگر اس ترقی کا فائدہ عام خاندان تک نہ پہنچے
امریکی سیاست میں یہ تبدیلی ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر بھی واضح ہو رہی ہے،ایک طرف روایتی اعتدال پسند ڈیموکریٹس ہیں، دوسری طرف ڈیموکریٹک سوشلسٹس اور ترقی پسند سیاست دان ہیں جو رہائش، صحت، اجرت، یونینوں اور دولت کی تقسیم کو مرکزی سیاسی مسئلہ بنانا چاہتے ہیں
حالیہ امریکی سیاست یہ بھی دکھا رہی ہے کہ معاشی عدم مساوات کا غصہ صرف بائیں بازو تک محدود نہیں،دائیں بازو میں بھی کارپوریٹ طاقت، عالمی تجارت اور اشرافیہ کے خلاف پاپولسٹ جذبات مضبوط ہوئے ہیں،نائب صدر جے ڈی وینس نے کارکنوں کو کمپنیوں کے فیصلوں میں زیادہ حصہ دینے کی بات کی ہے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ بھی بعض مواقع پر کمپنیوں پر منافع خوری اور قیمتیں بڑھانے کے الزامات عائد کر چکے ہیں
یعنی امریکہ میں بائیں اور دائیں دونوں طرف ایک نئی قسم کی معاشی بے چینی پیدا ہو رہی ہے
یہاں امریکی سیاست کا سب سے اہم مستقبل کا سوال سامنے آتا ہے
اگر سرمایہ داری دولت پیدا کرنے کا مؤثر نظام ہے تو اس کے ساتھ یہ اصول بھی تو ہونا چاہیے کہ پیدا ہونے والی دولت کی تقسیم میں مزدور کا حصہ اتنا ضرور ہو کہ وہ عزت کے ساتھ زندگی گزار سکے
فیکٹری کا مالک منافع کمائے، سرمایہ کار دولت بنائے، کاروباری شخص ارب پتی بنے، یہ سب سرمایہ داری کے بنیادی تصور سے متصادم نہیں،لیکن سوال یہ ہے کہ اس دولت کی بنیاد رکھنے والے مزدور کے پاس کیا بچتا ہے؟
کیا وہ اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دے سکتا ہے؟
کیا وہ مناسب گھر کا کرایہ ادا کر سکتا ہے؟
کیا وہ صحت کی سہولت حاصل کر سکتا ہے؟
کیا وہ خاندان کے ساتھ سال میں ایک مرتبہ کہیں سفر کر سکتا ہے؟
کیا وہ اپنی ریٹائرمنٹ کے بارے میں خوف کے بغیر سوچ سکتا ہے؟
اور سب سے بنیادی سوال: کیا پوری زندگی کام کرنے کے بعد بھی اسے یہ احساس رہتا ہے کہ وہ اپنی ہی معیشت میں باہر کھڑا شخص ہے؟
اگر جواب مسلسل ’’نہیں‘‘ ہو تو پھر سیاسی ردعمل لازمی ہے
دو امریکہ بنتے جا رہے ہیں؟
ایک امریکہ وہ ہے جس کے پاس اسٹاک، جائیداد، کاروبار، سرمایہ کاری اور مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں میں حصص ہیں،جب بازار اوپر جاتا ہے تو ان کی دولت بھی اوپر جاتی ہے
دوسرا امریکہ وہ ہے جو ہر ہفتے تنخواہ کا انتظار کرتا ہے،اس کی دولت کا سب سے بڑا ذریعہ اس کی محنت ہے،اگر اجرت مہنگائی سے پیچھے رہ جائے تو اس کی حقیقی زندگی مزید مشکل ہو جاتی ہے
یہ فرق صرف بینک اکاؤنٹ کا نہیں،یہ بچوں کے مستقبل کا بھی فرق بن رہا ہے،امیر خاندان اپنے بچوں کو بہتر رہائش، نجی تعلیم، محفوظ ماحول، مہنگی جامعات اور ایسے سماجی روابط دے سکتے ہیں جو اگلی نسل کے معاشی امکانات مزید بڑھاتے ہیں،غریب اور نچلا متوسط طبقہ اکثر صرف اس کوشش میں رہ جاتا ہے کہ وہ اپنے موجودہ معیار زندگی کو برقرار رکھ سکے
یوں معاشی عدم مساوات نسل در نسل منتقل ہونے لگتی ہے
اور یہی وہ مقام ہے جہاں سیاست خطرناک حد تک جذباتی ہو سکتی ہے
تاریخ بتاتی ہے کہ جب کسی معاشرے میں ایک محدود طبقہ مسلسل دولت جمع کرتا جائے اور بڑی آبادی کو محسوس ہو کہ ترقی کے باوجود اس کی زندگی بہتر نہیں ہو رہی تو سیاست صرف پالیسی کا مسئلہ نہیں رہتی، وہ شناخت، غصے اور طبقاتی کشمکش کا مسئلہ بن جاتی ہے
امریکہ ابھی اس مقام پر نہیں پہنچا جہاں یہ کہنا درست ہو کہ سوشلسٹ انقلاب سامنے ہے،ہارورڈ کے اعدادوشمار بھی اس دعوے کی حمایت نہیں کرتے،لیکن یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ پرانا امریکی معاشی اتفاق رائے بالکل سلامت ہے
نوجوانوں کا ایک بڑا حصہ سرمایہ داری پر سوال کر رہا ہے،یونینیں دوبارہ سیاسی بحث میں آ رہی ہیں،مصنوعی ذہانت روزگار کے مستقبل پر سوال اٹھا رہی ہے،رہائش عام خاندان کے لیے مشکل ہو رہی ہے،اور دولت کے بڑے حصے کا ارتکاز اوپر کی طرف بڑھ رہا ہے
یہ سب عوامل مل کر امریکی سیاست کی پرانی لکیر کو دھندلا رہے ہیں
یہاں ایک دلچسپ تضاد سامنے آتا ہے،امریکہ کا قدامت پسند طبقہ تاریخی طور پر خاندان، مذہب، ذاتی ذمہ داری، محنت، صبر اور کفایت شعاری پر زور دیتا رہا ہے،اس سوچ میں یہ تصور مضبوط رہا ہے کہ انسان مشکل حالات میں بھی محنت کرے، اپنے خاندان کو سنبھالے اور اپنی ذمہ داری پوری کرے
لیکن اس فلسفے کی بھی ایک حد ہے
صبر اسی وقت سیاسی طاقت بن سکتا ہے جب انسان کو یہ یقین ہو کہ محنت کا نتیجہ کبھی نہ کبھی اس کی زندگی میں بہتری لائے گا،اگر ایک شخص پوری زندگی کام کرے، اس کے باوجود گھر خریدنا مشکل ہو، بچوں کی تعلیم ناقابل برداشت ہو، صحت کا خرچ اسے قرض میں ڈال دے اور ریٹائرمنٹ غیر یقینی ہو تو صرف ’’صبر کرو‘‘ کا جواب ہمیشہ نہیں چل سکتا
اسی لیے امریکی قدامت پسند سیاست میں بھی معاشی پاپولزم کے امکانات بڑھ رہے ہیں
یہی وجہ ہے کہ مستقبل میں امریکی سیاست شاید صرف ’’بائیں‘‘ اور ’’دائیں‘‘ کے درمیان نہیں لڑی جائے گی،اصل تقسیم ممکن ہے ان لوگوں کے درمیان ہو جو دولت اور سرمایہ کے نظام کو موجودہ شکل میں برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور ان لوگوں کے درمیان جو اس نظام کے اندر دولت کی تقسیم کے نئے اصول چاہتے ہیں
امریکہ کے سامنے اصل انتخاب کیا ہے ؟
امریکہ کو لازماً سرمایہ داری یا سوشلزم میں سے ایک کا انتخاب نہیں کرنا،ایک جدید سرمایہ دارانہ جمہوریت کے اندر بھی ایسے اصول بنائے جا سکتے ہیں جو سرمایہ کار کو منافع کا حق دیں اور مزدور کو اس کی محنت کا باعزت حصہ
مسئلہ یہ نہیں کہ کوئی کاروباری شخص کتنا امیر ہو سکتا ہے،مسئلہ یہ ہے کہ معاشی نظام میں نیچے سے اوپر تک دولت کی روانی کس حد تک قابل قبول ہے
اگر ایک کمپنی اربوں ڈالر کماتی ہے تو اس میں کام کرنے والے شخص کے لیے ایسا اجرتی نظام کیوں نہ ہو جو اسے اپنے خاندان کے ساتھ متوسط معیار کی زندگی گزارنے دے؟
اگر مصنوعی ذہانت اربوں ڈالر کی نئی دولت پیدا کرتی ہے تو اس دولت میں ان کارکنوں کا حصہ کیوں نہ ہو جن کی جگہ وہ ٹیکنالوجی لے رہی ہے؟
اگر پیداوار میں بے مثال اضافہ ہو رہا ہے تو کام کے اوقات کم کیوں نہ ہوں اور زندگی کا معیار بہتر کیوں نہ ہو؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب آنے والی امریکی سیاست دے گی
کیونکہ اگر ریاست نے دولت کی بڑھتی ہوئی عدم مساوات، متوسط طبقے کے سکڑنے، یونینوں کی کمزوری، رہائش کے بحران اور مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والی معاشی بے یقینی کو نظر انداز کیا تو امریکہ میں سیاسی میدان مزید سخت ہو سکتا ہے
پھر بحث صرف یہ نہیں ہوگی کہ حکومت کتنی بڑی ہونی چاہیے
بحث یہ ہوگی کہ امریکی معیشت کس کے لیے کام کرتی ہے؟
اور اگر ایک بڑی تعداد یہ محسوس کرنے لگے کہ معیشت چند ہزار یا چند لاکھ انتہائی دولت مند افراد کے لیے کام کر رہی ہے جبکہ کروڑوں لوگ صرف زندہ رہنے کے لیے کام کر رہے ہیں تو سوشلزم کا نام لیے بغیر بھی سرمایہ داری کے خلاف سیاسی مزاحمت پیدا ہو سکتی ہے
امریکہ کی اگلی بڑی سیاسی لڑائی شاید اسی سوال پر ہو گی
سرمایہ داری ختم ہوگی یا نہیں، یہ آج کوئی نہیں بتا سکتا
لیکن سرمایہ داری کو انسانی زندگی کے لیے قابلِ قبول رکھنے کے اصول ضرور طے کرنا ہوں گے
مالک کو منافع ملے، سرمایہ کار کو دولت ملے، نئی ٹیکنالوجی پیدا ہو، مصنوعی ذہانت ترقی کرے، لیکن مزدور کو بھی اتنا ضرور ملے کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دے سکے، گھر چلا سکے، مناسب خوراک اور لباس فراہم کر سکے، بیماری میں علاج کرا سکے، کچھ بچت کر سکے اور زندگی میں کبھی کبھار سفر اور خوشی کے لیے بھی کچھ رقم نکال سکے
کیونکہ اگر ایک طرف دولت مند طبقہ اپنے بچوں کے لیے الگ اسکول، الگ محلے، الگ صحت کی سہولت اور الگ دنیا بناتا چلا جائے اور دوسری طرف محنت کرنے والا طبقہ صرف بقا کی جنگ لڑتا رہے تو پھر مسئلہ صرف غربت نہیں رہتا
وہ ایک معاشرتی اور سیاسی اکھاڑا بن جاتا ہے
اور تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ جب دولت کی تقسیم انتہائی غیر مساوی ہو جائے اور لوگوں کو یہ یقین ہونے لگے کہ ان کے بچوں کا مستقبل ان کے والدین سے بہتر نہیں بلکہ بدتر ہوگا، تو معاشرے صرف معاشی طور پر نہیں بدلتے، ان کی سیاست بھی بدل جاتی ہے
آج امریکہ اسی موڑ کے قریب کھڑا دکھائی دیتا ہے





