Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

نئی صوبائی اکائیاں سیاسی اعلانات سے نہیں آئینی عمل سے بنیں گی، ہاکی ٹیم نہیں جب چاہا نئی بنالی ، پارلیمنٹ میں آکر بات کریں ، پیپلز پارٹی

نئی صوبائی اکائیاں سیاسی اعلانات سے نہیں آئینی عمل سے بنیں گی، ہاکی ٹیم نہیں جب چاہا نئی بنالی ، پارلیمنٹ میں آکر بات کریں ، پیپلز پارٹی

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسے سیاسی بیانات اور اعلانات تک محدود رکھنے کے بجائے وفاقی کابینہ اور پارلیمان کے سامنے پیش کیا جائے اور تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے
پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے سیکریٹری جنرل نیر حسین بخاری نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کا فیصلہ منتخب نمائندوں کو کرنا چاہیے اور ایسے حساس قومی معاملے پر غیر ذمہ دارانہ بیانات اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ملک میں مزید تقسیم پیدا کرسکتی ہے،ان کے مطابق مضبوط وفاق اور مضبوط صوبائی اکائیوں کے لیے وسیع سیاسی اتفاق رائے اور ایک متفقہ لائحۂ عمل ضروری ہے
نیر بخاری نے کہا کہ اگر حکومت واقعی نئے صوبوں کے قیام میں سنجیدہ ہے تو وزرا کو اس معاملے کو وفاقی کابینہ میں لے جانے کی جرات کرنی چاہیے،وزیراعظم پہلے کابینہ سے باضابطہ منظوری لیں اور اس کے بعد آئین اور پارلیمان میں مقررہ طریقۂ کار کے تحت کارروائی آگے بڑھائیں
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں نئے صوبے محض کسی حکومتی اعلان یا سیاسی بیان کے ذریعے نہیں بن سکتے بلکہ اس کے لیے آئینی ترمیم اور پارلیمانی عمل ضروری ہے،ان کا کہنا تھا کہ حکومت میں شامل جو وزرا نئے صوبوں کی بات کررہے ہیں انہیں یہ معاملہ پارلیمان میں بھی اٹھانا چاہیے
پیپلز پارٹی رہنما نے اس بحث کا ایک اہم مالی اور سیاسی پہلو بھی اجاگر کیا،ان کے مطابق اگر نئے صوبے بنتے ہیں تو یہ واضح ہونا چاہیے کہ قومی مالیاتی کمیشن کے تحت وسائل کی تقسیم کس طرح کی جائے گی اور سینیٹ اور قومی اسمبلی میں نئی صوبائی اکائیوں کی نمائندگی اور ارکان کی تعداد کیسے متعین ہوگی
نیر بخاری نے کہا کہ نئے صوبوں کا قیام کوئی معمولی انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ قومی اور آئینی معاملہ ہے،انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’یہ ہاکی کا میچ نہیں کہ جب چاہا نئی ٹیم بنا لی”ان کے مطابق ایسے معاملات آئین، پارلیمان اور قومی اتفاق رائے کے ذریعے حل ہونے چاہئیں، نہ کہ سیاسی مفاد یا پوائنٹ اسکورنگ کے ذریعے
انہوں نے پنجاب اسمبلی کی جانب سے جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے حق میں منظور کی گئی قرارداد کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ پنجاب سے منتخب قومی اسمبلی کے ارکان اور صوبائی وزرا کو اس قرارداد پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں
پیپلز پارٹی نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ باضابطہ مشاورت کریں تاکہ نئے صوبوں کے معاملے پر وسیع قومی اتفاق رائے پیدا کیا جاسکے
پارٹی کے اس مؤقف سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ وہ نئے صوبوں کے تصور کی اصولی مخالفت نہیں کررہی بلکہ اس کے لیے آئینی طریقۂ کار، متعلقہ علاقوں کے عوام کی رائے اور سیاسی اتفاق رائے کو بنیادی شرط قرار دے رہی ہے،پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی پہلے کہہ چکے ہیں کہ جنوبی پنجاب سمیت کسی نئے صوبے کا فیصلہ متعلقہ عوام کی خواہش اور آئینی و پارلیمانی عمل کے ذریعے ہونا چاہیں

قومی خبریں سے مزید