امریکا میں دھوکا دہی کے واقعات ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے، متاثرین کو مدد نہ ملنے کے باعث بعض مزید رقم بھی گنوا بیٹھتے ہیں

امریکا میں دھوکا دہی کے واقعات ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے، متاثرین کو مدد نہ ملنے کے باعث بعض مزید رقم بھی گنوا بیٹھتے ہیں

امریکا میں آن لائن اور مالیاتی دھوکا دہی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور متاثرین کی ایک بڑی تعداد نہ صرف اپنی جمع پونجی سے محروم ہو رہی ہے بلکہ جرم کی اطلاع دینے کے باوجود مؤثر مدد حاصل کرنے میں بھی ناکام رہتی ہے
ایسے ہی ایک واقعے میں سائمن نامی شخص کی 43 سالہ ازدواجی زندگی اس وقت ختم ہوگئی جب اس کی اہلیہ انتقال کر گئیں،شدید تنہائی اور غم کے دوران سائمن نے آن لائن کسی ساتھی کی تلاش شروع کی، جہاں اس کی ملاقات ’’ایملی‘‘ نامی خاتون سے ہوئی
چند ماہ بعد سائمن کو معلوم ہوا کہ ایملی دراصل ایک جعلی شناخت استعمال کرنے والی دھوکا باز تھی،اس دوران وہ سائمن سے تقریباً 800,000 ڈالر ہتھیا چکی تھی
مسئلہ یہیں ختم نہیں ہوا،سائمن نے دھوکا دہی کے دوران جو رقم ادھار لی تھی، اس میں سے تقریباً 185,000 ڈالر واپس کرنے کی ذمہ داری بھی اس پر عائد ہوگئی، جبکہ ضائع ہونے والی رقم سے متعلق مزید دسیوں ہزار ڈالر کے ٹیکس کا بوجھ بھی اس کے سر آگیا
سائمن کے مطابق اس نے مقامی پولیس اور وفاقی تفتیشی ادارے کو بھی واقعے کی اطلاع دی، لیکن کوئی قابل ذکر پیش رفت نہ ہوسکی،اس کے بعد ایک اور شخص نے اس سے رابطہ کیا اور دعویٰ کیا کہ وہ امریکی خفیہ ادارے کے ذریعے اس کی رقم واپس دلوا سکتا ہے، لیکن اس کے لیے مزید رقم طلب کی گئی
یہ واقعہ اس خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے جس میں پہلے سے دھوکا کھانے والے افراد کو دوبارہ نشانہ بنایا جاتا ہے،مجرم خود کو قانون نافذ کرنے والے اداروں، وکیلوں یا رقم واپس دلانے والے ماہرین کے طور پر پیش کرتے ہیں اور متاثرین سے مزید رقم وصول کرتے ہیں
امریکا میں بڑھتی ہوئی دھوکا دہی کا ایک سنگین پہلو یہ بھی ہے کہ متاثرین کے لیے رقم واپس حاصل کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے،نتیجتاً بعض افراد پہلی بار ہونے والے نقصان کے بعد دوسری مرتبہ بھی اسی جال میں پھنس جاتے ہیں اور ان کا مالی نقصان مزید بڑھ جاتا ہے

قومی خبریں سے مزید