ڈگری کی گرمی، مہنگی بجلی اور طویل لوڈشیڈنگ، پاکستان کا توانائی بحران اب صرف بجلی کا نہیں، زندگی کا بحران بن چکا ہے
اسلام آباد: کراچی میں کے الیکٹرک کی طویل لوڈشیڈنگ پر نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کا تازہ حکم بظاہر ایک مخصوص کمپنی اور اس کے صارفین سے متعلق معاملہ ہے، لیکن اس کے اعداد و شمار پاکستان کے اس وسیع تر بحران کی تصویر پیش کرتے ہیں جس میں ملک کے مختلف شہروں اور دیہی علاقوں کے لاکھوں خاندان مہنگی بجلی، طویل بندش، کم آمدنی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے درمیان زندگی گزارنے پر مجبور ہیں
نیپرا نے کے الیکٹرک کے 620 فیڈرز کا جائزہ لیا جو تقریباً 2.37 ملین صارفین کو بجلی فراہم کرتے ہیں،انتہائی زیادہ نقصانات والے فیڈرز سے وابستہ تقریباً 1.18 ملین صارفین کو اوسطاً روزانہ 12 گھنٹے 14 منٹ بجلی کی بندش کا سامنا رہا، جبکہ بعض فیڈرز پر یہ دورانیہ تقریباً 15 گھنٹے تک پہنچ گیا،نیپرا نے کے الیکٹرک کو غیر اعلانیہ اور مقررہ حد سے زیادہ لوڈشیڈنگ ختم کرنے اور بجلی چوری یا عدم ادائیگی کی سزا پورے علاقے کے صارفین کو دینے کے بجائے انفرادی کنکشن کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے
لیکن 11 لاکھ 80 ہزار صارفین دراصل اس بحران کا صرف ایک عدد ہیں،اصل مسئلہ اس سے کہیں بڑا ہے،کراچی سے اندرون سندھ، لاہور سے جنوبی پنجاب، خیبر پختونخوا سے بلوچستان اور ملک کے چھوٹے بڑے شہروں تک بجلی کی قیمت، لوڈشیڈنگ اور بنیادی سہولتوں کا بحران عام شہری کی زندگی کا مستقل حصہ بن چکا ہے
یہ بحران اس وقت مزید سنگین ہوجاتا ہے جب درجہ حرارت 48یا 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچتا ہے اور شدید حبس کے باعث محسوس ہونے والی گرمی اس سے بھی زیادہ ہوجاتی ہے،ایسے موسم میں کئی گھنٹے بجلی کے بغیر رہنا صرف پنکھا یا اے سی بند ہونے کا مسئلہ نہیں،یہ نیند، صحت، کام، تعلیم اور گھر کے معمولات کو متاثر کرتا ہے،مزدور کے لیے روزگار متاثر ہوتا ہے، دکاندار کے لیے کاروبار، طالب علم کے لیے تعلیم اور بیمار یا عمر رسیدہ افراد کے لیے جسمانی برداشت کا سوال پیدا ہوجاتا ہے
اس بحران کی سب سے تلخ حقیقت یہ ہے کہ بجلی کا بل اب لاکھوں خاندانوں کے لیے بنیادی اخراجات میں سب سے بڑا بوجھ بنتا جارہا ہے،اگر کسی گھر کی ماہانہ آمدنی 30,000 یا 32,000 روپے ہو اور بجلی کا بل 10,000 یا 15,000 روپے آجائے تو آمدنی کا ایک بڑا حصہ صرف بجلی کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے،اس کے بعد گھر کا کرایہ، بچوں کی تعلیم، خوراک، علاج، سفر اور دیگر ضروری اخراجات باقی آمدنی کو ختم کردیتے ہیں
اور اگر اسی گھر میں 2 یا 3 بچے ہوں تو والدین کے سامنے انتخاب آجاتا ہے کہ بجلی کا بل ادا کریں، بچوں کی فیس دیں، راشن خریدیں یا مکان کا کرایہ ادا کریں،یہ محض بجلی کا بحران نہیں، یہ گھریلو معیشت کے ٹوٹنے کا بحران ہے
سب سے زیادہ سوال اس نظام پر اٹھتا ہے جس میں صارف سے بجلی کی قیمت مسلسل بڑھا کر وصول کی جاتی ہے، مگر اسے قابل اعتماد بجلی فراہم نہیں کی جاتی،بجلی چوری اور لائن لاسز کا مسئلہ اپنی جگہ موجود ہے اور اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، لیکن اس کا بوجھ ان صارفین پر منتقل کرنا جو اپنے بل ادا کرتے ہیں، مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسئلے کو مزید پیچیدہ کرنے کا راستہ ہے
پاکستان کا بجلی کا بحران صرف تقسیم کار کمپنیوں کا مسئلہ بھی نہیں،اس کے پیچھے بجلی کی پیداوار، خریداری کے معاہدے، ترسیلی نظام، تقسیمی نقصانات، گردشی قرضے، بجلی چوری، کمزور وصولیاں اور توانائی کے شعبے کی طویل المدت پالیسیوں کی ناکامیاں موجود ہیں،حکومتیں وقتاً فوقتاً قیمتیں بڑھاتی، سبسڈی دیتی، جرمانے عائد کرتی اور نئے منصوبے بناتی رہی ہیں، لیکن عام شہری کا بنیادی سوال آج بھی وہی ہے: اگر بجلی اتنی مہنگی ہے تو پھر آتی کیوں نہیں؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ توانائی کا بحران معاشرے کے دوسرے بحرانوں کو بھی بڑھاتا ہے،شدید گرمی میں بجلی کی طویل بندش سے شہریوں میں ذہنی دباؤ اور بے چینی بڑھتی ہے،کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں، گھریلو اخراجات بڑھتے ہیں اور غربت کا دباؤ مزید گہرا ہوتا ہے،جب ایک شہری مسلسل مہنگائی، بے روزگاری، بجلی کے بھاری بل اور بنیادی سہولتوں کی کمی کا سامنا کرے تو ریاستی اداروں پر اس کا اعتماد بھی کمزور پڑ سکتا ہے
اسی لیے نیپرا کا تازہ حکم محض کے الیکٹرک کے خلاف ایک ریگولیٹری کارروائی سمجھنا مسئلے کی سنگینی کو کم کردے گا،یہ حکم دراصل ایک ایسے نظام کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں ریاست کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ بجلی کو صرف ایک تجارتی شے کے طور پر دیکھا جائے یا اسے شہریوں کی بنیادی ضرورت اور معاشی بقا کے مسئلے کے طور پر بھی سمجھا جائے؟
کراچی کے 11 لاکھ 80 ہزار متاثرہ صارفین اس بڑے بحران کی صرف ایک جھلک ہیں،اصل تصویر اس سے کہیں وسیع ہے،پاکستان میں کروڑوں لوگ ایسے ہیں جو مہنگی بجلی کے بل، شدید گرمی، کم آمدنی اور مسلسل بڑھتے ہوئے گھریلو اخراجات کے درمیان اپنے خاندان چلا رہے ہیں
اگر ریاست صرف یہ پوچھتی رہے کہ بجلی چوری کہاں ہورہی ہے، بل کون نہیں دے رہا اور کس فیڈر کے نقصانات کتنے ہیں، مگر یہ نہ پوچھے کہ عام شہری کی آمدنی کے مقابلے میں بجلی کا بل کتنا رہ گیا ہے، تو بحران کا بنیادی پہلو نظر انداز ہوجاتا ہے
پاکستان کو صرف مزید بجلی پیدا کرنے کی نہیں بلکہ ایسا توانائی نظام بنانے کی ضرورت ہے جو قابل اعتماد، شفاف، مالی طور پر پائیدار اور عام شہری کے لیے قابل برداشت ہو،ورنہ ہر گرمی کے موسم میں نئے اعداد و شمار سامنے آئیں گے، نئی لوڈشیڈنگ کا شیڈول بنے گا، نئے احکامات جاری ہوں گے اور کروڑوں پاکستانی پھر اسی سوال کے ساتھ پنکھے کے نیچے بیٹھے رہیں گے کہ جس بجلی کی قیمت وہ ادا نہیں کرپاتے، وہ بجلی انہیں ملتی بھی کیوں نہیں





