کینیڈا کے خلاف ٹرمپ کی تجارتی جنگ پر ریپبلکنز متحد، مگر نومبر کے انتخابات کا خوف بڑھنے لگا

کینیڈا کے خلاف ٹرمپ کی تجارتی جنگ پر ریپبلکنز متحد، مگر نومبر کے انتخابات کا خوف بڑھنے لگا

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا کے خلاف تجارتی دباؤ اور ٹیرف پالیسی کے معاملے پر ریپبلکن ارکانِ کانگریس کی بڑی تعداد صدر کے ساتھ کھڑی نظر آ رہی ہے، تاہم پارٹی کے اندر بعض ارکان کو خدشہ ہے کہ طویل تجارتی جنگ آئندہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ان کے لیے سیاسی مشکلات پیدا کر سکتی ہے
بدھ کے روز امریکی ایوانِ نمائندگان کے درجنوں ریپبلکن ارکان نے کیپیٹل ہِل میں ایک بند کمرے کے اجلاس میں شرکت کی، جہاں انہوں نے ٹرمپ کے ٹیرف پالیسی کے اہم ذمہ دار امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر سے ملاقات کی
متعدد ریپبلکن ارکان نے صدر ٹرمپ کی تجارتی حکمتِ عملی کی حمایت کی اور کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کی حکومت کو مذاکرات سے پیچھے ہٹنے کا ذمہ دار قرار دیا
تاہم پسِ پردہ کچھ ریپبلکن ارکان کو یہ تشویش بھی لاحق ہے کہ کینیڈا کے ساتھ تجارتی کشیدگی مزید بڑھنے سے امریکی کاروبار، صارفین اور خاص طور پر کینیڈا سے ملحقہ ریاستوں کی معیشت متاثر ہو سکتی ہے
تجارتی جنگ کا معاملہ ریپبلکن امیدواروں کے لیے اس وقت مزید اہم ہو گیا ہے کیونکہ نومبر میں امریکی Midterm Elections ہونے جا رہے ہیں۔ کینیڈا کے ساتھ تجارت پر انحصار کرنے والی سرحدی ریاستوں میں ٹیرف کے اثرات پہلے ہی کاروباری حلقوں اور مقامی معیشت کے لیے تشویش کا باعث بن رہے ہیں
اگر ٹیرف کے نتیجے میں درآمدی اشیاء مہنگی ہوتی ہیں، کاروباری لاگت بڑھتی ہے یا کینیڈا کے ساتھ تجارت کم ہوتی ہے تو مقامی ووٹرز اس کا ذمہ دار ریپبلکن حکومت اور صدر ٹرمپ کو قرار دے سکتے ہیں
اسی وجہ سے بعض ریپبلکن امیدواروں کے لیے صورتحال مشکل ہو سکتی ہے: ایک طرف انہیں ٹرمپ کی تجارتی پالیسی کی حمایت کرنا سیاسی طور پر ضروری ہے، جبکہ دوسری طرف اسی پالیسی کے معاشی اثرات ان کے اپنے حلقوں میں ووٹروں کو ناراض کر سکتے ہیں
کینیڈا-امریکا تجارتی تنازع صرف اقتصادی مسئلہ نہیں رہے گا بلکہ امریکی سیاست، خصوصاً نومبر کے وسط مدتی انتخابات، میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید