پاکستان کی سفارتی کامیابیاں عالمی سطح پر نمایاں، اب اندرونی مسائل حل کرنے کی ضرورت

پاکستان کی سفارتی کامیابیاں عالمی سطح پر نمایاں، اب اندرونی مسائل حل کرنے کی ضرورت

اسلام آباد: پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے کردار کو حالیہ عرصے میں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ خطے میں مختلف فریقوں کو قریب لانے، امن کے لیے کوششیں کرنے اور اہم علاقائی اتحادوں میں نمایاں ذمہ داریاں حاصل کرنے کے باعث پاکستان کی سفارتی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے
وزیراعظم شہباز شریف نے حال ہی میں کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس میں شرکت کی، جہاں انہوں نے روس اور چین سمیت یوریشیائی خطے کے اہم رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہی سنبھال لی ہے اور آئندہ سربراہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوگا
اس سے قبل استنبول میں مکہ دفاعی اتحاد کا پہلا باقاعدہ اجلاس بھی منعقد ہوا، جہاں پاکستان کو اس اتحاد کے سیکریٹریٹ کی سربراہی کی ذمہ داری سونپی گئی یہ پیش رفت پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گزشتہ سال ہونے والے دفاعی معاہدے کے بعد سامنے آئی ہے اور اسے پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت کی علامت قرار دیا جا رہا ہے
پاکستان کی ایک اہم سفارتی کامیابی امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا بھی قرار دی جا رہی ہے۔ رواں سال اپریل میں اسلام آباد میں دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے اگرچہ بعد میں امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ کشیدگی اور تشدد میں اضافہ ہوا، تاہم سفارتی سطح پر اسلام آباد میں ہونے والی مفاہمتی کوششوں کو اب بھی امن کی جانب اہم راستہ سمجھا جا رہا ہے
پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کے باوجود اندرونی چیلنجز بدستور سنگین ہیں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے دو بڑے مسائل موجود ہیں، جبکہ معاشی صورتحال میں پہلے کی نسبت استحکام آنے کے باوجود پائیدار معاشی ترقی ابھی ایک بڑا چیلنج ہے
سیاسی عدم استحکام بھی ملک کی ترقی کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ قرار دیا گیا ہے تمام سیاسی قوتوں کو سیاسی عمل میں مناسب جگہ اور کردار دیے بغیر دیرپا استحکام حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ وزیراعظم نے بشکیک میں علاقائی رابطوں اور خطے کے ممالک کے درمیان تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا تھا، تاہم موجودہ علاقائی کشیدگی اس مقصد کے حصول کو مشکل بنا رہی ہے
پاکستان کے مشرق میں بھارت اور مغرب میں طالبان کے زیر اقتدار افغانستان کے ساتھ تعلقات، جبکہ ایران اور خلیج میں جاری کشیدگی بھی علاقائی رابطوں کے لیے پیچیدہ صورتحال پیدا کر رہی ہے پاکستان بھارت اور افغانستان کے ساتھ دوبارہ دوستی اور تعاون کا ہاتھ بڑھا سکتا ہے، تاہم اس سلسلے میں دوسرے فریقوں کا ردعمل بھی اہم ہوگا
رپورٹ کے مطابق پاکستان اپنی حالیہ سفارتی کامیابیوں سے مکمل فائدہ اسی وقت اٹھا سکتا ہے جب ملک کے اندر امن، معاشی استحکام، بہتر معاشی پالیسی اور سیاسی مفاہمت کو یقینی بنایا جائے عالمی سطح پر بہتر ہونے والی ساکھ کو پائیدار ترقی میں تبدیل کرنے کے لیے اندرونی مسائل کا حل بنیادی اہمیت رکھتا ہے

قومی خبریں سے مزید